LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سعودی عرب کی جانب سے ایران کو حوثی باغیوں کو لگام دینے کا پیغام پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بے قابو، مسلسل چوتھے روز بھی اضافہ وزیراعظم اپنا گھر پروگرام: ہاؤسنگ فنانسنگ میں اہم پیش رفت، 351 ارب روپے کے قرضے منظور ہیلری کلنٹن نے ٹرمپ کو جھوٹ بولنے کے اولمپک چیمپئن قرار دے دیا برطانوی ادارے کا پاکستان کے ٹرانسمیشن سیکٹر میں سرمایہ کاری میں اظہار دلچسپی وزیراعظم سے گیٹس فاؤنڈیشن کے وفد کی ملاقات، پولیو کے خاتمے، ڈیجیٹل ادائیگیوں پر گفتگو وزیر خزانہ سے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اے سی سی اے گلوبل کی ملاقات، معاشی اصلاحات پر گفتگو قطر سے 81 ہزار 936 میٹرک ٹن ایل این جی لے کر جہاز پورٹ قاسم پہنچ گیا الجزائر کا متحدہ عرب امارات سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا فیصلہ مشرقی چین میں مال بردار جہاز میں خوفناک آتشزدگی، 20 افراد ہلاک آزاد کشمیر کی ترقیاتی ترجیحات کا جائزہ، اسحاق ڈار کی عملدرآمد تیز کرنے کی ہدایت ایران نے 27 ایئرلائنز پر امریکی پابندیوں کو معاشی دہشت گردی قرار دے دیا سہیل آفریدی، مینا خان سمیت 4 ملزموں کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی آنکھوں کے امراض کی بروقت تشخیص سے بینائی کے نقصان سے بچا جا سکتا ہے: گورنر سندھ

نورا فتحی کیخلاف 3 کروڑ روپے ہرجانے اور ہتکِ عزت کا دعویٰ

Web Desk

9 September 2026

بالی ووڈ فلم انڈسٹری کی معروف مراکشی نژاد کینیڈین اداکارہ اور ڈانسر نورا فتحی کی جانب سے سفر کے لیے استعمال کی جانے والی ایک چارٹرڈ پرواز کو ’کھلونا جہاز‘ قرار دینا انہیں مہنگا پڑ گیا ہے۔ ایک نجی ایوی ایشن کمپنی نے اداکارہ کے خلاف 3 کروڑ بھارتی روپے کے ہرجانے اور ہتکِ عزت کا قانونی دعویٰ دائر کر دیا ہے، جس پر گاندھی نگر کی عدالت نے سماعت کے لیے 25 ستمبر کی تاریخ مقرر کر دی ہے۔

درخواست گزار ایوی ایشن کمپنی کے مطابق یہ واقعہ گزشتہ سال دسمبر میں اس وقت پیش آیا تھا جب نورا فتحی نے ممبئی سے جے پور کے سفر کے دوران چارٹرڈ طیارے کے اندر متعدد ویڈیوز بنائیں اور اس طیارے کو چھوٹا کھلونا اور ’لیگو ایئرپلین‘ قرار دیتے ہوئے مواد اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شیئر کر دیا۔ کمپنی نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ اداکارہ کے 4.6 کروڑ سے زائد سوشل میڈیا فالوورز ہیں اور ان کے اس غیر ذمہ دارانہ اور حقیقت کے برعکس توہین آمیز تبصرے کی وجہ سے کمپنی کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا، جس کے بعد پروازوں کی بکنگ میں 15 سے 20 فیصد تک کی بڑی کمی واقع ہوئی۔ کمپنی نے واضح کیا کہ وہ طیارہ مکمل طور پر پرواز کے لیے محفوظ اور ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (DGCA) سے منظور شدہ تھا، لہٰذا عدالت نورا فتحی کو وہ تمام مواد فوری طور پر ہٹانے اور عوامی سطح پر معافی مانگنے کا حکم دے