LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
دبئی سے اسرائیل جانے والی پرواز کی سعودی عرب میں ہنگامی لینڈنگ کے پی حکومت گورننس اور دہشت گردی روکنے میں مکمل ناکام، سیاست کو زندگیوں پر ترجیح دی جا رہی ہے: وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ FIA انسداد دہشت گردی ونگ کی بڑی کارروائی، افغانیوں کے منسوخ شدہ شناختی کارڈ بحال کرنے والا نادرا کا اسسٹنٹ ڈائریکٹر گرفتار سندھ طاس معاہدہ پاکستانیوں کی زندگی اور بقا کا مسئلہ، یکطرفہ معطلی غیر قانونی ہے: عطاء تارڑ ایف بی آر کا اسٹیل سیکٹر کے لیے بڑا اقدام، سیلز ٹیکس کی نئی شرحیں مقرر ایف بی آر کا سخت فیصلہ، مانیٹرنگ سسٹم سے منسلک نہ ہونے والے کاروباری مراکز سیل کرنے کا اعلان ورلڈکپ 2027: پاکستان اور بھارت کو پھر ایک ہی گروپ میں رکھنے کا امکان صومالیہ میں ہائی جیک جہاز پر آپریشن، جاں بحق پاکستانی سیکنڈ آفیسر کاشف عمر کے اہل خانہ کا وزیراعظم سے لاشیں مانگنے کی اپیل 9مئی مقدمہ: نامزد ملزم کا نام پی سی ایل سے نکالنے کی درخواست خارج امریکا نے ایران اور روسی اداروں پر نئی پابندیاں عائد کر دیں امریکی سینیٹر برنی سینڈرز کا اسرائیل کو فوجی امداد بند کرنے کا مطالبہ امریکا اور اسرائیل اب ایران میں اندورنی تقسیم پیدا کرنا چاہتے ہیں: مسعود پزشکیاں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات ایک بار پھر ناکام پاکستان سٹاک مارکیٹ میں 400 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کو امیگرینٹس کی تیسرے ملک بے دخلی کی اجازت دے دی

انٹرنیٹ کا 35 فی صد نیا مواد اے آئی سے تحریر کیے جانے کا انکشاف

Web Desk

24 August 2026

پیُو ریسرچ سینٹر کی ایک جدید تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی کے اجرا کے بعد انٹرنیٹ پر شائع ہونے والے 35 فیصد سے زائد نئے ویب پیجز میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے تحریر یا ایڈیٹنگ کیے جانے کے واضح آثار پائے گئے ہیں۔ محققین نے گزشتہ پانچ برسوں کے پانچ لاکھ سے زائد انگریزی ویب پیجز کو ‘اوپن پروگرام’ نامی ٹول کے ذریعے جانچنے کے بعد بتایا کہ مجموعی طور پر 10 فیصد پیجز پر اے آئی کا عمل دخل رہا، لیکن حالیہ عرصے میں اس کی شرح تیزی سے بڑھی ہے۔ یہ نتائج ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب انٹرنیٹ پر انسانی مواد کے بجائے بوٹس اور خودکار نظاموں کے غلبے یعنی “ڈیڈ انٹرنیٹ تھیوری” کے حوالے سے عالمی خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے مستقبل میں انسانی اور اے آئی مواد کے درمیان فرق کرنا انتہائی دشوار ہو جائے گا۔