LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسحاق ڈار کا ملائیشین وزیر خارجہ سے رابطہ، تجارت، اقتصادی تعاون بارے گفتگو پی ٹی آئی لانگ مارچ، اہم رابطے کا انکشاف دہشتگردوں سے بات چیت نہیں ہوگی، ریاست کی پالیسی واضح ہے: ترجمان پاک فوج خلع کے حق مہر سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ جاپان میں 20ویں ایشین گیمز کا آغاز، پاکستانی دستے کی پروقار انٹری اسحاق ڈار اور عباس عراقچی میں رابطہ، بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت پر زور اسلام آباد معاہدے پر واپس آنے کی کوششیں جاری ہیں: ایرانی وزارتِ داخلہ نئے انتظامی یونٹس بننے سے کوئی قتل و غارت نہیں ہوگی، مصطفیٰ کمال پنجاب میں سی ٹی ڈی کے 158 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 23 دہشت گرد گرفتار سول سروس میں اصلاحات کیلئے سمارٹ ریفارمز پیکیج تیار، اہم ترامیم کی تجویز مشترکہ جائیداد کی نیلامی کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کرنا لازمی قرار عدالتی فائل گمشدگی کیس، سزا پانے والا اہلکار 15 سال بعد بری امریکی صدر ٹرمپ نے روس اور ایران پر پابندیوں کے بل پر دستخط کر دیے سکیورٹی فورسز کی پنجگور اور چاغی میں کارروائیاں، 11 دہشتگرد ہلاک کیوبا میں ایک سال میں ساتواں بلیک آؤٹ، پورا ملک تاریکی میں ڈوب گیا

خیبر پختونخوا صحت پروگرام میں سی سیکشن کی شرح 47 فیصد سے تجاوز کرگئی

Web Desk

17 September 2026

خیبر پختونخوا کے ‘صحت پروگرام’ کے تحت ڈلیوری کے کیسز میں سی سیکشن (آپریشن) کی شرح تشویشناک حد تک بڑھ کر 47.43 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ جاری کردہ رپورٹ کے سنسنی خیز انکشافات کے مطابق اس پروگرام کے تحت ہونے والے مجموعی سی سیکشنز میں سے 83.4 فیصد آپریشنز نجی ہسپتالوں میں کیے گئے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ طبی ضرورت کے بجائے صرف اور صرف مالی مفادات اور زیادہ سے زیادہ پرافٹ حاصل کرنے کے لیے نجی ہسپتالوں کی جانب سے نارمل ڈلیوری کے بجائے سی سیکشن کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مالیاتی فرق اس رجحان کی بنیادی وجہ ہے؛ صحت پروگرام کے تحت سی سیکشن پیکیج کے لیے 26 ہزار 575 روپے مقرر ہیں جبکہ نارمل ڈلیوری پیکیج کے لیے صرف 15 ہزار 129 روپے دیے جاتے ہیں۔ مانیٹرنگ اور نگرانی کے مروجہ نظام کے فقدان نے اس غیر اخلاقی اور تجارتی رجحان کو مزید فروغ دیا ہے، جس سے صحت پروگرام کی شفافیت اور اصل مقاصد پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔ ماہرینِ صحت نے انتباہ جاری کیا ہے کہ غیر ضروری سی سیکشن اور بار بار کے آپریشنز سے ماں اور بچے کی صحت پر شدید منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور خواتین میں دائمی طبی پیچیدگیوں کے امکانی خطرات میں نپٹارہ اضافہ ہو رہا ہے۔