LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا، حکومت نے ریلیف سے قبل قیمتیں آسمان پر پہنچا دیں پمز ایم سی ایچ سے نومولود چوری کی کوشش ناکام، دو خواتین اور لڑکی گرفتار پٹرولیم لیوی کے خاتمے تک احتجاج جاری رہے گا: حافظ نعیم الرحمان انڈونیشین نیوی کے سربراہ کی نیول چیف سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے کا عزم ملائیشین وزیراعظم سے من گھڑت بیانیہ نکلوانے کی بھارتی کوشش ناکام، انٹرویو پھر سرخیوں میں اسحاق ڈار سے لبنانی وزیر داخلہ کی ملاقات ہوئی، تمام شعبوں میں تعاون پر اتفاق پٹرولیم قیمتوں میں ریلیف، حکومت اور جماعت اسلامی میں اہم ملاقات خیبرپختونخوا دو دن سے لاوارث، سہیل آفریدی سیر سپاٹے کر رہے ہیں: عظمیٰ بخاری سینیٹ کمیٹی میں ایم ڈی کیٹ اور میڈیکل داخلہ نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی سفارشات افغان میڈیکل طلبہ کی پاکستان میں تعلیم جاری رکھنے کی درخواست پر فیصلہ جاری پٹرولیم مصنوعات پر لیوی ختم کی جائے، حکومت ہوش کے ناخن لے: شرجیل میمن امریکا خلا میں فوجی طاقت بڑھانے کا سلسلہ بند کرے، چین کا مطالبہ باب المندب کی بندش پوری دنیا کیلئے تباہ کن ہوگی: قطر کا اظہارِ تشویش ازبکستان کا 10 رکنی میڈیا وفد 7 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گیا حکومت ریلیف کا ڈرامہ بند اور پٹرولیم لیوی کا بھتہ ختم کرے: حافظ نعیم

صارفین کا ڈیجیٹل ڈیٹا خاموشی سے بڑے پیمانے پر جمع کیے جانے کا انکشاف

Web Desk

14 September 2026

اسلام آباد: جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کے بے درغ استعمال کے دور میں عالمی پلیٹ فارمز اور اسمارٹ فون ایپلی کیشنز کی جانب سے صارفین کا ذاتی اور حساس ڈیٹا خاموشی سے بڑے پیمانے پر جمع کیے جانے کے سنگین انکشافات سامنے آئے ہیں۔

ایک حالیہ ٹیکنالوجی ویڈیو اور سائبر ماہرین کے مطابق، فیس بک، انسٹاگرام اور گوگل جیسے عالمی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز صارفین کے اسمارٹ فونز اور آن لائن سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ یہ ایپس براؤزنگ ہسٹری، جی پی ایس لوکیشن، کانٹیکٹس، میڈیا فائلز اور مائیکروفون تک رسائی حاصل کر کے ذاتی معلومات، لوکیشن ہسٹری اور سرچ پیٹرنز کو اپنے سرورز پر محفوظ کر رہی ہیں۔

ماہرینِ ٹیکنالوجی کا کہنا ہے کہ بیشتر ایپس انسٹالیشن کے وقت ”Accept“ یا ”Allow“ کے بٹن کے ذریعے صارفین سے مختلف قسم کی اختیاری اور لازمی اجازتیں (Permissions) حاصل کر لیتی ہیں۔ عام صارفین تکنیکی تفصیلات اور پرائیویسی پالیسی کا ادراک کیے بغیر ان تمام شرائط کو قبول کر لیتے ہیں، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایپس نہ صرف آن لائن بلکہ آف لائن سرگرمیوں، ڈیوائس پیٹرنز اور لوکیشن سگنلز کا مسلسل ڈیٹا اکٹھا کرتی رہتی ہیں۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس طویل مدتی ڈیٹا اور جدید الگورتھمز (Algorithms) کا تجزیہ کر کے کمپنیوں کی جانب سے صارفین کے سیاسی نظریات، مذہبی رجحانات، خریدارانہ رویوں اور انتہائی ذاتی ترجیحات کا درست اندازہ لگایا جاتا ہے۔

علاوہ ازیں، رپورٹ میں یہ تعجب خیز حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ دنیا بھر میں فیس بک جیسے پلیٹ فارمز کے ڈاؤن لوڈز کا حجم اربوں میں ہے، جبکہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے مجموعی صارفین کی تعداد اس سے کم ہے۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ایک ہی صارف کا ڈیٹا متعدد ڈیوائسز اور اکاؤنٹس کے ذریعے ڈیجیٹل اسپیئرز میں کس حد تک پھیل چکا ہے۔ اس صورتحال نے جدید دنیا میں صارفین کے بنیادی پرائیویسی حقوق، ڈیٹا کے تحفظ اور ڈیجیٹل حقوق پر ایک بار پھر نوائے وقت کے لیے سوالات اٹھا دیے ہیں۔