LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پنجاب کی ماتحت عدالتوں میں عملے کی بھرتیوں کا 150 سالہ پرانا نظام ختم پی آئی اے کی جدہ پہنچنے والی پرواز میں آگ کی اطلاع پر مسافروں کا ہنگامی اخراج بشری بی بی نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا معطلی کی اپیل پر جلد سماعت کیلئے آئینی عدالت سے رجوع ملک میں طبقاتی کشمکش اور پی ٹی آئی رہنماؤں پر مظالم کا سلسلہ جاری ہے، سپریم کورٹ میں بے بسی دیکھی: سلمان اکرم راجہ افغانستان سے دہشتگردی کے خطرات پر دفاع میں کارروائی کریں گے: عاصم افتخار حرمین شریفین کی حرمت، سعودی عرب کی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا: دفتر خارجہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے حوثیوں سے براہِ راست رابطے کی تصدیق کردی حوثیوں کا سعودی جنگی طیارہ مار گرانے کا دعویٰ، اتحادی افواج کے کمیونیکیشن ٹاورز پر حملے ہونہار اور مستحق طلبہ کو میرٹ پر معیاری تعلیم کی فراہمی اولین ترجیح ہے، وزیراعظم ایران کسی معاہدے تک پہنچنا چاہتا ہے، جنگ کے خاتمہ کے قریب ہیں: ٹرمپ مکہ مکرمہ کی حفاظت کیلئے کسی معاہدے کی ضرورت نہیں: خواجہ آصف سفارتی حل کیلئے تیار، قومی خود مختاری کا دفاع کریں گے: ایرانی وزیر خارجہ ایران جنگ: امریکی وزیر جنگ کا مواخذہ کرنیکی قرارداد ایوان میں پیش اقوام متحدہ اجلاس: امریکی صدر کی خلیج تعاون کونسل رکن ممالک سے ملاقاتیں متوقع جنرل اسمبلی اجلاس: امریکا کا فلسطینی صدر اور حکام کو ویزے دینے سے انکار

ویتنام میں دوسرے بچے کی پیدائش پر اضافی مراعات کا اعلان

Web Desk

2 July 2026

ویتنام نے ملک میں تیزی سے کم ہوتی شرحِ پیدائش اور بوڑھی ہوتی آبادی کے سنگین بحران سے نمٹنے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ دو بچوں کی دہائیوں پرانی سخت پالیسی ختم کرنے کے ٹھیک ایک سال بعد، حکومت نے آج سے ملک بھر میں نئی اور پرکشش مالیاتی و سماجی مراعات نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

آج سے نافذ العمل ہونے والی اس نئی ریاستی پالیسی کے تحت، دوسرے بچے کی پیدائش پر ملازمت پیشہ ماؤں کو اب 6 ماہ کے بجائے 7 ماہ کی تنخواہ کے ساتھ زچگی کی چھٹی (Maternity Leave) دی جائے گی۔ اس کے علاوہ، بچوں کی قبل از وقت پیدائش اور نومولود بچوں کے طبی معائنے کے تمام اخراجات پر حکومتی سبسڈی فراہم کی جائے گی، جبکہ مخصوص شرائط پوری کرنے والی ماؤں کو ایک مرتبہ نقد بونس بھی دیا جائے گا۔ اس سکیم کے تحت اہل ماؤں کو زیادہ سے زیادہ 228 امریکی ڈالر (تقریباً دو تہائی اوسط ماہانہ ملکی تنخواہ کے برابر) نقد بونس مل سکے گا۔

اقوامِ متحدہ کے پاپولیشن فنڈ (UNFPA) کی ویتنام میں سربراہ فام تھی لان نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ “یہ پالیسی حکومتی سوچ میں ایک بہت بڑی اور مثبت تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے، جس کے تحت اب خاندانی منصوبہ بندی پر زبردستی پابندیاں لگانے کے بجائے آبادی کی متوازن ترقی اور ترغیبات پر توجہ دی جا رہی ہے۔” واضح رہے کہ ویتنام میں کئی دہائیوں تک سرکاری ملازمین اور خاص طور پر کمیونسٹ پارٹی کے ارکان کو تیسرے بچے کی پیدائش پر سخت تادیبی کارروائیوں اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا، جنہیں گزشتہ سال ختم کیا گیا تھا۔

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ویتنام میں فی خاتون شرحِ پیدائش گر کر محض 1.93 بچے رہ گئی ہے، جو آبادی کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے درکار عالمی معیار (2.1 بچے) سے کہیں کم ہے، جبکہ اوسط عمر بڑھ کر 75 سال تک پہنچ چکی ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ رواں صدی کے وسط تک 60 سال سے زائد عمر کے بزرگ افراد ملک کی کل آبادی کا ایک چوتھائی (25 فیصد) حصہ ہوں گے، جس کے بعد ملکی آبادی باقاعدہ سکڑنا شروع ہو جائے گی۔

ماہرینِ معاشیات نے خبردار کیا ہے کہ اگر شرحِ پیدائش فوری نہ بڑھی تو مستقبل میں افرادی قوت (لیبر فورس) کی شدید کمی ہو جائے گی اور معاشی ترقی کا پہیہ سست پڑ جائے گا۔ اگرچہ حکومت نے نقد بونس کو اہم قدم قرار دیا ہے، تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ صرف نقد رقم کافی نہیں ہوگی؛ جب تک رہائش، بچوں کی دیکھ بھال، اور تعلیم کے مستقل اخراجات میں حکومتی معاونت فراہم نہیں کی جاتی، لوگوں کو زیادہ بچوں پر آمادہ کرنا مشکل ہوگا۔ ایک حالیہ سرکاری سروے کے مطابق بھی 73 فیصد شادی شدہ افراد نے اعتراف کیا کہ ان کے مالی حالات بچوں کی تعداد کے فیصلے میں سب سے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔