LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پمز واقعہ کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی ہو گی، خود کو احتساب کیلئے پیش کرتا ہوں: مصطفیٰ کمال پمز واقعے کے سی سی ٹی وی سمیت تمام شواہد محفوظ کر لیے گئے ہیں: طلال چوہدری ہسپتال واقعہ: حافظ نعیم نے حکومتی گڈ گورننس کے دعووں پر سوالات اٹھا دیے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر نئے امیگریشن کاؤنٹرز فعال اسحاق ڈار کی لندن میں پاکستان نژاد برطانوی ارکان پارلیمنٹ سے ملاقات پمز واقعہ: لاپرواہی ثابت ہوئی تو کسی کو نہیں چھوڑا جائے گا، وفاقی وزیر صحت پمز ہسپتال میں زیادہ بچوں کی اموات دم گھٹنے سے ہوئیں: طارق فضل چودھری سعودی کابینہ کا آبی گزرگاہوں کو کھلا اور محفوظ رکھنے کی ضرورت پر زور سیرتِ محمدیؐ کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنانا ہو گا، مریم نواز وزیراعظم کا پمز ہسپتال آتشزدگی کا نوٹس، واقعہ کی فوری تحقیقات کا حکم ملک بھر میں عید میلاد النبیﷺ مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منائی جا رہی ہے پنجاب اور شن جیانگ میں زراعت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق اسلام آباد کے پمز ہسپتال کے نرسری وارڈ میں آتشزدگی، 14 نومولود جاں بحق خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پوری انسانیت کیلیے رحمت بن کر تشریف لائے، محسن نقوی حضور نبی اکرم ﷺ کی آمد انسانیت کیلئے ہدایت کا ذریعہ ہے، گورنر پنجاب

آسٹریلیا: اے آئی سے تیار کردہ گانوں کو میوزک چارٹس سے خارج کرنے کا فیصلہ

Web Desk

26 August 2026

کینبرا: آسٹریلیا میں مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے مکمل طور پر تیار کیے جانے والے گانوں کو ملک کے سرکاری اور مستند میوزک چارٹس سے خارج کرنے کا اہم فیصلہ سامنے آیا ہے۔

آسٹریلین ریکارڈنگ انڈسٹری ایسوسی ایشن (ARIA) نے باضابطہ اعلان کیا ہے کہ رواں ہفتے سے جنریٹو اے آئی کے ذریعے بنائے گئے ایسے گانے، جن میں انسانوں کا تخلیقی کردار شامل نہیں ہے، وہ مشہور “اے آر آئی اے چارٹس” (ARIA Charts) میں شامل ہونے کے اہل نہیں ہوں گے۔

تاہم تنظیم نے واضح کیا کہ اگر کسی گانے کی تیاری میں مصنوعی ذہانت کا استعمال صرف ایک معاون ٹول (Assisting Tool) کے طور پر کیا گیا ہو اور اس کا اصل تخلیقی و بنیادی کام انسانوں نے ہی سرانجام دیا ہو، تو ایسے گانوں کو چارٹس کی درجہ بندی میں جگہ مل سکے گی۔

موسیقی کی صنعت کے ماہرین نے اس فیصلے کو انسانی فنکارانہ صلاحیتوں کے دفاع اور تخلیقی حقوق کے تحفظ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔