LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سیرتِ محمدیؐ کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنانا ہو گا، مریم نواز وزیراعظم کا پمز ہسپتال آتشزدگی کا نوٹس، واقعہ کی فوری تحقیقات کا حکم ملک بھر میں عید میلاد النبیﷺ مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منائی جا رہی ہے پنجاب اور شن جیانگ میں زراعت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق اسلام آباد کے پمز ہسپتال کے نرسری وارڈ میں آتشزدگی، 14 نومولود جاں بحق خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پوری انسانیت کیلیے رحمت بن کر تشریف لائے، محسن نقوی حضور نبی اکرم ﷺ کی آمد انسانیت کیلئے ہدایت کا ذریعہ ہے، گورنر پنجاب سیرت النبیﷺ پوری انسانیت کیلئے رحمت، عدل، امن کی ابدی روشنی ہے: بلاول بھٹو نیواڈا کا دریائے کولوراڈو کے پانی میں کٹوتی کے منصوبے کیخلاف ٹرمپ انتظامیہ پر مقدمہ دائر انڈونیشیا، ملائیشیا اور سنگاپور کا آبنائے ملاکا کو محفوظ اور کھلا رکھنے کے عزم کا اعادہ جنوبی سوڈان میں 2 امن فوجیوں کی ہلاکت، اقوام متحدہ کی شدید مذمت چین کا امریکا سے خود مختار ریاستوں میں آزادانہ انتخابات میں مداخلت بند کرنے کا مطالبہ ہیٹی میں گینگ کے حملے میں 40 افراد ہلاک، درجنوں گھر نذر آتش امریکی فوج کا بلیک ہاک ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار، 4 اہلکار محفوظ امریکا نے ایران پر حملوں کو پابندیوں میں منتقل کر دیا، مارکو روبیو

سانس لینے میں دشواری، چھٹی مانگنے پر باس نے ملازم کو کیا کہا؟

Web Desk

28 December 2025

بھارت میں ایک سوشل میڈیا صارف نے کام کی جگہ پر غیر انسانی رویے سے متعلق واقعہ بیان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ شدید صحت کے مسائل کے باوجود اس کی باس نے چھٹی یا کسی بھی قسم کا ریلیف دینے سے انکار کر دیا۔

صارف کے مطابق دفاتر میں بیماری کی بنیاد پر چھٹی لینا ایک معمول کی بات سمجھی جاتی ہے، خاص طور پر جب مسئلہ سنگین ہو، تاہم اسے سانس لینے میں شدید دشواری کا سامنا تھا، اس کے باوجود کام کی ڈیڈ لائن کو ترجیح دی گئی۔

متاثرہ صارف نے بتایا کہ وہ سانس نہیں لے پا رہا تھا اور دفتر بند ہونے میں صرف پانچ منٹ باقی تھے، اسی دوران ایک ساتھی آیا اور کہا کہ ڈیڈ لائن مکمل کرنا ضروری ہے۔ صارف کا کہنا تھا کہ اس نے کولیگ کو اپنی حالت سے آگاہ کرتے ہوئے ڈاکٹر کے پاس جانے کی ضرورت پر زور دیا، مگر اس کی بات نظر انداز کر دی گئی اور اسے باس سے بات کرنے کا کہا گیا۔

صارف کے مطابق جب اس نے باس کو اپنی حالت بتائی تو جواب ملا کہ وقت کم ہے، کچھ دیر آرام کرو اور کام اگلی صبح مکمل کر لینا۔

واقعے پر ردِعمل دیتے ہوئے صارف نے کہا کہ بعض اوقات باسز یہ بھول جاتے ہیں کہ دفتر میں کام کرنے والے لوگ بھی انسان ہوتے ہیں، مشینیں نہیں۔ سوشل میڈیا پر اس واقعے کے بعد کام کی جگہ پر ذہنی دباؤ اور ملازمین کی صحت سے متعلق رویوں پر بحث شروع ہو گئی ہے۔