LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
صدر مملکت آصف علی زرداری نے اہم سمریوں کی منظوری دے دی نیویارک سے 36 نایاب اور چوری شدہ پاکستانی نوادرات کی واپسی، امریکہ اور پاکستان کے درمیان معاہدہ طے ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب نے یورپ کیلئے تیل کی سپلائی روک دی ملائیشیا کا اسرائیلی فوج کیلئے امداد کو اپنے ملک سے گزرنے کی اجازت نہ دینے کا اعلان اقوام متحدہ کا معائنہ کاروں کو غزہ کے تمام حصوں تک رسائی دینے کا مطالبہ ٹرمپ انتظامیہ کا اسرائیل کو تباہی کیلئے 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بم فروخت کرنے کا منصوبہ صومالی صدر کی رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات، انسانی خدمات پر تبادلہ خیال جاپانی وزیراعظم کا حکمراں جماعت اور کابینہ میں ردوبدل کا اعلان روسی حملے روکنے پر یوکرین کا بھی بعض اہداف پر حملے روکنے کا اعلان پاکستان کا حوثی حملوں کے خلاف سعودی دفاعی اقدامات کی مکمل حمایت کا اعلان آئندہ چند ماہ میں ایران جنگ بالکل مختلف مرحلے میں داخل ہو جائے گی، جے ڈی وینس لیتھوانیا کی فضائی حدود میں داخل ہونے والا ڈرون تباہ کر دیا گیا جرمنی میں طیارہ حادثے کا شکار، 3 ڈچ شہری ہلاک کولمبیا میں 5.2 شدت کا زلزلہ امریکی ایوان نمائندگان میں روس پر پابندیاں سخت کرنے کا بل منظور

ویپنگ بینائی کے سنگین امراض کا باعث قرار، نئی تحقیق میں انکشافات

Web Desk

30 June 2026

الیکٹرانک سگریٹ یا ‘ویپنگ’ (Vaping) کو روایتی سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنے والے افراد کے لیے ایک نئی اور تشویشناک طبی تحقیق سامنے آئی ہے، جس کے مطابق ویپنگ آنکھوں کی صحت کے لیے شدید نقصان دہ ہے اور اس سے بینائی سے متعلق سنگین امراض کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔

امریکی طبی جریدے میں شائع ہونے والی اس جامع تحقیق میں محققین نے تقریباً 1 لاکھ 80 ہزار افراد کے طبی اعداد و شمار کا ساڑھے چار سال تک باریک بینی سے جائزہ لیا۔ تحقیق کے دوران ان افراد کا موازنہ کیا گیا جنہوں نے نکوٹین کا استعمال مکمل طور پر ترک کر دیا تھا، ان لوگوں سے جو روایتی سگریٹ چھوڑنے کے بعد الیکٹرانک سگریٹ یا نکوٹین کی دیگر متبادل مصنوعات پر منتقل ہو گئے تھے۔

تحقیق کے حیران کن نتائج کے مطابق، ویپنگ یا دیگر نکوٹین مصنوعات کا مستقل استعمال کرنے والے افراد میں آنکھوں کے سنگین امراض کا مجموعی خطرہ 7 فیصد زیادہ پایا گیا۔ اس تحقیق میں سب سے خطرناک اور نمایاں اضافہ آنکھ کے پچھلے حصے یعنی ریٹینا (Retina) کی خون کی نالیوں سے متعلق بیماریوں میں دیکھا گیا، جہاں بیماری کا خطرہ 24 فیصد تک زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔

طبی ماہرین نے اس کی سائنسی وجہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ نکوٹین انسانی جسم میں خون کی نالیوں کو سکڑنے پر مجبور کرتی ہے، جس کے نتیجے میں خون کی قدرتی روانی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ آنکھ کا پچھلا حصہ ‘ریٹینا’ روشنی کو محسوس کرنے والا نہایت حساس عضو ہے، جو اپنے افعال کے لیے باریک خون کی نالیوں کے ایک انتہائی پیچیدہ جال پر انحصار کرتا ہے۔ نکوٹین کی وجہ سے جب خون کی روانی میں رکاوٹ آتی ہے تو ریٹینا کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ نکوٹین نہ صرف خون کی مناسب گردش میں خلل ڈالتی ہے بلکہ یہ جسم کے اندر سوزش (Inflammation) کے عمل کو بھی بڑھاتی ہے اور ایسے خطرناک عوامل کو متحرک کرتی ہے جو پہلے ہی آنکھوں کی مختلف مہلک بیماریوں کا باعث سمجھے جاتے ہیں۔