LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا وقت ختم، بیرسٹر گوہر سمیت کوئی بھی رہنما نہ مل سکا قیدِ تنہائی کے الزامات سنگین، نظر انداز نہیں کر سکتے، اسلام آباد ہائیکورٹ کا بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی درخواستوں پر تحریری حکم نامہ جاری امریکی صدر ٹرمپ نیٹو اجلاس میں شرکت کیلئے ترکیہ پہنچ گئے وفاقی حکومت نے نیشنل پاپولیشن کونسل تشکیل دے دی، وزیر اعظم چیئرمین اور آرمی چیف رکن مقرر پاکستان، کرغزستان کا تجارت، سرمایہ کاری اور سٹریٹجک شراکت داری پر اتفاق شام میں فرانسیسی صدر کی قیام گاہ کے قریب دو دھماکے، 18 افراد زخمی وفاقی وزیرِ خزانہ کا بڑا اقدام؛ اسٹیٹ بینک کی سربراہی میں ‘ایس ایم ای فنانس ٹاسک فورس’ قائم چین: 325 ملین ڈالرز رشوت لینے پر سرکاری عہدیدار کو سزائے موت کراچی میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام، بی ایل اے کے 2 دہشت گرد گرفتار حکومت پیٹرول پر لیوی کا بھتہ وصول کر رہی ہے، قیمت 225 روپے ہونی چاہیے؛ حافظ نعیم الرحمن ملکی برآمدات میں اضافے کے لیے ایس ایم ایز کو قرضوں کی فراہمی آسان بنائی جائے؛ وزیرِ اعظم معیشت مضبوط استحکام کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے، جی ڈی پی 3.7 فیصد ریکارڈ؛ وزیرِ خزانہ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان کے باعث ریکارڈ ٹوٹنے کا سلسلہ برقرار اقوام متحدہ کا ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کی فوری رہائی کا مطالبہ زیارت میں دہشت گردوں کا پولیس چوکی پر حملہ، 9 اہلکار شہید

یونان میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد

Web Desk

9 April 2026

یونان نے بچوں کی ذہنی صحت کے تحفظ کے لیے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر مکمل پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ عالمی میڈیا کے مطابق یونانی وزیراعظم کیریاکوس میتسوتاکس نے اعلان کیا ہے کہ اس فیصلے کا اطلاق یکم جنوری 2027 سے ہوگا۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد بچوں میں سوشل میڈیا کی لت، نیند کی کمی، اور بڑھتی ہوئی ذہنی بے چینی (Anxiety) جیسے سنگین مسائل پر قابو پانا ہے۔

یونان کا یہ فیصلہ آسٹریلیا کی جانب سے 16 سال سے کم عمر بچوں پر لگائی گئی حالیہ پابندی کے بعد سامنے آیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر بچوں کو ڈیجیٹل دنیا کے منفی اثرات سے بچانے کے لیے سخت قوانین بنائے جا رہے ہیں۔ یونانی حکام نے یورپی یونین سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ اس حساس معاملے پر پورے یورپی بلاک میں ایک مشترکہ اور موثر نظام متعارف کرایا جائے۔ حکام کا ماننا ہے کہ اس قانونی پابندی سے بچوں کو ایک صحت مند اور محفوظ ماحول فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔