LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق رپورٹ انتہائی تشویشناک ہے: سہیل آفریدی ٹرمپ نے عمان کو آبنائے ہرمز میں مداخلت پر حملے کی دھمکی دیدی چیف جسٹس سے انگلینڈ اینڈ ویلز ہائی کورٹ کے جج جسٹس کی ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کو دو تہائی اکثریت ملے گی: رانا ثناء اللہ وفاقی آئینی عدالت کا کارپوریٹ ٹیکس دہندگان کے حق میں بڑا فیصلہ بلوچستان ہائیکورٹ نے زیارت پولیس حملہ کی تحقیقات کیلئے کمیشن قائم کر دیا پاکستان اور قطرموجودہ کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں: اسماعیل بقائی عمران خان کی صحت اور جیل ملاقاتوں کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں مکمل، پولنگ ڈے کا فیصلہ 20 اگست کو متوقع پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کا دھرنا دوسرے روز میں داخل پشاور ہائیکورٹ کے 4 مستقل ہونے والے ججز نے حلف اٹھا لیا سکیورٹی فورسز کا بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 2 دہشت گرد ہلاک طالبان حکومت خود خطے کو غیر مستحکم کرنے کیلئے پراکسی بن چکی ہے: عاصم افتخار عمرہ زائرین اور ورکرز کیلئے پاکستانی سفارت خانے کی اہم ہدایات وفاقی حکومت کے قرضوں میں 18ہزار ارب روپے سے زائد کا اضافہ

ہیومن پلیسینٹا کیس: ایف آئی اے کی تحقیقات میں نئے انکشافات

Web Desk

2 July 2026

ہیومن پلیسینٹا (انسانی نال) کی غیر قانونی اسمگلنگ اور سپلائی کے کیس میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی تفتیش کے دوران انتہائی اہم اور ہولناک انکشافات سامنے آئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق، انسانی پلیسینٹا کو غیر قانونی طور پر اکٹھا کر کے اس سے ‘اینٹی ایجنگ’ (عمر کے اثرات چھپانے والے) مہنگے ترین انجکشن تیار کیے جاتے تھے۔ ان انجکشنز کی پاکستانی مارکیٹ میں قیمت 7 لاکھ روپے تک بتائی جاتی ہے۔

ایف آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس گھناؤنے کاروبار میں ملوث نیٹ ورک کا سراغ لگاتے ہوئے لاہور، پشاور اور راولپنڈی میں مبینہ ایجنٹس کی نشاندہی کر لی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی کسٹمز اور ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں کے کردار کی بھی باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے، جبکہ کسٹمز اہلکاروں کے اس غیر قانونی عمل میں ممکنہ طور پر ملوث ہونے کے پہلو کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔

حیرت انگیز انکشافات پر مبنی اس تحقیقات کے مطابق، حال ہی میں ویتنام بھیجی جانے والی 100 کلوگرام ہیومن پلیسینٹا کی ایک بھاری کھیپ کو موقع پر ہی روک لیا گیا تھا، جبکہ مختلف ہسپتالوں سے ہر ماہ تقریباً 200 کلوگرام پلیسینٹا غیر قانونی طور پر اکٹھا کیا جاتا تھا۔ ذرائع ایف آئی اے کے مطابق، اس کیس کے تمام پہلوؤں پر تفصیلی تحقیقات تیزی سے جاری ہیں اور اس گھناؤنے کاروبار اور اسمگلنگ میں ممکنہ طور پر ملوث تمام افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔