LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی، فیصلے کیخلاف درخواست دوبارہ دائر کر رہے ہیں: رانا ثنا نور مقدم قتل کیس، مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت پر نظرثانی کی درخواست خارج، فیصلہ جاری عمران خان کو شفا انٹرنیشنل منتقل کرنے کی تیاری، بہن ڈاکٹر عظمیٰ اور ذاتی معالج کی نگرانی میں طبی معائنہ مکمل حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کردیا امریکا کا آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل کیلئے خفیہ شپنگ کوریڈور قائم کرنے کا دعویٰ حوثیوں کے سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ اور آرامکو تنصیب پر ڈرون حملے اسحاق ڈار سے برازیلی وزیر خارجہ کا رابطہ، عالمی امن پر تبادلہ خیال فضل الرحمان کی محمود خان اچکزئی سے ملاقات، متحدہ اپوزیشن کے قیام کا اعلان شہباز شریف نے پنشنرز کیلئے ’پروف آف لائف‘ کے جدید نظام کا افتتاح کر دیا پیپلزپارٹی کے وفد کی سپیکر سردار ایاز صادق سے ملاقات, قانون سازی پر تبادلہ خیال وزیراعظم سے شامی وزیر خارجہ کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ میں ترمیم اور ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 منظور پنجاب میں15 دسمبر سے 15 جنوری کے درمیان بلدیاتی انتخابات کروانے پر اتفاق مریم نواز سے استحکام پاکستان پارٹی کے ارکان قومی اسمبلی کی ملاقات، سیاسی امور پر تبادلہ خیال لاہور: چیف جسٹس پاکستان اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کے اعزاز میں استقبالیہ

بلوچستان حکومت فوری مستعفی ہو اور لاپتہ افراد کو عدالتوں میں پیش کیا جائے,مصطفیٰ نواز کھوکھر

Web Desk

10 July 2026

معروف سیاستدان مصطفیٰ نواز کھوکھر نے بلوچستان کے حالیہ بحران اور آزاد کشمیر کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کے حالات پر ملک میں بسنے والا ہر شہری رنجیدہ ہے۔ انہوں نے حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وزیر اعظم کوئٹہ کے دورے پر تو گئے لیکن وہ شہداء کے ورثاء اور زخمیوں کی عیادت کے لیے نہیں گئے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت پاکستان کے حقیقی مسائل سے مکمل لا تعلق ہو چکی ہے۔ مصطفیٰ نواز کھوکھر نے ‘تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان’ کے اہم مطالبات سامنے رکھتے ہوئے زور دیا کہ بلوچستان حکومت فوری طور پر مستعفی ہو، تمام لاپتہ افراد کو عدالتوں میں پیش کیا جائے، حکومت وہاں بنائے گئے مبینہ ‘ڈیتھ اسکواڈز’ سے دستبردار ہو اور تمام سیاسی اسیران کو فوری رہا کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس خطے میں ‘ہارڈ اسٹیٹ’ (سخت گیر ریاست) کا قیام ممکن نہیں ہے، اور آزاد کشمیر کی حساسیت کو بھی مدنظر نہیں رکھا جا رہا۔ انہوں نے آزاد کشمیر میں انتخابات ملتوی کرنے کے مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ فوری طور پر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ بامقصد بات چیت کا آغاز کرے۔