LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آڈیو لیک کا معاملہ؛ شوکت نواز میر اور مہران ارشد کے خلاف بغاوت اور ریاست مخالف سرگرمیوں پر مقدمات قائم، کالعدم جے اے اے سی (JAAC) کے 4 مطلوب ارکان کے لیے ایک کروڑ روپے انعام مقرر؛ کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں: حافظ نعیم الرحمان سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس طلب، وفاقی بجٹ 12 جون کو پیش کئے جانے کا امکان وزیراعظم کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا عمل تیز کرنے کی ہدایت فلپائن: تباہ کن زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 41 ہو گئی، ہزاروں افراد بے گھر امریکی صدر کی سنجیدگی نظر آئی تو مذاکرات پر اعتراض نہیں: ابراہیم عزیزی پنجاب حکومت کا پاسکو سے ایک ملین میٹرک ٹن گندم خریدنے کا فیصلہ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے آغاز پر زبردست تیزی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے لبنانی آرمی چیف کی ملاقات، عسکری تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق ٹرمپ کی ایک لاکھ ڈالر H-1B ویزا فیس غیر قانونی ہے، امریکی جج کا فیصلہ اسرائیل کے جنوبی لبنان میں حملے، مزید 5 افراد شہید، کئی زخمی پاکستان نے افغانستان سے دہشتگردوں کے حملے عالمی امن کیلئے خطرہ قرار دیدیئے ایران کے خلاف کشیدگی بڑھائی تو اسرائیل خود کو تنہا پائے گا: ٹرمپ کا نیتن یاہو کو پیغام گلگت بلتستان انتخابات: پیپلز پارٹی 10، آزاد امیدوار 7 اور ن لیگ 4 نشستوں پر کامیاب

ماہرین نے روئی سے کان صاف کرنے والوں کو خبردار کر دیا

Web Desk

13 November 2025

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ یہ عادت مختلف پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہے اور  بہت سے افراد اس بات سے لاعلم ہیں۔

ماہرین صحت کے مطابق جب کانوں کو صاف کرنے کے لیے ائیربڈز یا روئی کو کان میں ڈالا جاتا تو وہ ایئر ویکس (کانوں میں موجود میل یا جالے) کو نکالنے کے بجائے اسے مزید گہرائی میں دھکیل دیتی ہے جس کی وجہ سے کان میں درد، انفیکشن یا پھر کان کا پردہ پھٹ بھی سکتا ہے۔ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ  70 فیصد سے زیادہ کان کی تکالیف ائیربڈز یا روئی ڈال کر کان صاف کرنے کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ماہرین صحت کے مطابق کانوں کو صاف رکھنے کے لیے کانوں میں قدرتی طور پر بھی ائیر ویکس موجود ہے جو کانوں کی حفاظت کرتا ہے اس کی موجودگی کی وجہ سے دھول مٹی اور بیکٹیریاز قدرتی طور پر خود بخود کان سے باہر نکل جاتے ہیں۔ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگر کسی کو لگتا ہے کہ اس کے کان میں ضرورت سے زیادہ ایئر ویکس موجود ہے اور اسے سننے میں دشواری یا کان میں درد جیسی کسی علامات کا سامنا ہے تو سب سے حل یہ ہے کہ کسی اچھے ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے