LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
قطر کی عراق کے نیم خودمختار کردستان خطے پر ایرانی حملوں کی شدید مذمت ایران کا امریکا پر ایک اور ’’کھلی جنگی جارحیت‘‘ کا الزام ایران کیخلاف بحری ناکہ بندی: 3 روز میں 4 تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا: سینٹ کام ایران کا امریکی بحری جہاز پر حملہ، بحرین میں امریکی ڈرونز کے ڈپو کو نشانہ بنانے کا دعویٰ ایران کے مختلف شہروں میں دھماکے، خارگ جزیرے کے قریب آئل ٹینکر پر بھی حملہ: ایرانی میڈیا امریکا نے ایران میں مزید حملے کیے تو جنگ کا رخ بدل سکتا ہے، مشیر ایرانی سپریم لیڈر ایرانی سپریم لیڈر کے ہر حکم پر عمل کریں گے؛ حوثی کمانڈر کا دوٹوک اعلان ناروے میں خوفناک آتشزدگی، 100 سے زائد گھر جل گئے ایرانی فوجی صلاحیتیں کمزور کرنے کا مشن، امریکا کے مسلسل ساتویں رات ایران پر حملے حکومت بلوچستان اور دھرنا کمیٹی کے مذاکرات کامیاب، تحریری معاہدہ طے پا گیا ایرانی وزارت توانائی کی شہریوں سے بجلی کا استعمال کم کرنے کی اپیل 27 جولائی کو جب کشمیر میں ڈبے کھلیں گے تو ہر طرف شیر ہی شیر ہوگا: مریم اورنگزیب خطے کے پانیوں میں امریکی فوج کی نقل و حرکت، انکے فوجی ساز و سامان پر نظر ہے: ایران فارما سیوٹیکل صنعت کو عالمی سطح پر نمایاں کرنے کا منصوبہ پیش کر دیا: مصطفیٰ کمال خلائی سائنسدانوں کے استعفوں کے بعد مودی سرکار پریشان، رضاکارانہ ریٹائرمنٹ اور استعفوں پر پابندی لگادی

چین میں پل کے نیچے آباد انوکھا رہائشی منصوبہ، ہزاروں افراد برسوں سے مقیم

Web Desk

17 July 2026

چین کے شہر گویانگ میں واقع شوئیکوسی پُل کے نیچے قائم ایک منفرد اور انوکھا رہائشی منصوبہ آج بھی دنیا بھر کے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ 1997 میں تعمیر ہونے والے اس پُل کے دو سال بعد یعنی 1999 میں، شہر میں سستی رہائش کے لیے زمین کی شدید قلت کے باعث حکام نے پل کے نیچے موجود خالی جگہ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہاں کم لاگت والے اپارٹمنٹس تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ابتدائی مرحلے میں یہاں تقریباً 10 رہائشی عمارتیں تعمیر کی گئیں، جنہیں کم آمدنی والے خاندانوں اور بے گھر افراد کی آبادکاری کے لیے استعمال کیا گیا، اور بعد میں مزید عمارتیں بھی بنا دی گئیں۔ اگرچہ پُل کے اوپر سے گزرتی گاڑیوں کی مسلسل آوازیں اور وائبریشن (کمپن) یہاں کے مکینوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہیں، لیکن مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ شہر کے بالکل وسط اور مرکز میں سستے کرائے پر رہائش کی سہولت اس تکلیف سے کہیں زیادہ قیمتی ہے، جس کی وجہ سے انہوں نے اب اس شور کو اپنی زندگی کا معمول سمجھ کر قبول کر لیا ہے۔