LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
گلگت بلتستان کی تعمیر و ترقی حکومت کی اولین ترجیحات ہے: وزیراعظم وزیراعظم سے اقوام متحدہ کی سیکرٹری شپ کے امیدواروں کی ملاقاتیں، عالمی امن کے عزم کا اعادہ جدید جوڈیشل ٹاور منصوبے کا آغاز، چیف جسٹس عالیہ نیلم کل سنگِ بنیاد رکھیں گی وفاقی آئینی عدالت نے نسلہ ٹاور مسماری کے متعلق سپریم کورٹ کے احکامات واپس لے لئے سینیٹ آبی وسائل کمیٹی؛ 508 ارب کا نیلم جہلم منصوبہ ٹنل فالٹ کے باعث بند، 2028ء میں دوبارہ فعال کرنے کا ہدف، بجلی کے بریک ڈاؤن اور لوڈشیڈنگ کا خاتمہ؛ ترسیلی نظام کو جدید بنانے کے لیے ورلڈ بینک کی 37 کروڑ 59 لاکھ ڈالرز کی منظوری سعودیہ اور کینیڈا کی آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کی مذمت کے ٹو ائیرویز طیارہ حادثہ؛ اورماڑہ کے قریب گہرے سمندر میں ریسکیو آپریشن تیز، لاپتہ عملے کی تلاش جاری یورپ میں گرمی، سپین کے جنگلات میں آگ لگ گئی، 12 افراد ہلاک ٹیکساس میں پاکستانی آموں کی دھوم؛ ہیوسٹن مینگو فیسٹیول میں وفاقی وزیر احسن اقبال کی شرکت بھارتی کمپنیوں کی امریکا میں بھی ویزہ جعلسازی، بڑا سکینڈل سامنے آگیا سنگاپور دنیا کے طاقتور پاسپورٹ میں پھر سرفہرست، پاکستان کا 100 واں نمبر محسن نقوی کی بنگلہ دیشی ہم منصب سے ملاقات، اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق ٹرمپ انتظامیہ ایران جنگ جاری رکھتی ہے تو کانگریس مالی وسائل کی فراہمی روک دے، امریکی سینیٹر جرمن چانسلر کا نیتن یاہو کو فون، مفاہمتی یادداشت کو استحکام کیلئے بہترین موقع قرار دے دیا

بجلی کے بریک ڈاؤن اور لوڈشیڈنگ کا خاتمہ؛ ترسیلی نظام کو جدید بنانے کے لیے ورلڈ بینک کی 37 کروڑ 59 لاکھ ڈالرز کی منظوری

Web Desk

10 July 2026

عالمی بینک (ورلڈ بینک) نے پاکستان میں بجلی کے ترسیلی نیٹ ورک کو مضبوط اور جدید بنانے کے لیے 37 کروڑ 59 لاکھ ڈالرز کی خطیر مالی معاونت کی منظوری دے دی ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق، اس منصوبے کا بنیادی مقصد ملک میں بجلی کے بڑے بریک ڈاؤنز کا خاتمہ، ترسیلی نظام کو اپ گریڈ کرنا اور اہم سب اسٹیشنز پر بجلی کے بہاؤ کو بہتر بنانا ہے۔ ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں توانائی کے چیلنجز ملکی معاشی استحکام سے گہرے جڑے ہوئے ہیں اور بجلی کے کمزور ترسیلی نظام کے باعث کروڑوں پاکستانی متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ پیداواری صلاحیت کا پورا استعمال نہ ہونے سے عوام لوڈشیڈنگ اور مہنگی بجلی بھگتنے پر مجبور ہیں۔ اعلامیے کے مطابق، اس منصوبے کے تحت ترسیلی گرڈ کو مستحکم کرنے کے لیے جدید ترین آلات نصب کیے جائیں گے، جس سے گھروں، کاروباروں اور صنعتوں تک زیادہ سے زیادہ ماحول دوست اور قابلِ تجدید (Renewable) توانائی پہنچانے میں مدد ملے گی، جو کہ بجلی کی مجموعی لاگت کو کم کرنے میں بھی معاون ثابت ہوگی۔