LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس کی کڑی تنقید؛ “ہزاروں کا قتل کرنے والے حقِ حکمرانی کھو چکے یوکرینی حملوں سے ایک ہفتے میں 38 روسی شہری ہلاک ہوئے: ماریہ زخارووا سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے قتل کا بدلہ لیا جائے گا: سربراہ پاسداران انقلاب گلگت بلتستان کی تعمیر و ترقی حکومت کی اولین ترجیحات ہے: وزیراعظم وزیراعظم سے اقوام متحدہ کی سیکرٹری شپ کے امیدواروں کی ملاقاتیں، عالمی امن کے عزم کا اعادہ جدید جوڈیشل ٹاور منصوبے کا آغاز، چیف جسٹس عالیہ نیلم کل سنگِ بنیاد رکھیں گی وفاقی آئینی عدالت نے نسلہ ٹاور مسماری کے متعلق سپریم کورٹ کے احکامات واپس لے لئے سینیٹ آبی وسائل کمیٹی؛ 508 ارب کا نیلم جہلم منصوبہ ٹنل فالٹ کے باعث بند، 2028ء میں دوبارہ فعال کرنے کا ہدف، بجلی کے بریک ڈاؤن اور لوڈشیڈنگ کا خاتمہ؛ ترسیلی نظام کو جدید بنانے کے لیے ورلڈ بینک کی 37 کروڑ 59 لاکھ ڈالرز کی منظوری سعودیہ اور کینیڈا کی آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کی مذمت کے ٹو ائیرویز طیارہ حادثہ؛ اورماڑہ کے قریب گہرے سمندر میں ریسکیو آپریشن تیز، لاپتہ عملے کی تلاش جاری یورپ میں گرمی، سپین کے جنگلات میں آگ لگ گئی، 12 افراد ہلاک ٹیکساس میں پاکستانی آموں کی دھوم؛ ہیوسٹن مینگو فیسٹیول میں وفاقی وزیر احسن اقبال کی شرکت بھارتی کمپنیوں کی امریکا میں بھی ویزہ جعلسازی، بڑا سکینڈل سامنے آگیا سنگاپور دنیا کے طاقتور پاسپورٹ میں پھر سرفہرست، پاکستان کا 100 واں نمبر

غیر قانونی حراست کا معاملہ: متعلقہ پولیس افسر کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم

Web Desk

10 July 2026

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس امجد رفیق نے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کی جانب سے ایک شہری کو مبینہ طور پر غیر قانونی حراست میں رکھنے کے معاملے پر اہم تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے ڈی پی او اوکاڑہ کو متعلقہ پولیس افسر کے خلاف فوری مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ تحریری حکم مقصودہ بی بی نامی خاتون کی درخواست پر جاری کیا گیا، جس میں موقف اپنایا گیا تھا کہ گلفام علی کو 27 جون 2026ء کو جیل سے رہائی کے فوراً بعد باہر سے سادہ لباس اہلکاروں نے دوبارہ حراست میں لے لیا تھا۔ اگرچہ سی سی ڈی انسپکٹر اختر علی نے عدالت میں رپورٹ جمع کرائی کہ گلفام علی کو اوکاڑہ کے ایک مقدمے میں باقاعدہ گرفتار کیا گیا تھا، تاہم عدالت نے دستیاب سی سی ٹی وی فوٹیج اور پولیس رپورٹ میں واضح تضاد پایا۔ جسٹس امجد رفیق نے اپنے فیصلے میں سخت آبزرویشن دی کہ کسی شہری کو غیر قانونی حراست میں رکھنا اور پھر عدالت میں گمراہ کن رپورٹ جمع کروانا ایک قابلِ دست اندازی جرم ہے، جسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے ڈی پی او اوکاڑہ کو واقعے کے ذمہ دار پولیس افسر پر پرچہ درج کرنے اور عملدرآمد رپورٹ ہائیکورٹ میں پیش کرنے کی سخت ہدایت کی ہے۔