LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایل این جی کی قیمتوں میں بڑی کمی، اوگرا نے نوٹیفکیشن جاری کردیا روسی اخبارات میں سی آئی اے چیف کے دورہ ماسکو، برطانیہ کو روسی انتباہ اور سوئس پابندیوں کے مستقبل پر بحث پنجاب اسمبلی میں بجلی کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور پاکستان کے پورٹ سسٹم میں اصلاحات، 85 اقدامات پر عملدرآمد پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن میں مالی گوشواروں کی تفصیلات جمع کرادیں نو منتخب وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی نے عہدے کا حلف اٹھا لیا این ای ڈی یونیورسٹی اور پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ایران نے امریکی پابندیوں کو ریاستی دہشتگردی قرار دے دیا ہاکی ورلڈ کپ: پاکستان نے جنوبی افریقہ کو ہرا کر 11ویں پوزیشن حاصل کرلی برطانیہ نے امریکا ایران جنگ میں پاکستان کا کردار سراہا: اسحاق ڈار فیلڈ مارشل سے سعودی وزیر ماحولیات کی ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال سپریم کورٹ نے کے پی ملازمین کی سینیارٹی کیس کا فیصلہ سنا دیا مسلم لیگ (ن) کے بیرسٹر افتخار گیلانی آزاد کشمیر کے 17 ویں وزیراعظم منتخب اسحاق ڈار کی سعودی اور ترک وزرائے خارجہ سے گفتگو، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال مکہ معاہدے میں شمولیت کی دعوت ملی تو ضرور غور کریں گے: بنگلہ دیش

فلو کتنا جان لیوا اور کن افراد کیلئے زیادہ خطرناک ہوسکتا ہے؟

Web Desk

28 August 2026

اسلام آباد: طبی ماہرین اور عالمی صحتی اداروں کے مطابق انفلوئنزا (فلو) محض ایک معمولی وائرل انفیکشن نہیں بلکہ سنگین پیچیدگیوں کی صورت میں ایک جان لیوا بیماری ثابت ہو سکتا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں ہر سال لاکھوں افراد لقمیہ اجل بن جاتے ہیں۔

امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (CDC) اور عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق، دنیا بھر میں ہر سال موسمی فلو کے باعث سانس کی بیماریوں سے 2 لاکھ 90 ہزار سے 6 لاکھ 50 ہزار تک اموات ہوتی ہیں۔ فلو براہِ راست اور بالخصوص ثانوی پیچیدگیوں جیسے کہ نمونیا، پھیپھڑوں میں شدید سوزش، اور سیپسس (Sepsis) کے باعث موت کا سبب بنتا ہے۔ یہ بیماری دل، دماغ اور پٹھوں کے ٹشوز کو متاثر کرنے کے علاوہ پہلے سے موجود دائمی امراض جیسے دمہ اور امراضِ قلب کو مزید بگاڑ دیتی ہے۔ بزرگ، چھوٹے بچے، حاملہ خواتین اور کمزور مدافعتی نظام کے حامل افراد اس کے سب سے زیادہ نشانہ بنتے ہیں۔

فلو کی ہنگامی اور خطرناک علامات

طبی ماہرین کے مطابق درج ذیل شدید علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر ہسپتال یا ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے:

  • بالغ افراد میں: سانس لینے میں شدید دشواری، سینے یا پیٹ میں درد و دباؤ، شدید چکر آنا، ذہنی الجھن، دورے پڑنا، پیشاب کی شدید کمی، اور پٹھوں کی کمزوری۔

  • بچوں میں: 104 ڈگری فارن ہائیٹ (40°C) سے زیادہ بخار، چہرے یا ہونٹوں کا نیلا پڑنا، ہوش مندی میں کمی، پانی کی کمی (روتے ہوئے آنسو نہ آنا)، اور 8 گھنٹے تک پیشاب نہ آنا۔

بچاؤ اور حفاظتی تدابیر

عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق فلو سے بچاؤ کا سب سے موثر اور بہترین طریقہ سالانہ فلو ویکسینیشن ہے۔ 6 ماہ سے 5 سال تک کے بچوں، 65 سال سے زائد العمر افراد، حاملہ خواتین، اور دائمی مریضوں کے لیے ویکسین لگوانا انتہائی ضروری ہے۔ علاوہ ازیں، باقاعدگی سے صابن سے ہاتھ دھونا، چھینکتے یا کھانستے وقت ناک اور منہ کو ڈھانپنا، اور علامات ظاہر ہونے کی صورت میں خود کو گھر تک محدود رکھنا بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔