LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کی ناکہ بندی کے دوران 44 تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا گیا: امریکی فوج ایران کی امریکا کو بحری ناکہ بندی پر سخت نتائج کی وارننگ لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا ساتواں دور آج روم میں ہو گا سعودی ولی عہد اور ترک صدر کا ٹیلیفونک رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال پٹرول 4 روپے 8 پیسے، ڈیزل 2 روپے 45 پیسے فی لٹر سستا ایران کیلئے مذاکرات کا آخری موقع، آبنائے ہرمز جلد کھل جائے گی: ٹرمپ کا دعویٰ پاکستان اور اسپین کا تعلیم، زراعت، کھیل اور انسانی ترقی میں تعاون بڑھانے پر اتفاق حکومت ناکام ہوچکی، وقت آنے پر ہم کندھا بھی کھینچ سکتے ہیں: ندیم افضل چن وفاقی حکومت کی الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے: بلاول بھٹو اتحادیوں پر برس پڑے یوکرین کا روس کے معروف سیاحتی ساحل پر ڈرون حملہ، 7 افراد ہلاک ایبٹ آباد میں طوفانی بارش، 3 بچیاں برساتی ندی میں بہہ گئیں، 2 کی لاشیں برآمد کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس ایک روز کیلئے معطل سینٹ کام کا مشرق وسطیٰ میں زمینی فوج کی تعیناتی پر غور ایران اور امریکا کے بیانات میں تضاد، آبنائے ہرمز پر اختلافات برقرار پینٹاگون کا پیٹریاٹ اور تھاڈ میزائل سسٹمز کی پیداوار بڑھانے کا فیصلہ

عمان سے مذاکرات: ایران نے موجودہ جنوبی بحری راستہ ناقابل قبول قرار دیدیا

Web Desk

2 August 2026

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان ایک نئی مخصوص بحری راہداری کے لیے سفارتی سطح پر مذاکرات جاری ہیں۔ ترجمان کے مطابق تہران نے اپنی قومی سلامتی کے سنگین تحفظات اور سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر موجودہ جنوبی بحری راستے کو مکمل طور پر ناقابلِ قبول قرار دے کر اس پر اعتراض اٹھایا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس نئے بحری راستے کی تشکیل دونوں ممالک کی باہمی مشاورت سے طے کی جائے گی تاکہ بحری سفر کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

ایرانی ترجمان نے ان مذاکرات کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ تہران اور مسقط کے درمیان جاری یہ گفتگو مثبت سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان مذاکرات کا آبنائے ہرمز کو بند کرنے یا دوبارہ بحال کرنے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال کا براہ راست تعلق امریکہ کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندیوں اور پالیسیوں سے ہے۔