LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
لانگ مارچ کی تیاری کر رہے ہیں، اسلام آباد جائیں گے: حافظ نعیم الرحمٰن کے پی کے میں گورنر راج کا فیصلہ غلط، ملک معاشی تباہی کی طرف جا رہا ہے،علامہ ناصر عباس وفاق نے کے پی کیلئے 160 ارب روپے کے فنڈز کی یقین دہانی کرائی: فیصل کنڈی پی ٹی آئی کارکنوں کی نظر بندی: ڈی سی لاہور اور شیخوپورہ سے رپورٹ طلب پاکستان بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کے خلاف کاروائیاں جاری رکھے گا: فیلڈ مارشل گوادر میں تعمیراتی کمپنی کے کیمپ پر حملے کی کوشش ناکام، 7 دہشتگرد ہلاک پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا منفی زون میں آغاز مشہور گیم سٹک رن کے بانی مینوئل اوٹو نے لائیو سٹریم کے دوران خودکشی کر لی پنجاب میں 20 کلو آٹے کا تھیلا بند، سمگلنگ روکنے کیلئے کڑی نگرانی کا حکم سعودی عرب پر حوثیوں کا بیلسٹک میزائل حملہ ناکام، دفاعی نظام نے فضا میں تباہ کر دیا پاکستان اور کینیڈا کے طبی اداروں میں تعاون کیلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط طبی معائنے کے بعد نواز شریف وطن واپس، جاتی امراء روانگی چین میں زلزلے سے سینکڑوں مکان منہدم، 16 افراد ہلاک، پاکستان کی مدد کی پیشکش شوہر نے فٹبال میچ دیکھنے کی خاطر بیوی کو کرسی سے باندھ دیا بلوچستان کے شہر دالبندین اور ملحقہ علاقوں میں 5.1 شدت کا زلزلہ

علی ظفر نے میشا شفیع کے خلاف کیس جیتنے کے بعد خاموشی توڑ دی

Web Desk

3 April 2026

لاہور: ایڈیشنل سیشن جج نے علی ظفر کی جانب سے دائر کردہ ہتکِ عزت کے دعوے پر دو صفحات پر مشتمل مختصر تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ میشا شفیع نے 19 اپریل 2018 کو جو ٹوئٹ کیا تھا، وہ ہتک آمیز اور جھوٹا تھا، اور وہ علی ظفر پر جنسی ہراسانی کے الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ عدالت نے میشا شفیع کو حکم دیا ہے کہ وہ علی ظفر کی شہرت کو نقصان پہنچانے اور ذہنی اذیت دینے کے بدلے 50 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کریں۔

فیصلے کے بعد علی ظفر نے انسٹاگرام پر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی قسم کی “فتح” کا جشن نہیں منا رہے بلکہ صرف اللہ کے شکر گزار ہیں کہ حق کی جیت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ سفر ان کے خاندان کے لیے انتہائی کٹھن تھا لیکن اب یہ باب بند ہو چکا ہے۔ دوسری جانب، میشا شفیع نے اس فیصلے کو ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ قانونی جنگ ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔