LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اورنج ٹرین، سپیڈو اور میٹرو بسوں میں ٹوکن اور کارڈ سسٹم ختم میرپور والو! سچ، انصاف اور امن کے لیے 27 جولائی کو تیر پر مہر لگائیں: بلاول بھٹو زرداری امریکا نے حملے روکے تو ہم نے بھی جوابی کارروائیاں معطل کر دیں: ایرانی فوج میرپور آزاد کشمیر ڈویژن کے تین اضلاع کے 13 حلقوں میں انتخابات کل ہونگے آبنائے ہرمز پر عمان کے ساتھ اہم پیشرفت، تکنیکی و سیاسی مشاورت جاری ہے: ایران بنگلادیشی صدر محمد شہاب الدین اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے جیفری ایپسٹین کے نام ٹرمپ کا فحش خط منظرعام پر لانیوالے صحافیوں کیلئے ایوارڈ کا اعلان ٹرمپ کا بڑا اعلان، تیسری بار صدر بننے کی خواہش ظاہر کر دی 18 ارب ڈالر کا تیل فروخت کر چکے، ایران کا دعویٰ یوکرین نے بحیرہ کیسپیئن میں ایرانی تجارتی جہاز پر حملہ کر دیا روس کے جوہری دفاع نظام کا بحری حصہ مزید طاقتور بن رہا ہے: پوتن سعودی امریکا جوہری معاہدے میں اسرائیل سے تعلقات کی شرط کی تردید دریائے سندھ میں کالاباغ، چشمہ اور تونسہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ملک عمران خلیل پی ٹی آئی برطانیہ اور آصف بٹ نارتھ ویسٹ کے صدر منتخب وزیراعظم کا جنوبی وزیرستان میں دہشتگردوں کا حملہ ناکام بنانے پر فورسز کو خراجِ تحسین

ویپنگ بینائی کے سنگین امراض کا باعث قرار، نئی تحقیق میں انکشافات

Web Desk

30 June 2026

الیکٹرانک سگریٹ یا ‘ویپنگ’ (Vaping) کو روایتی سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنے والے افراد کے لیے ایک نئی اور تشویشناک طبی تحقیق سامنے آئی ہے، جس کے مطابق ویپنگ آنکھوں کی صحت کے لیے شدید نقصان دہ ہے اور اس سے بینائی سے متعلق سنگین امراض کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔

امریکی طبی جریدے میں شائع ہونے والی اس جامع تحقیق میں محققین نے تقریباً 1 لاکھ 80 ہزار افراد کے طبی اعداد و شمار کا ساڑھے چار سال تک باریک بینی سے جائزہ لیا۔ تحقیق کے دوران ان افراد کا موازنہ کیا گیا جنہوں نے نکوٹین کا استعمال مکمل طور پر ترک کر دیا تھا، ان لوگوں سے جو روایتی سگریٹ چھوڑنے کے بعد الیکٹرانک سگریٹ یا نکوٹین کی دیگر متبادل مصنوعات پر منتقل ہو گئے تھے۔

تحقیق کے حیران کن نتائج کے مطابق، ویپنگ یا دیگر نکوٹین مصنوعات کا مستقل استعمال کرنے والے افراد میں آنکھوں کے سنگین امراض کا مجموعی خطرہ 7 فیصد زیادہ پایا گیا۔ اس تحقیق میں سب سے خطرناک اور نمایاں اضافہ آنکھ کے پچھلے حصے یعنی ریٹینا (Retina) کی خون کی نالیوں سے متعلق بیماریوں میں دیکھا گیا، جہاں بیماری کا خطرہ 24 فیصد تک زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔

طبی ماہرین نے اس کی سائنسی وجہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ نکوٹین انسانی جسم میں خون کی نالیوں کو سکڑنے پر مجبور کرتی ہے، جس کے نتیجے میں خون کی قدرتی روانی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ آنکھ کا پچھلا حصہ ‘ریٹینا’ روشنی کو محسوس کرنے والا نہایت حساس عضو ہے، جو اپنے افعال کے لیے باریک خون کی نالیوں کے ایک انتہائی پیچیدہ جال پر انحصار کرتا ہے۔ نکوٹین کی وجہ سے جب خون کی روانی میں رکاوٹ آتی ہے تو ریٹینا کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ نکوٹین نہ صرف خون کی مناسب گردش میں خلل ڈالتی ہے بلکہ یہ جسم کے اندر سوزش (Inflammation) کے عمل کو بھی بڑھاتی ہے اور ایسے خطرناک عوامل کو متحرک کرتی ہے جو پہلے ہی آنکھوں کی مختلف مہلک بیماریوں کا باعث سمجھے جاتے ہیں۔