LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سندھ میں نئے صوبے بنانے کا مقدمہ سب سے زیادہ مضبوط ہے: ایم کیو ایم پاکستان کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کے وسیع مواقع ہیں: ہسپانوی سفیر وزیراعلیٰ مریم نواز سے اٹک کے ارکان اسمبلی کی ملاقات، ترقیاتی منصوبوں پر تبادلہ خیال خاران میں سکیورٹی فورسز کا کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 7 دہشت گرد جہنم واصل حکومت نے روکا تو تحريک گھیراؤ میں بدل جائے گی، حافظ نعیم الرحمان امریکا کا چین پر ٹیرف سے بچنے کے لیے بڑے پیمانے پر تجارتی دھوکے کا الزام کیرولائن لیوٹ نے استعفیٰ صدر ٹرمپ سے دلبرداشتہ ہونے پر دیا: ایرانی سفارتخانہ ٹرمپ نے اسلام آباد مفاہمت کے ذریعے ایران کو تسلیم کر لیا: باقر قالیباف ٹرمپ آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکیاں دینا بند کریں، اپنی سکیورٹی کی فکر کریں: ابراہیم عزیزی امریکی سینٹ کام کمانڈر بریڈ کوپر کا 10 روزہ مشرق وسطیٰ کا دورہ مکمل استاد نصرت فتح علی خان کو مداحوں سے بچھڑے 29 برس بیت گئے بابائے اردو مولوی عبدالحق کی 65ویں برسی آج منائی جا رہی ہے اسرائیل کا جنوبی لبنان میں سیز فائر کے بعد سب سے مہلک ترین حملہ، 11 افراد شہید جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کو جنگ باضابطہ ختم کرنے کی تجویز پیش کر دی ایران نے فرانس کو ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے خبردار کر دیا

امریکا اور 12 ممالک کا آبنائے ہرمز میں بلا رکاوٹ تجارت برقرار رکھنے پر اتفاق

Web Desk

2 July 2026

امریکا اور مشرقِ وسطیٰ کے 12 ممالک نے عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستے ‘آبنائے ہرمز’ میں بلا رکاوٹ تجارتی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے مشترکہ کوششیں تیز کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کی قیادت میں بحرین میں خطے کے اعلیٰ فوجی حکام کا ایک اہم سکیورٹی اجلاس منعقد ہوا، جس میں مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ سکیورٹی صورتحال، علاقائی استحکام اور دفاعی تعاون کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس اہم بیٹھک میں امریکا سمیت سعودی عرب، قطر، عمان، بحرین، مصر، اردن، کویت، لبنان، شام، متحدہ عرب امارات اور یمن کے اعلیٰ فوجی حکام نے شرکت کی۔ شرکا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خطے میں دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنا کر آبنائے ہرمز میں بحری تجارت کے تسلسل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

اجلاس کے موقع پر سینٹکام کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے اتحادیوں کو یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ امریکا علاقائی سلامتی اور استحکام کے لیے اپنے شراکت داروں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا اپنے علاقائی اتحادیوں کے تعاون سے مشرقِ وسطیٰ میں دنیا کا جدید ترین اور مؤثر ترین فضائی و میزائل دفاعی نظام چلا رہا ہے۔

دوسری جانب، اس اجلاس پر تہران کی طرف سے شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ نے واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کا مکمل انتظام اور سکیورٹی صرف ایران کے اختیار میں ہے، سینٹکام یا کسی بیرونی طاقت کے پاس نہیں۔