LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
مظاہرین اپنے مؤقف پر قائم رہیں، احتساب کے مطالبے سے پیچھے نہ ہٹیں: باقر قالیباف امریکی صدر کی ایران کیخلاف ایک اور بڑے آپریشن کی دھمکی آر فور ممالک کا اجلاس، سعودیہ کیساتھ اظہار یکجہتی، خودمختاری، علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ این سی سی آئی اے کے نوٹس پر جاوید ہاشمی کا ردعمل: اپنے لفظوں پر قائم ہوں، گرفتاری سے نہیں ڈرتا وزیراعلیٰ بلوچستان نے چھوٹے انتظامی یونٹس کا قیام ناگزیر قرار دیدیا ابوظبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید کا یونان کا سرکاری دورہ مکمل امارات میں پاکستانیوں کیلئے ای پاسپورٹ کا اجرا، کم از کم فیس 145 درہم مقرر اسحاق ڈار سمیت آر فور ممالک کے وزرائے خارجہ کی ترک صدر اردوان سے ملاقات روس اور یوکرین کے درمیان 540 جنگی قیدیوں کا تبادلہ، 270 روسی فوجی ماسکو پہنچ گئے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی آئین اور قانون کے مطابق لگائی گئی: گورنر سندھ ماسکو میں ڈرون حملوں کا خطرہ، فضائی آپریشن کئی بار متاثر ہونے کے بعد دوبارہ بحال پٹرول کی قیمت برقرار، ڈیزل ایک روپے 91 پیسے فی لٹر مہنگا کسی کی دولت، اثر و رسوخ یا سیاسی تعلقات قانون سے نہیں بچا سکتے: مریم نواز بی آئی ایس پی پر اربوں روپے خرچ، غربت میں کمی کا ہدف بدستور چیلنج : حافظ نعیم الرحمٰن لاہور ہائیکورٹ کا موٹروے اور ملتان میں شجرکاری منصوبوں پر عمل درآمد کا حکم

سینیٹ کمیٹی میں ایم ڈی کیٹ اور میڈیکل داخلہ نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی سفارشات

Web Desk

15 September 2026

سینیٹ کی ذیلی کمیٹی کی رپورٹ سینیٹر انوشہ رحمان نے پیش کی، جبکہ کمیٹی میں سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری اور سینیٹر شاہ زیب درانی بھی شامل ہیں، رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ ایم ڈی کیٹ سال میں دو مرتبہ منعقد کیا جائے تاکہ امتحان میں ناکامی کی صورت میں طالب علم کا پورا سال ضائع نہ ہو۔

رپورٹ میں ایم ڈی کیٹ کے موجودہ 50 فیصد ویٹیج کو کم کرکے 30 فیصد کرنے پر غور کرنے اور میڈیکل داخلے کے لیے صرف ایک امتحان پر انحصار کم کرنے کی سفارش کی گئی ہے، ایم ڈی کیٹ میں نیگیٹو مارکنگ متعارف کرانے کے اثرات کا بھی جائزہ لینے کی تجویز دی گئی ہے۔

ذیلی کمیٹی نے ایم ڈی کیٹ کے نتائج کو تین سال تک قابلِ استعمال رکھنے کے اثرات کا جائزہ لینے، امتحان کی تاریخ بہت پہلے جاری کرنے اور غیر معمولی حالات کے سوا تاریخ تبدیل نہ کرنے کی سفارش بھی کی ہے، مبہم، غلط یا متنازع سوالات کے خلاف باقاعدہ شکایتی اور ریویو نظام بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایف ایس سی، اے او لیول، او لیول اور آئی بی طلبہ کے لیے ایم ڈی کیٹ کو یکساں اور منصفانہ بنانے کی ضرورت ہے، جبکہ نصاب کی تیاری میں کیمبرج، او/اے لیولز اور آئی بی ماہرین کو بھی شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے، طلبہ کی ایم ڈی کیٹ تیاری کے لیے مہینوں اکیڈمیوں پر انحصار ختم کرنے کے اقدامات بھی تجویز کیے گئے ہیں۔

ذیلی کمیٹی نے میڈیکل کالجز میں نشستوں میں اضافے کے لیے پانچ سالہ منصوبہ بنانے اور سرکاری میڈیکل کالجز میں نشستوں کی مرحلہ وار توسیع کا جائزہ لینے کی سفارش کی ہے، بلوچستان، آزاد کشمیر سمیت پسماندہ علاقوں میں میڈیکل تعلیم کے مواقع بڑھانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ 2024 میں تقریباً ایک لاکھ 69 ہزار 520 امیدواروں نے ایم ڈی کیٹ دیا، جن میں سے تقریباً 16 ہزار 648 امیدوار کامیاب ہوئے، جبکہ ملک میں میڈیکل و ڈینٹل نشستوں کی تعداد تقریباً 22 ہزار 300 ہے، رپورٹ میں اہل امیدواروں کی کم تعداد اور دستیاب نشستوں کے درمیان فرق کو موجودہ داخلہ پالیسی کے حوالے سے اہم سوال قرار دیا گیا ہے۔

ذیلی کمیٹی نے کہا کہ حالیہ برسوں میں 40 ہزار سے زائد اہل پاکستانی ڈاکٹرز بیرونِ ملک ملازمت کے لیے منتقل ہوئے، اس لیے ملک میں ڈاکٹروں کی ضرورت کے باوجود میڈیکل تعلیم کے مواقع محدود رکھنے کی پالیسی پر نظرثانی ضروری ہے، ڈاکٹروں کی تعداد محدود رکھنے کے بجائے میڈیکل افرادی قوت بڑھانے کی پالیسی اپنانے کی سفارش کی گئی ہے۔

رپورٹ میں نجی میڈیکل کالجز کی بھاری فیسوں کا جائزہ لینے، مستحق طلبہ کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے اور خالی میڈیکل نشستوں کے مؤثر استعمال کی سفارش بھی کی گئی ہے، سیلاب، قدرتی آفات اور سکیورٹی صورتحال سے متاثر ایم ڈی کیٹ امیدواروں کے لیے مستقل ریلیف میکنزم بنانے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

سینیٹ ذیلی کمیٹی نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کو ایم ڈی کیٹ رجسٹریشن، نتائج، نشستوں اور داخلوں کا مکمل سالانہ ڈیٹا جاری کرنے، فوری شکایتی نظام، فاسٹ ٹریک ای میل اور مؤثر کال سینٹر قائم کرنے کی سفارش کی ہے۔

رپورٹ میں ایم ڈی کیٹ پالیسی میں تبدیلی سے قبل قانونی جانچ اور باقاعدہ منظوری لازمی بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے، ذیلی کمیٹی نے مجموعی طور پر میڈیکل داخلہ نظام کو زیادہ شفاف، جوابدہ، منصفانہ، میرٹ پر مبنی اور ملکی ضرورت کے مطابق بنانے کے لیے جامع اصلاحات ناگزیر قرار دی ہیں۔