LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
روس میں پارلیمانی انتخابات کے آخری روز ماسکو پر بڑا ڈرون حملہ کوئی ریاست دوسری ریاست کیلئے خطرہ نہیں بن سکتی: قطری وزیراعظم شمالی کوریا کا تین گھنٹوں میں 2 بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ نئے صوبوں، صدارتی اور بلدیاتی نظام میں زیادہ دیر نہیں: چودھری جعفر اقبال اٹھارہویں ترمیم کے بعد چاروں صوبے 4 آزاد ریاستیں بن گئیں: مصطفیٰ کمال الخلیل میں اسرائیلی آباد کاروں کا فلسطینیوں پر حملہ، گاڑی نذر آتش جاسم البدیوی کی یو این سیکرٹری جنرل سے ملاقات، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ کی جماعت اسلامی کے مارچ کی حمایت زیلنسکی اور ٹرمپ کا ٹیلی فونک رابطہ، نیویارک میں ملاقات پر اتفاق آبنائے ہرمز، باب المندب بند ہونے سے تیل مہنگا ہوا، مہنگائی سے پوری دنیا پریشان ہے: رانا ثناء اللہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں بڑھیں، عوام کی تکلیف کا احساس ہے: علی پرویز ملک 18ویں ترمیم کے اختیارات نچلی سطح پر منتقل کیے جائیں :خالد مقبول صدیقی سکیورٹی پہلے، ملک محفوظ ہوگا تو ترقی بھی ہو گی: سپیکر پنجاب اسمبلی اسلام آباد پہنچنے سے پہلے جماعت اسلامی کے لانگ مارچ میں بریک تھرو کا امکان پی ٹی آئی ایم پی اے کی فائرنگ سے 2 لیویز اہلکار زخمی، مقدمہ درج: ذرائع

منہ پر چمگادڑ بیٹھنے سے 11 سالہ بچہ ہلاک

Web Desk

1 July 2026

کینیڈا کے شمالی صوبے اونٹاریو میں ایک انتہائی لرزہ خیز اور سبق آموز واقعہ پیش آیا ہے جہاں چہرے پر چمگادڑ کے بیٹھنے سے 11 سالہ لڑکا ہائیڈروفوبیا (ریبیز/باؤلا پن) کا شکار ہو کر ہلاک ہو گیا۔ حیرت انگیز طور پر بچے کے جسم پر چمگادڑ کے کاٹنے یا کھرچنے کا کوئی ظاہری نشان نہیں ملا تھا۔

کینیڈین میڈیکل ایسوسی ایشن جرنل میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، یہ کیس 1967ء کے بعد سے اونٹاریو میں مقامی طور پر منتقل ہونے والی ریبیز سے پہلی ہلاکت ہے۔ بتایا گیا ہے کہ صبح کے وقت ایک چمگادڑ لڑکے کے چہرے (ناک) پر آ کر بیٹھ گئی تھی، جس پر لڑکے نے اسے ہاتھ سے جھٹک کر اڑا دیا اور اس کے والد نے چمگادڑ کو گھر سے باہر نکال دیا۔ چونکہ بچہ بظاہر بالکل ٹھیک لگ رہا تھا اور جسم پر کوئی زخم نہیں تھا، اس لیے والدین نے طبی امداد حاصل کرنا ضروری نہیں سمجھا۔

 واقعے کے تقریباً 19 دن بعد بچے کے چہرے پر اچانک بے حسی، الٹیاں اور شدید درد شروع ہو گیا اور اس کی حالت تیزی سے بگڑتی چلی گئی۔ بعد ازاں اس میں زبان کا لڑکھڑانا، تیز بخار، کچھ بھی نگلنے میں شدید دشواری، الجھن (Confusion) اور نظر کا دھوکا (Hallucinations) ہونے جیسی خطرناک علامات ظاہر ہوئیں۔ پیڈیاٹرک آئی سی یو (ICU) کے ڈاکٹروں نے ماضی میں چمگادڑ کے جسم سے چھونے اور ان اعصابی علامات کی بنیاد پر فوراً ریبیز کا شبہ ظاہر کیا، لیکن اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ ہسپتال میں داخل ہونے کے 17ویں دن بعد وینٹی لیٹر ہٹائے جانے پر بچہ دم توڑ گیا۔

 طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ علامات شروع ہونے کے بعد ریبیز کا مرض تقریباً 100 فیصد جان لیوا ثابت ہوتا ہے اور دنیا بھر میں اب تک اس نوعیت کے مریضوں میں بچ جانے والے افراد کی تعداد 35 سے بھی کم ہے۔ شمالی امریکا میں ریبیز پھیلنے کی سب سے بڑی وجہ چمگادڑیں ہیں، کیونکہ ان کے دانت اتنے باریک ہوتے ہیں کہ کاٹنے کا نشان نظر ہی نہیں آتا۔

ڈاکٹروں نے سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ چمگادڑ کے ساتھ انسان کا کوئی بھی براہِ راست رابطہ، خواہ کاٹنے یا کھرچنے کا کوئی ظاہری نشان موجود نہ بھی ہو، پی ای پی (PEP – پوسٹ ایکسپوژر پروفیلیکسس) کے زمرے میں آتا ہے۔ یہ ریبیز ویکسین کا ایک سلسلہ ہے جو علامات ظاہر ہونے سے پہلے دیا جائے تو انسان کی جان سو فیصد بچائی جا سکتی ہے۔ متاثرہ لڑکے کے خاندان نے دنیا بھر میں اس مرض سے متعلق آگاہی پیدا کرنے کے لیے اس کیس کو عوامی سطح پر شیئر کرنے کی اجازت دی ہے۔