LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مسلم لیگ (ن) کے بیرسٹر افتخار گیلانی آزاد کشمیر کے 17 ویں وزیراعظم منتخب اسحاق ڈار کی سعودی اور ترک وزرائے خارجہ سے گفتگو، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال مکہ معاہدے میں شمولیت کی دعوت ملی تو ضرور غور کریں گے: بنگلہ دیش قومی اسمبلی اور سینیٹ میں سانحہ پمز پر خصوصی پارلیمانی کمیٹی بنانے کی قرارداد منظور امریکی قونصل خانہ کراچی کا لنکن کارنر میں “روڈ ٹو لبرٹی” بانیانِ امریکہ میوزیم نمائش کا باقاعدہ آغاز ایشین گیمز 2026ء: شرکاء کی تعداد 17 ہزار تک پہنچ گئی، منتظمین کو رہائش کے بحران کا سامنا وزیرِ اعظم شہباز شریف کی ایف بی آر اصلاحات پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس کی صدارت سانحہ پمز: راجہ پرویز اشرف کا قومی اسمبلی میں شدید احتجاج، پارلیمانی کمیٹی بنانے کا مطالبہ سینیٹ اجلاس: سانحہ پمز پر اپوزیشن و حکومت کے درمیان شدید نوک جھونک، پالیسی اصلاحات کا مطالبہ سپریم کورٹ کا ستائیسویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواست وصول کرنے سے انکار اشرافیہ کے پرائیویٹ علاج پر پابندی سے سرکاری ہسپتال بہتر ہوں گے: سینیٹر پرویز رشید میچ کے وقفے میں عمران خان کے بیٹوں کا انٹرویو نشر، پاکستان کرکٹ بورڈ کا احتجاج ریاست امن و امان برقرار رکھنے کی اپنی ذمہ داری پوری کرے گی: محسن نقوی پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تمام شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیراعظم کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ تیار، پمز ہسپتال کے افسران و سٹاف کی غفلت ثابت

مکہ معاہدے میں شمولیت کی دعوت ملی تو ضرور غور کریں گے: بنگلہ دیش

Web Desk

28 August 2026

ڈھاکہ: بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان نے اعلان کیا ہے کہ اگر ان کے ملک کو مکہ معاہدے (Makkah Pact) میں شمولیت کی باضابطہ دعوت دی گئی تو بنگلہ دیش اس پر مثبت انداز میں غور کرے گا۔

بنگلہ دیشی پارلیمنٹ میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیر خارجہ خلیل الرحمان نے کہا کہ ان کا ملک مکہ معاہدے کو انتہائی مثبت نظر سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس معاہدے میں توسیع عالمی مسلم برادری کے مشترکہ دفاع کے لیے ایک اہم اور مثبت اقدام ثابت ہو گی، جبکہ یہ معاہدہ مکمل طور پر مسلم ممالک کا داخلی معاملہ ہے اور اس حوالے سے کسی بھی قسم کی عالمی تشویش کی گنجائش نہیں ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ مکہ معاہدے کے بانی ممالک ہیں، جس کا بنیادی مقصد رکن ممالک کے درمیان دفاعی اور سیکیورٹی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔ اس معاہدے کی اہم شق کے تحت کسی بھی ایک رکن ملک پر حملہ تمام دفاعی اتحادی ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس معاہدے میں دیگر اسلامی ممالک کے لیے بھی شمولیت کے دروازے کھلے رکھے گئے ہیں اور مصر سمیت متعدد مسلم ممالک اس میں شامل ہونے کی خواہش اور آمادگی ظاہر کر چکے ہیں۔