نیوزی لینڈ کا 16 سال سے کم عمر افراد کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کا فیصلہ
Web Desk
25 August 2026
ویلنگٹن: نیوزی لینڈ حکومت نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر مکمل پابندی عائد کرنے کے لیے قانون سازی کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیراعظم کرسٹوفر لکسن نے اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت جلد ہی اس حوالے سے ایک نیا بل پارلیمنٹ میں پیش کرے گی۔ مجوزہ قانون کے تحت 16 سال سے کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنانا اور استعمال کرنا ممنوع ہوگا۔ سوشل میڈیا کمپنیوں کو اپنے پلیٹ فارمز پر صارفین کی عمر کی تصدیق کے لیے چہرے کی شناخت، موجودہ اکاؤنٹ کی معلومات اور ڈیجیٹل شناختی دستاویزات جیسے موثر ذرائع استعمال کرنے کی پابندی ہوگی۔
قانون کی خلاف ورزی کرنے والی ٹیک کمپنیوں کے خلاف سخت ترین اقدامات کی تجویز دی گئی ہے، جس کے تحت پابندی نہ کرنے والے پلیٹ فارمز پر ان کی عالمی سالانہ آمدنی کا 10 فیصد تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔
وزیراعظم کرسٹوفر لکسن کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی نشہ آور الگورتھمز اور مضر مواد نوجوان نسل کی ذہنی صحت، نیند، تعلیم اور خاندانی ماحول کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ اس پابندی کا سو فیصد نفاذ ایک چیلنج ہوگا، لیکن بچوں کی تحفظ اور بہتری کے لیے یہ قدم اٹھانا انتہائی ناگزیر ہو چکا ہے۔
متعلقہ عنوانات
سپارکو نے پاکستان سپیس بیسڈ آگمینٹیشن سسٹم متعارف کرا دیا
8 November 2026
میٹا نے متنازع تبدیلی کے حوالے سے فیصلہ واپس لے لیا
8 November 2026
پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنے کے لیے 6 کمپنیاں رجسٹرڈ
7 November 2026
میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76 ہزار اکاؤنٹس بند کردیے
6 November 2026
خوش مزاج بچی کو خودکشی کے دہانے پہنچا دیا: والدین کا گوگل پر مقدمہ
6 November 2026
پاکستان اور روس کا آئی ٹی، مصنوعی ذہانت اور جدید کمپیوٹنگ میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
6 November 2026
امریکی کمپنی کا رات کو سورج کی روشنی بیچنے کا منصوبہ
6 November 2026
خلائی دوربین کا 22 سالہ مشن اختتام پذیر، ملبہ زمین پر گرنے کا خدشہ
6 November 2026