LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ناروے کے وزیر خارجہ کی جی ایچ کیو آمد، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات منشیات کیس: عدالت نے ملزمہ انمول عرف پنکی کو بری کر دیا کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے 8 اہلکاروں کو اغوا کرلیا: آزاد کشمیر پولیس قومی اسمبلی اور سینیٹ کا اجلاس 17 اگست کو طلب کرنے کا فیصلہ براڈ پیک حادثے میں لاپتہ ہونے والے پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی کی لاش مل گئی پاکستان کی پہلی چاند گاڑی کا نام جناح-1 رکھ دیا گیا اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی تنخواہوں اور مراعات میں بڑا اضافہ اسرائیلی فورسز جنوبی لبنان میں گھروں کو تباہ اور نذرِ آتش کر رہی ہے: لبنانی میڈیا ملک بھر کیلئے فی یونٹ بجلی مسلسل 3 ماہ تک مہنگی ہونے کا امکان کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے 8 اہلکاروں کو اغوا کرلیا: آزاد کشمیر پولیس سعودیہ، ترکیہ اور پاکستان کا دفاعی معاہدہ علاقائی استحکام کیلئے اہم ہے: فلسطینی صدر پاکستان کی قیادت نے امریکا ایران جنگ کے دوران جرأت مندانہ کردار ادا کیا: ناروے بلوچستان میں گیس کی فراہمی معطل، بولان میں پائپ لائن دھماکے سے متاثر پاکستان کی بڑی جیت، چاول برآمدگی کیس میں بھارت کی اپیل خارج یمنی حوثیوں کا سعودی عرب سے جارحیت روکنے اور ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ

دنیا بھر میں لاکھوں افراد آج نایاب سورج گرہن کا مشاہدہ کریں گے!

Web Desk

12 August 2026

دنیا بھر میں لاکھوں افراد آج ایک انتہائی نایاب مکمل سورج گرہن کے سحر انگیز نظارے کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ فلکیاتی ماہرین کے مطابق اس مکمل سورج گرہن کا سب سے بہترین اور مکمل نظارہ گرین لینڈ، آئس لینڈ، سپین، شمالی بحرِ اوقیانوس اور شمالی روس میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں چاند نے سورج کو مکمل طور پر اپنے پیچھے چھپا لیا ہے اور دن کے وقت چند لمحوں کے لیے سورج کا روشن بیرونی ہالہ (کورونا) نمایاں ہو گیا ہے۔

اگرچہ یہ مکمل سورج گرہن عرب ممالک میں نہیں دیکھا جا سکے گا، تاہم شمالی اور مغربی افریقہ کے کچھ حصوں میں شدید جزوی گرہن کا نظارہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ الجزائر میں بعض مقامات پر سورج کا 96 فیصد حصہ چاند کے نیچے ڈھک جائے گا، جبکہ مراکش کے دارالحکومت رباط میں 88 فیصد، تیونس میں 50 فیصد اور موریطانیہ میں 46 فیصد تک جزوی گرہن رہے گا۔ ماہرینِ فلکیات نے شہریوں کو سخت ہدایت کی ہے کہ سورج گرہن کا نظارہ کبھی بھی ننگی آنکھ سے نہ کریں بلکہ اس مقصد کے لیے صرف تصدیق شدہ سولر فلٹر یا مخصوص فلکیاتی چشموں کا استعمال یقینی بنائیں۔