LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹس ، سنگاپور پہلے ، یو اے ای، جاپان اور جنوبی کوریا دوسرے نمبر پر انڈونیشیا میں علیحدگی پسندوں نے امریکی پائلٹ کو قتل کرکے طیارے کو آگ لگا دی پاکستان تحریک انصاف کا آزاد کشمیر کے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان اپنی سرزمین کا ایک انچ بھی اسرائیل کے حوالے نہیں کریں گے؛ لبنانی صدر اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کا رابطہ، ایران امریکا مذاکرات میں پیش رفت پر اطمینان جنگ بندی غفلت نہیں، ایران دفاعی تیاری جاری رکھے ہوئے ہے: ترجمان ایرانی فوج لبنان اور شام کے درمیان عدم مداخلت کا معاہدہ طے پا گیا دمشق میں کیفے کے قریب کار دھماکا، 5 افراد جاں بحق، 16 زخمی ٹرمپ کا نیٹو اتحادیوں پر دفاعی اخراجات بڑھانے پر زور تھائی لینڈ میں 11 سالہ بچے کی گاڑی بدھ مت راہبوں کے قافلے پر چڑھ گئی، 8 ہلاک پٹرول کی قیمت 225 روپے فی لٹر کی جائے، حافظ نعیم الرحمان کا مطالبہ امریکا اور 12 ممالک کا آبنائے ہرمز میں بلا رکاوٹ تجارت برقرار رکھنے پر اتفاق ہیومن پلیسینٹا کیس: ایف آئی اے کی تحقیقات میں نئے انکشافات سابق وزیراعظم آزاد کشمیر پی پی پی سے علیحدگی کے بعد استحکام پاکستان پارٹی میں شامل پی ٹی آئی کی اسیر قیادت کا جیل سے چیئرمین اور سیکرٹری جنرل کو خط؛ آزاد کشمیر انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ

امریکا اور 12 ممالک کا آبنائے ہرمز میں بلا رکاوٹ تجارت برقرار رکھنے پر اتفاق

Web Desk

2 July 2026

امریکا اور مشرقِ وسطیٰ کے 12 ممالک نے عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستے ‘آبنائے ہرمز’ میں بلا رکاوٹ تجارتی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے مشترکہ کوششیں تیز کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کی قیادت میں بحرین میں خطے کے اعلیٰ فوجی حکام کا ایک اہم سکیورٹی اجلاس منعقد ہوا، جس میں مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ سکیورٹی صورتحال، علاقائی استحکام اور دفاعی تعاون کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس اہم بیٹھک میں امریکا سمیت سعودی عرب، قطر، عمان، بحرین، مصر، اردن، کویت، لبنان، شام، متحدہ عرب امارات اور یمن کے اعلیٰ فوجی حکام نے شرکت کی۔ شرکا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خطے میں دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنا کر آبنائے ہرمز میں بحری تجارت کے تسلسل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

اجلاس کے موقع پر سینٹکام کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے اتحادیوں کو یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ امریکا علاقائی سلامتی اور استحکام کے لیے اپنے شراکت داروں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا اپنے علاقائی اتحادیوں کے تعاون سے مشرقِ وسطیٰ میں دنیا کا جدید ترین اور مؤثر ترین فضائی و میزائل دفاعی نظام چلا رہا ہے۔

دوسری جانب، اس اجلاس پر تہران کی طرف سے شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ نے واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کا مکمل انتظام اور سکیورٹی صرف ایران کے اختیار میں ہے، سینٹکام یا کسی بیرونی طاقت کے پاس نہیں۔