LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نہال ہاشمی نے گورنر سندھ کے عہدے کا حلف اٹھا لیا تہران میں زور دار دھماکا، القدس ریلی کے شرکاء بے خوف آگے بڑھتے رہے پیٹرولیم ڈیلرز کی حکومت کو 26 مارچ تک ڈیڈ لائن، مطالبات نہ مانے گئے تو ملک بھر میں پمپ بند کرنے کی دھمکی ایران کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، روس فیلڈ مارشل کی جنگی لباس میں سعودی ولی عہد سے ملاقات غیر معمولی اہمیت کی حامل قرار لکی مروت میں دھماکا، ایس ایچ او سمیت 6 پولیس اہلکار شہید اسرائیل پر تازہ میزائل حملوں میں درجنوں افراد زخمی، متاثرہ علاقوں میں شہریوں کو انخلا کی ہدایت پنجاب میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے: عظمیٰ بخاری جمعة الوداع کے اجتماعات، یوم القدس کی ریلیاں، سکیورٹی ہائی الرٹ ایران کے اسرائیل پر نئے میزائل و ڈرون حملے، خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے بڑھ گئیں مشرقِ وسطیٰ کیلئے پاکستان سے پروازوں کا آپریشن بتدریج بحال مشرق وسطیٰ میں کشیدگی فوری ختم کی جائے، پاکستان کا سلامتی کونسل میں مطالبہ سعودی عرب نے شیبہ آئل فیلڈ کی جانب آنے والا ڈرون تباہ کر دیا امریکی ایندھن بردار طیارہ عراق میں گر کر تباہ، 6 افراد سوار تھے

ماہرین نے روئی سے کان صاف کرنے والوں کو خبردار کر دیا

Web Desk

13 November 2025

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ یہ عادت مختلف پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہے اور  بہت سے افراد اس بات سے لاعلم ہیں۔

ماہرین صحت کے مطابق جب کانوں کو صاف کرنے کے لیے ائیربڈز یا روئی کو کان میں ڈالا جاتا تو وہ ایئر ویکس (کانوں میں موجود میل یا جالے) کو نکالنے کے بجائے اسے مزید گہرائی میں دھکیل دیتی ہے جس کی وجہ سے کان میں درد، انفیکشن یا پھر کان کا پردہ پھٹ بھی سکتا ہے۔ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ  70 فیصد سے زیادہ کان کی تکالیف ائیربڈز یا روئی ڈال کر کان صاف کرنے کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ماہرین صحت کے مطابق کانوں کو صاف رکھنے کے لیے کانوں میں قدرتی طور پر بھی ائیر ویکس موجود ہے جو کانوں کی حفاظت کرتا ہے اس کی موجودگی کی وجہ سے دھول مٹی اور بیکٹیریاز قدرتی طور پر خود بخود کان سے باہر نکل جاتے ہیں۔ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگر کسی کو لگتا ہے کہ اس کے کان میں ضرورت سے زیادہ ایئر ویکس موجود ہے اور اسے سننے میں دشواری یا کان میں درد جیسی کسی علامات کا سامنا ہے تو سب سے حل یہ ہے کہ کسی اچھے ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے