LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
یو اے ای میں ‘ویزا آن ارائیول’ کی شرائط تبدیل، کیا اب آپ اہل ہیں؟ انسانی سمگلنگ کیخلاف 59 ممالک میں عالمی کریک ڈاؤن، ایک ہزار سے زائد ملزم گرفتار اسرائیل کا امریکا سے ترکیہ کو ایف 35 جنگی طیارے اور پرزے فروخت نہ کرنے کا مطالبہ دہشتگردی کا مقابلہ جاری، ریاست کی رٹ ہر صورت قائم ہوگی: سرفراز بگٹی این ڈی ایم اے کا دریاؤں میں طغیانی اور مقامی سیلاب کا الرٹ جاری امریکہ میں شدید بارشوں کی تباہ کاری، نیو جرسی میں ہول سیل اسٹور کی چھت گر گئی، نیویارک سمیت کئی علاقوں میں طوفانی سیلاب کی وارننگ نیویارک میں ملازمین کے حقوق کی پامالی پر والگرینز سمیت 4 کمپنیوں کو 21 لاکھ ڈالر جرمانہ؛ 1600 سے زائد ورکرز کو ہرجانہ ملے گا ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں، معاہدہ ترجیح ہے: ٹرمپ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ہر ضروری اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے: فیلڈ مارشل صدرمملکت کرغزستان پہنچ گئے، ایئر پورٹ پر گارڈ آف آنرز پیش ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا: ٹرمپ کا ایک بار پھر دعویٰ اسحاق ڈار کی یو این سیکرٹری جنرل عہدے کی امیدوار سے ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال جنگ بندی کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، 6 فلسطینی شہید سندھ طاس معاہدے پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، جنگ لڑنا پڑی تو لڑیں گے: بلاول بھٹو اسرائیلی وزیرِ دفاع کی ایرانی قیادت ختم کرنے کی دھمکی

سانس لینے میں دشواری، چھٹی مانگنے پر باس نے ملازم کو کیا کہا؟

Web Desk

28 December 2025

بھارت میں ایک سوشل میڈیا صارف نے کام کی جگہ پر غیر انسانی رویے سے متعلق واقعہ بیان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ شدید صحت کے مسائل کے باوجود اس کی باس نے چھٹی یا کسی بھی قسم کا ریلیف دینے سے انکار کر دیا۔

صارف کے مطابق دفاتر میں بیماری کی بنیاد پر چھٹی لینا ایک معمول کی بات سمجھی جاتی ہے، خاص طور پر جب مسئلہ سنگین ہو، تاہم اسے سانس لینے میں شدید دشواری کا سامنا تھا، اس کے باوجود کام کی ڈیڈ لائن کو ترجیح دی گئی۔

متاثرہ صارف نے بتایا کہ وہ سانس نہیں لے پا رہا تھا اور دفتر بند ہونے میں صرف پانچ منٹ باقی تھے، اسی دوران ایک ساتھی آیا اور کہا کہ ڈیڈ لائن مکمل کرنا ضروری ہے۔ صارف کا کہنا تھا کہ اس نے کولیگ کو اپنی حالت سے آگاہ کرتے ہوئے ڈاکٹر کے پاس جانے کی ضرورت پر زور دیا، مگر اس کی بات نظر انداز کر دی گئی اور اسے باس سے بات کرنے کا کہا گیا۔

صارف کے مطابق جب اس نے باس کو اپنی حالت بتائی تو جواب ملا کہ وقت کم ہے، کچھ دیر آرام کرو اور کام اگلی صبح مکمل کر لینا۔

واقعے پر ردِعمل دیتے ہوئے صارف نے کہا کہ بعض اوقات باسز یہ بھول جاتے ہیں کہ دفتر میں کام کرنے والے لوگ بھی انسان ہوتے ہیں، مشینیں نہیں۔ سوشل میڈیا پر اس واقعے کے بعد کام کی جگہ پر ذہنی دباؤ اور ملازمین کی صحت سے متعلق رویوں پر بحث شروع ہو گئی ہے۔