خلائی سائنسدانوں کے استعفوں کے بعد مودی سرکار پریشان، رضاکارانہ ریٹائرمنٹ اور استعفوں پر پابندی لگادی
Web Desk
17 July 2026
بھارتی خلائی ادارے اسرو (ISRO) میں 120 خلائی سائنسدانوں کے اچانک استعفوں کے بعد بھارتی حکومت شدید پریشانی کا شکار ہو گئی ہے، جس کے ردعمل میں محکمہ خلاء نے سائنسدانوں کی رضاکارانہ ریٹائرمنٹ اور استعفوں پر سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ نئی پالیسی کے تحت اب سائنسدانوں کی رضاکارانہ ریٹائرمنٹ کا فیصلہ ڈیپارٹمنٹ ہیڈ نہیں کر سکے گا، بلکہ ہر کیس کی سماعت خلائی ادارے کے ہیڈ کوارٹر میں ہوگی۔ بھارتی میڈیا کے مطابق گگن یان اور دیگر اہم خلائی منصوبوں پر کام کرنے والے ماہرین اور انجینئرز کی جانب سے استعفوں کی درخواستوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کی بڑی وجہ سرکاری اداروں کا فرسودہ نظام اور نجی شعبے میں ملنے والی زیادہ تنخواہیں ہیں۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ 2020 میں نجی شعبے کے لیے خلائی میدان کھولنے کے بعد بھارت میں 400 سے زائد اسپیس اسٹارٹ اپس قائم ہو چکے ہیں، جنہوں نے اب تک تقریباً 500 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی ہے اور یہی نجی ادارے اب سرکاری سائنسدانوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔
متعلقہ عنوانات
فارما سیوٹیکل صنعت کو عالمی سطح پر نمایاں کرنے کا منصوبہ پیش کر دیا: مصطفیٰ کمال
17 July 2026
پٹرولیم قیمتوں کی ڈی ریگولیشن مسترد، پٹرول پمپ مالکان کی ہڑتال کی دھمکی
17 July 2026
پاسدارانِ انقلاب کا قطر میں امریکی العدید ایئر بیس کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
17 July 2026
عوام پر مہنگائی کا ایک اور بم: پٹرول 5 روپے 44 پیسے اور ڈیزل ریکارڈ 31 روپے 5 پیسے مہنگا
17 July 2026
ایرانی حملے میں بجلی اور ڈی سیلینیشن پلانٹ کو نقصان پہنچا: کویت
17 July 2026
امریکا نے غیرملکی طلبہ اور صحافیوں کے ویزا قوانین سخت کر دیے، قیام کی مدت مقرر
17 July 2026
پیٹرولیم مصنوعات:حکومتی اقدام کو “لوٹ مار” اور “ڈاکہ” قرار,حافظ نعیم الرحمان
17 July 2026
اوگرا روزانہ کی بنیاد پر پٹرولیم قیمتوں کا تعین کرے گی: وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک
17 July 2026