LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا، حکومت نے ریلیف سے قبل قیمتیں آسمان پر پہنچا دیں پمز ایم سی ایچ سے نومولود چوری کی کوشش ناکام، دو خواتین اور لڑکی گرفتار پٹرولیم لیوی کے خاتمے تک احتجاج جاری رہے گا: حافظ نعیم الرحمان انڈونیشین نیوی کے سربراہ کی نیول چیف سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے کا عزم ملائیشین وزیراعظم سے من گھڑت بیانیہ نکلوانے کی بھارتی کوشش ناکام، انٹرویو پھر سرخیوں میں اسحاق ڈار سے لبنانی وزیر داخلہ کی ملاقات ہوئی، تمام شعبوں میں تعاون پر اتفاق پٹرولیم قیمتوں میں ریلیف، حکومت اور جماعت اسلامی میں اہم ملاقات خیبرپختونخوا دو دن سے لاوارث، سہیل آفریدی سیر سپاٹے کر رہے ہیں: عظمیٰ بخاری سینیٹ کمیٹی میں ایم ڈی کیٹ اور میڈیکل داخلہ نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی سفارشات افغان میڈیکل طلبہ کی پاکستان میں تعلیم جاری رکھنے کی درخواست پر فیصلہ جاری پٹرولیم مصنوعات پر لیوی ختم کی جائے، حکومت ہوش کے ناخن لے: شرجیل میمن امریکا خلا میں فوجی طاقت بڑھانے کا سلسلہ بند کرے، چین کا مطالبہ باب المندب کی بندش پوری دنیا کیلئے تباہ کن ہوگی: قطر کا اظہارِ تشویش ازبکستان کا 10 رکنی میڈیا وفد 7 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گیا حکومت ریلیف کا ڈرامہ بند اور پٹرولیم لیوی کا بھتہ ختم کرے: حافظ نعیم

ویپنگ بینائی کے سنگین امراض کا باعث قرار، نئی تحقیق میں انکشافات

Web Desk

30 June 2026

الیکٹرانک سگریٹ یا ‘ویپنگ’ (Vaping) کو روایتی سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنے والے افراد کے لیے ایک نئی اور تشویشناک طبی تحقیق سامنے آئی ہے، جس کے مطابق ویپنگ آنکھوں کی صحت کے لیے شدید نقصان دہ ہے اور اس سے بینائی سے متعلق سنگین امراض کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔

امریکی طبی جریدے میں شائع ہونے والی اس جامع تحقیق میں محققین نے تقریباً 1 لاکھ 80 ہزار افراد کے طبی اعداد و شمار کا ساڑھے چار سال تک باریک بینی سے جائزہ لیا۔ تحقیق کے دوران ان افراد کا موازنہ کیا گیا جنہوں نے نکوٹین کا استعمال مکمل طور پر ترک کر دیا تھا، ان لوگوں سے جو روایتی سگریٹ چھوڑنے کے بعد الیکٹرانک سگریٹ یا نکوٹین کی دیگر متبادل مصنوعات پر منتقل ہو گئے تھے۔

تحقیق کے حیران کن نتائج کے مطابق، ویپنگ یا دیگر نکوٹین مصنوعات کا مستقل استعمال کرنے والے افراد میں آنکھوں کے سنگین امراض کا مجموعی خطرہ 7 فیصد زیادہ پایا گیا۔ اس تحقیق میں سب سے خطرناک اور نمایاں اضافہ آنکھ کے پچھلے حصے یعنی ریٹینا (Retina) کی خون کی نالیوں سے متعلق بیماریوں میں دیکھا گیا، جہاں بیماری کا خطرہ 24 فیصد تک زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔

طبی ماہرین نے اس کی سائنسی وجہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ نکوٹین انسانی جسم میں خون کی نالیوں کو سکڑنے پر مجبور کرتی ہے، جس کے نتیجے میں خون کی قدرتی روانی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ آنکھ کا پچھلا حصہ ‘ریٹینا’ روشنی کو محسوس کرنے والا نہایت حساس عضو ہے، جو اپنے افعال کے لیے باریک خون کی نالیوں کے ایک انتہائی پیچیدہ جال پر انحصار کرتا ہے۔ نکوٹین کی وجہ سے جب خون کی روانی میں رکاوٹ آتی ہے تو ریٹینا کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ نکوٹین نہ صرف خون کی مناسب گردش میں خلل ڈالتی ہے بلکہ یہ جسم کے اندر سوزش (Inflammation) کے عمل کو بھی بڑھاتی ہے اور ایسے خطرناک عوامل کو متحرک کرتی ہے جو پہلے ہی آنکھوں کی مختلف مہلک بیماریوں کا باعث سمجھے جاتے ہیں۔