LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
حرمین شریفین کی حرمت، سعودی عرب کی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا: دفتر خارجہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے حوثیوں سے براہِ راست رابطے کی تصدیق کردی حوثیوں کا سعودی جنگی طیارہ مار گرانے کا دعویٰ، اتحادی افواج کے کمیونیکیشن ٹاورز پر حملے ہونہار اور مستحق طلبہ کو میرٹ پر معیاری تعلیم کی فراہمی اولین ترجیح ہے، وزیراعظم ایران کسی معاہدے تک پہنچنا چاہتا ہے، جنگ کے خاتمہ کے قریب ہیں: ٹرمپ مکہ مکرمہ کی حفاظت کیلئے کسی معاہدے کی ضرورت نہیں: خواجہ آصف سفارتی حل کیلئے تیار، قومی خود مختاری کا دفاع کریں گے: ایرانی وزیر خارجہ ایران جنگ: امریکی وزیر جنگ کا مواخذہ کرنیکی قرارداد ایوان میں پیش اقوام متحدہ اجلاس: امریکی صدر کی خلیج تعاون کونسل رکن ممالک سے ملاقاتیں متوقع جنرل اسمبلی اجلاس: امریکا کا فلسطینی صدر اور حکام کو ویزے دینے سے انکار ایران کے جوابی حملے: امریکی فوجی اڈوں، طیاروں، دیگر نقصانات کی تصاویر سامنے آگئیں اماراتی وزیر خارجہ کی امریکی مشیر مسعد بولس سے ملاقات، سٹریٹجک تعلقات پر تبادلہ خیال صدر ٹرمپ کا امریکا میں شرح سود ایک فیصد یااس سے کم کرنے کا مطالبہ معرکہ حق میں عظیم فتح سے پاکستان کو دنیا میں نئی پہچان ملی: احسن اقبال امریکی فیڈرل ریزرو نے بنیادی شرح سود میں اضافہ کردیا

گنج پن کے علاج میں بڑی پیش رفت، کھوئے ہوئے بال دوبارہ اگانے کی امید روشن

Web Desk

2 July 2026

گنج پن اور بالوں کے گرنے کے مسائل سے متاثرہ افراد کے لیے سائنس دانوں کی تازہ تحقیق امید کی ایک نئی کرن لے کر آئی ہے۔ حالیہ سائنسی پیش رفت سے یہ امکان مزید مضبوط ہو گیا ہے کہ مستقبل میں نہ صرف بالوں کا گرنا روکنا بلکہ مکمل طور پر ختم ہو جانے والے بالوں کو دوبارہ اگانا بھی ممکن ہو سکے گا۔

ماہرین کے مطابق، اب تک استعمال ہونے والے روایتی علاج، جیسے منوکسڈیل اور ڈی ایچ ٹی ($DHT$) ہارمون کو کم کرنے والی ادویات، بہت سے مریضوں میں مؤثر ثابت ضرور ہوتی ہیں، لیکن ان کے نتائج ہر فرد میں یکساں نہیں ہوتے۔ اس کے علاوہ، جیسے ہی یہ علاج بند کیا جائے، اکثر افراد کے بال دوبارہ گرنا شروع ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب سائنس دان ایسے جدید طریقہ علاج پر کام کر رہے ہیں جو بالوں کی جڑوں (فولیکلز) کو اندرونی سطح سے دوبارہ فعال کریں یا نئے فولیکلز تیار کرنے میں مدد دیں۔

اس سلسلے میں “ABS-201” نامی ایک تجرباتی اسمارٹ انجیکشن کو انتہائی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ انجیکشن پرولیکٹن ریسیپٹر کو ہدف بنا کر غیر فعال ہو جانے والے بالوں کے فولیکلز کو دوبارہ متحرک کرتا ہے۔ جانوروں پر کی جانے والی آزمائشوں کے دوران گنج پن کے شکار بندروں میں بالوں کی کثافت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جبکہ چوہوں میں بھی روایتی علاج کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بال اگے۔ اس وقت اس انقلابی علاج کی انسانوں پر کلینیکل آزمائش جاری ہے۔

دوسری جانب، یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، لاس اینجلس (UCLA) کے محققین نے دریافت کیا ہے کہ اگر بالوں کے فولیکلز کے اسٹیم سیلز میں “لیکٹیٹ” کی پیداوار بڑھائی جائے تو انہیں دوبارہ فعال کیا جا سکتا ہے۔ اسی تحقیق کی بنیاد پر “PP405” نامی ایک مقامی دوا تیار کی گئی ہے، جس کا مقصد فولیکلز کو اندرونی طور پر متحرک کرکے بالوں کی قدرتی نشوونما بحال کرنا ہے۔

اس کے علاوہ، سائنس دانوں نے قدرتی شکر “ڈی آکسی رائبوز” کو بھی بالوں کی افزائش کے حوالے سے امید افزا قرار دیا ہے۔ جانوروں پر ہونے والی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ مادہ بالوں کی جڑوں کے اردگرد خون کی نئی نالیاں بنانے میں مدد دیتا ہے، جس سے آکسیجن اور غذائی اجزا کی فراہمی بہتر ہوتی ہے اور بالوں کی نشوونما میں حیرت انگیز اضافہ ہو سکتا ہے، تاہم اس حوالے سے تحقیق ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔