LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
بانی پی ٹی آئی کی بہن نورین نیازی جیل سے پنجاب کارڈیالوجی منتقل وزیراعظم نے مسلم لیگ ن خیبر پختونخوا کا اہم اجلاس آج طلب کر لیا پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی حکومت سے مذاکرات کی حامی، طریقہ کار پر رہنما تقسیم اردوان کا ٹرمپ سے رابطہ، ترکیہ کی امن بحالی کی کوششوں سے آگاہ کیا امریکا کی امن مذاکرات بحال کرنے کی کوشش، جے ڈی وینس کا ایرانی عہدیدار کو خط تھرپارکر: ایمبولینس میں سلنڈر دھماکا، 8 افراد جاں بحق، 4 شدید زخمی راولاکوٹ میں فائرنگ سے پولیس اہلکار اور شہری زخمی، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج گاڑی سمیت اغوا پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ، نئی قیمتیں مقرر اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کا اتحاد واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکام، دھاندلی کے الزامات پاک افغان سرحد پر فائرنگ سے متعلق افغان طالبان کا بیان جھوٹا، من گھڑت قرار میر رضا کیس: سندھ حکومت نے جوڈیشل کمیشن کی ہدایت پر جے آئی ٹی تشکیل دے دی ٹرمپ کے تعاون سے ایران کا خطرہ ہمیشہ کیلئے ختم کرنا چاہتے ہیں، نیتن یاہو لطف آباد میں گھر کی دوسری منزل پر پراسرار آتشزدگی، بیوہ ماں اور دو کمسن بیٹیاں جاں بحق، قتل کا شبہ اسرائیلی انتخابات: ابتدائی نتائج میں نیتن یاہو اتحاد کی برتری، اکثریت سے دور شہباز شریف نے مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کا اہم اجلاس کل طلب کر لیا

حکومت ہمارے مشورے مانتی تو قیمتیں نہ بڑھتیں” زکا اشرف

Web Desk

30 March 2026

لاہور: پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین زکا اشرف نے ایک اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے شوگر انڈسٹری کو ٹیکسٹائل کے بعد ملک کی دوسری بڑی صنعت قرار دیا ہے۔ انہوں نے چند اہم حقائق سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ شوگر انڈسٹری مکمل طور پر زرعی بنیادوں پر کھڑی ہے اور یہ ملک کی سب سے زیادہ ریگولیٹڈ (Regulated) صنعت ہے۔

زکا اشرف نے انکشاف کیا کہ پاکستان کی شوگر انڈسٹری میں کسی بھی اضافی سرمایہ کاری کے بغیر 13 ملین میٹرک ٹن چینی پیدا کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے حکومت کو تجویز دی کہ اگر درست پالیسیاں اپنائی جائیں تو پاکستان ہر سال 6 ملین میٹرک ٹن چینی برآمد کر کے قومی خزانے کے لیے 4 ارب ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ کما سکتا ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے حالیہ بحران پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ساڑھے تین لاکھ ٹن چینی کی درآمد (Import) نے نئے مسائل پیدا کیے، جبکہ حکومت نے انڈسٹری کے اخراجات اور کسانوں کے مفادات کو نظر انداز کیا۔ زکا اشرف کا کہنا تھا کہ چینی کی پیداوار کا 70 فیصد انڈسٹری میں استعمال ہوتا ہے اور شوگر ملیں ‘بیگاس’ (گنے کا پھوک) کے ذریعے مقامی طور پر بجلی پیدا کر رہی ہیں، جس سے اسٹیل انڈسٹری کو بھی سہارا مل رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس توانائی کو دیگر شعبوں میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔