ویتنام میں دوسرے بچے کی پیدائش پر اضافی مراعات کا اعلان
Web Desk
2 July 2026
ویتنام نے ملک میں تیزی سے کم ہوتی شرحِ پیدائش اور بوڑھی ہوتی آبادی کے سنگین بحران سے نمٹنے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ دو بچوں کی دہائیوں پرانی سخت پالیسی ختم کرنے کے ٹھیک ایک سال بعد، حکومت نے آج سے ملک بھر میں نئی اور پرکشش مالیاتی و سماجی مراعات نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
آج سے نافذ العمل ہونے والی اس نئی ریاستی پالیسی کے تحت، دوسرے بچے کی پیدائش پر ملازمت پیشہ ماؤں کو اب 6 ماہ کے بجائے 7 ماہ کی تنخواہ کے ساتھ زچگی کی چھٹی (Maternity Leave) دی جائے گی۔ اس کے علاوہ، بچوں کی قبل از وقت پیدائش اور نومولود بچوں کے طبی معائنے کے تمام اخراجات پر حکومتی سبسڈی فراہم کی جائے گی، جبکہ مخصوص شرائط پوری کرنے والی ماؤں کو ایک مرتبہ نقد بونس بھی دیا جائے گا۔ اس سکیم کے تحت اہل ماؤں کو زیادہ سے زیادہ 228 امریکی ڈالر (تقریباً دو تہائی اوسط ماہانہ ملکی تنخواہ کے برابر) نقد بونس مل سکے گا۔
اقوامِ متحدہ کے پاپولیشن فنڈ (UNFPA) کی ویتنام میں سربراہ فام تھی لان نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ “یہ پالیسی حکومتی سوچ میں ایک بہت بڑی اور مثبت تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے، جس کے تحت اب خاندانی منصوبہ بندی پر زبردستی پابندیاں لگانے کے بجائے آبادی کی متوازن ترقی اور ترغیبات پر توجہ دی جا رہی ہے۔” واضح رہے کہ ویتنام میں کئی دہائیوں تک سرکاری ملازمین اور خاص طور پر کمیونسٹ پارٹی کے ارکان کو تیسرے بچے کی پیدائش پر سخت تادیبی کارروائیوں اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا، جنہیں گزشتہ سال ختم کیا گیا تھا۔
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ویتنام میں فی خاتون شرحِ پیدائش گر کر محض 1.93 بچے رہ گئی ہے، جو آبادی کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے درکار عالمی معیار (2.1 بچے) سے کہیں کم ہے، جبکہ اوسط عمر بڑھ کر 75 سال تک پہنچ چکی ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ رواں صدی کے وسط تک 60 سال سے زائد عمر کے بزرگ افراد ملک کی کل آبادی کا ایک چوتھائی (25 فیصد) حصہ ہوں گے، جس کے بعد ملکی آبادی باقاعدہ سکڑنا شروع ہو جائے گی۔
ماہرینِ معاشیات نے خبردار کیا ہے کہ اگر شرحِ پیدائش فوری نہ بڑھی تو مستقبل میں افرادی قوت (لیبر فورس) کی شدید کمی ہو جائے گی اور معاشی ترقی کا پہیہ سست پڑ جائے گا۔ اگرچہ حکومت نے نقد بونس کو اہم قدم قرار دیا ہے، تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ صرف نقد رقم کافی نہیں ہوگی؛ جب تک رہائش، بچوں کی دیکھ بھال، اور تعلیم کے مستقل اخراجات میں حکومتی معاونت فراہم نہیں کی جاتی، لوگوں کو زیادہ بچوں پر آمادہ کرنا مشکل ہوگا۔ ایک حالیہ سرکاری سروے کے مطابق بھی 73 فیصد شادی شدہ افراد نے اعتراف کیا کہ ان کے مالی حالات بچوں کی تعداد کے فیصلے میں سب سے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
متعلقہ عنوانات
پمز ہسپتال کی آتشزدگی میں زندہ بچ جانے والی نومولود بچی انتقال کر گئی
17 September 2026
کتابیں پڑھنے پر پیسے دینے والا ملک
17 September 2026
جی ایل پی-1 ادویات استعمال کرنے والوں میں نایاب بیماری کا انکشاف
17 September 2026
دنیا کا سب سے لمبا زندہ گھوڑا، برطانیہ کے ’ہیوگو‘ نے ریکارڈ قائم کر دیا
17 September 2026
خیبر پختونخوا صحت پروگرام میں سی سیکشن کی شرح 47 فیصد سے تجاوز کرگئی
17 September 2026
امریکا: ایک گھنٹے میں 415 کاغذی جہاز بنانے کا ریکارڈ
16 September 2026
فٹبال کھیلتے جنگلی ہاتھی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
16 September 2026
وزیراعظم کی 3 ماہ میں پمز ہسپتال میں فائر سیفٹی سمیت نظام بہتر کرنے کی ہدایت
16 September 2026