ڈریپ نے انٹرنیشنل فارماسیوٹیکل ریگولیٹرز پروگرام کی رکنیت حاصل کر لی
Web Desk
30 June 2026
اسلام آباد: ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) نے دواسازی کے شعبے میں ایک اور بڑی بین الاقوامی کامیابی حاصل کرتے ہوئے ‘انٹرنیشنل فارماسیوٹیکل ریگولیٹرز پروگرام’ (IPRP) کی باقاعدہ رکنیت حاصل کر لی ہے، جسے ملکی تاریخ میں ہیلتھ کیئر ریگولیشن کا ایک اہم تزویراتی سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔برازیل میں منعقدہ آئی پی آر پی (IPRP) مینجمنٹ کمیٹی کے 70 ویں اعلیٰ سطح کے اجلاس میں ڈریپ کو اس عالمی ریگولیٹری ادارے کی مستقل رکنیت دینے کا باقاعدہ اعلان کیا گیا۔ فارماسیوٹیکل حکام کے مطابق، اس عالمی رکنیت کے حصول کے بعد اب ڈریپ بین الاقوامی ریگولیٹری فورمز اور تزویراتی ورکنگ گروپس میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے فعال کردار ادا کر سکے گی۔وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس مصلحانہ پیش رفت کو پاکستانی فارماسیوٹیکل سیکٹر کو عالمی معیارات کے مطابق ڈھالنے کے لیے ایک انقلابی اقدام قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ پیش رفت پاکستان کے لیے رواں سال کے دوران بین الاقوامی ریگولیٹری کامیابیوں کی ایک شاندار “ہیٹ ٹرک” ہے، جس سے اب عام مریضوں کو یہ پختہ اعتماد حاصل ہوگا کہ مقامی فارمیسیوں سے خریدی جانے والی ادویات سو فیصد محفوظ، اصولی اور طبی طور پر مؤثر ہیں۔ڈریپ کی اس تزویراتی کامیابی اور اس کے سائنسی اثرات درج ذیل جدول میں دیکھے جا سکتے ہیں:ریگولیٹری فریم ورکحاصل ہونے والی پیش رفت اور مصلحانہ فوائدعالمی فورمانٹرنیشنل فارماسیوٹیکل ریگولیٹرز پروگرام (IPRP) کی مستقل رکنیت۔اجلاس اور مقامآئی پی آر پی مینجمنٹ کمیٹی کا 70 واں اجلاس، برازیل۔صارفین کو تزویراتی فائدہمقامی طور پر تیار کردہ جینیرک ادویات بین الاقوامی سائنسی معیار سے ہم آہنگ ہوں گی۔معاشی ریلیف کا تخمینہمہنگی برانڈڈ ادویات کے مقابلے میں کم قیمت مگر اعلیٰ معیار کے متبادل کی فوری دستیابی۔سی ای او ڈریپ (CEO DRAP) عبیداللہ نے اس بین الاقوامی اعتراف پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آئی پی آر پی کی رکنیت کا حصول دراصل ڈریپ کے اندرونی مانیٹرنگ اور مینوئل سسٹم کی ریگولیٹری ترقی کا عالمی اعتراف ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس سائنسی نیٹ ورکنگ کی بدولت پاکستان میں تیار ہونے والی جینیرک ادویات (Generic Medicines) براہِ راست عالمی معیارات کے مطابق آ جائیں گی، جس کے نتیجے میں پاکستانی شہریوں کو مہنگی برانڈڈ ادویات کے بجائے انتہائی سستی، مگر یکساں معیار اور اثر پذیری رکھنے والی متبادل ادویات مصلحانہ طور پر جلد دستیاب ہو سکیں گی۔
متعلقہ عنوانات
ویپنگ بینائی کے سنگین امراض کا باعث قرار، نئی تحقیق میں انکشافات
30 June 2026
ڈوپامین کی کمی بھی یادداشت کی خرابی کی ایک اہم وجہ ہو سکتی ہے
30 June 2026
الزائمر سے تحفظ کے لیے اومیگا تھری سپلیمنٹس بے اثر قرار
29 June 2026
نوجوان پہلے سے زیادہ تیزی سے بوڑھے ہو رہے ہیں، تحقیق
29 June 2026
ملک کے مختلف حصوں کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق
29 June 2026
یورپ میں شدید گرمی کی لہر کے دوران 1300 سے زائد اضافی اموات ریکارڈ: عالمی ادارۂ صحت
28 June 2026
پنجاب کاڈیالوجی میں تشخیصی ٹیسٹ بند، امجد علی جاوید نے معاملہ ایوان میں اٹھا دیا
27 June 2026
پاکستان میں 60 دن کے اندر ادویات پر بارکوڈ متعارف کرایا جائے گا، مصطفیٰ کمال
27 June 2026