LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پولیس افسروں اور جوانوں کی عظیم قربانیاں پوری قوم کیلئے باعث فخر ہیں: صدر مملکت حج رجسٹریشن کرانے والوں کی تعداد 3 لاکھ 81 ہزار سے تجاوز کر گئی سابق کٹھ پتلی وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ نے مودی حکومت کو کشمیر میں دہشتگردی کا ذمہ دار قرار دیدیا میانمار میں تربیتی پرواز کے دوران لڑاکا طیارہ گر کر تباہ، پائلٹ محفوظ رہا مصر کے ساحلی شہر شرم الشیخ کے شمال مشرق میں 5.5 شدت کا زلزلہ واشنگٹن میں جنگل کی آگ بے قابو، 5 ہزار گھر خالی، 600 عمارتیں تباہ ایران کی ناکہ بندی کے دوران 44 تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا گیا: امریکی فوج ایران کی امریکا کو بحری ناکہ بندی پر سخت نتائج کی وارننگ لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا ساتواں دور آج روم میں ہو گا سعودی ولی عہد اور ترک صدر کا ٹیلیفونک رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال پٹرول 4 روپے 8 پیسے، ڈیزل 2 روپے 45 پیسے فی لٹر سستا ایران کیلئے مذاکرات کا آخری موقع، آبنائے ہرمز جلد کھل جائے گی: ٹرمپ کا دعویٰ پاکستان اور اسپین کا تعلیم، زراعت، کھیل اور انسانی ترقی میں تعاون بڑھانے پر اتفاق حکومت ناکام ہوچکی، وقت آنے پر ہم کندھا بھی کھینچ سکتے ہیں: ندیم افضل چن وفاقی حکومت کی الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے: بلاول بھٹو اتحادیوں پر برس پڑے

سعودی، ایرانی، اردنی اور قطری وزرائے خارجہ کا رابطہ، قیامِ امن کے عزم کا اعادہ

Web Desk

2 August 2026

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے مشرقِ وسطیٰ کی تازہ ترین اور کشیدہ صورت حال پر تبادلہ خیال کے لیے ایرانی، قطری اور اردنی وزرائے خارجہ سے الگ الگ ٹیلیفونک رابطے کیے ہیں۔ خبر ایجنسی کے مطابق سعودی عرب اور ایران کے وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والی گفتگو میں خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال اور جاری کشیدگی میں کمی لانے کے لیے سفارتی کوششوں کو تیز کرنے پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ اس موقع پر سعودی وزیر خارجہ نے خطے میں پائیدار امن و استحکام کے قیام کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

اس کے علاوہ سعودی وزیر خارجہ نے قطر اور اردن کے وزرائے خارجہ سے بھی سفارتی رابطے قائم کیے، جن میں درپیش درپیش چیلنجز کے مقابلے کے لیے مشترکہ کوششوں اور تمام امور پر متفقہ موقف اختیار کرنے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ ان ٹیلیفونک رابطوں کے دوران تینوں برادر ممالک (سعودی عرب، قطر اور اردن) نے بحیرہ احمر میں امن کی بحالی اور آزادانہ بحری رفت و آمد (آزادانہ جہاز رانی) کی بلا تعطل فراہمی پر مکمل اتفاق کیا۔