LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم فضائی آلودگی میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست صدر اور وزیراعظم کا دیوالی پر ملک میں اتحاد، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ پر زور امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا کل سے آغاز: بابر اعظم اور کوشال مینڈس اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے

چین میں پل کے نیچے آباد انوکھا رہائشی منصوبہ، ہزاروں افراد برسوں سے مقیم

Web Desk

17 July 2026

چین کے شہر گویانگ میں واقع شوئیکوسی پُل کے نیچے قائم ایک منفرد اور انوکھا رہائشی منصوبہ آج بھی دنیا بھر کے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ 1997 میں تعمیر ہونے والے اس پُل کے دو سال بعد یعنی 1999 میں، شہر میں سستی رہائش کے لیے زمین کی شدید قلت کے باعث حکام نے پل کے نیچے موجود خالی جگہ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہاں کم لاگت والے اپارٹمنٹس تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ابتدائی مرحلے میں یہاں تقریباً 10 رہائشی عمارتیں تعمیر کی گئیں، جنہیں کم آمدنی والے خاندانوں اور بے گھر افراد کی آبادکاری کے لیے استعمال کیا گیا، اور بعد میں مزید عمارتیں بھی بنا دی گئیں۔ اگرچہ پُل کے اوپر سے گزرتی گاڑیوں کی مسلسل آوازیں اور وائبریشن (کمپن) یہاں کے مکینوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہیں، لیکن مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ شہر کے بالکل وسط اور مرکز میں سستے کرائے پر رہائش کی سہولت اس تکلیف سے کہیں زیادہ قیمتی ہے، جس کی وجہ سے انہوں نے اب اس شور کو اپنی زندگی کا معمول سمجھ کر قبول کر لیا ہے۔