میر رضا کیس: سندھ حکومت نے جوڈیشل کمیشن کی ہدایت پر جے آئی ٹی تشکیل دے دی
Web Desk
28 October 2026
کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا علی خان کے ہلاکت اور قتل کیس کی شفاف تحقیقات کے لیے سندھ حکومت نے جوڈیشل کمیشن کی حتمی سفارشات کی روشنی میں ایک اعلیٰ سطح کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی ہے اور اس کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ڈی آئی جی ویسٹ عرفان علی بلوچ کو اس جے آئی ٹی کا کنوینر (سربراہ) مقرر کیا گیا ہے, جبکہ اس اہم تحقیقاتی ٹیم میں بین الادارتی تعاون کے تحت انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی)، انٹیلی جنس بیورو (آئی بی)، پاکستان رینجرز سندھ اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے سینئر نمائندے و افسران شامل کیے گئے ہیں۔ یہ جے آئی ٹی کراچی کے تھانہ فیروز آباد میں درج مقدمہ نمبر 795/2026 کی از سر نو اور باضابطہ تفتیش کرے گی۔ تحقیقاتی ٹیم کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تمام قانونی پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہوئے حقیقی ذمہ داران کا تعین کرے، اپنی جامع رپورٹ مرتب کرے اور تفتیشی چالان جلد از جلد متعلقہ عدالت میں جمع کرائے، جبکہ سندھ حکومت نے تمام متعلقہ اداروں کو جے آئی ٹی کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کا سخت حکم بھی جاری کیا ہے۔
نوجوان تاجر کے اس پرسرار قتل کے پس منظر کو سامنے لانے کے لیے جے آئی ٹی کو تمام تر فزیکل، فرانزک اور ڈیجیٹل شواہد اکٹھے کرنے کی خصوصی ہدایت دی گئی ہے۔ تفتیش کے اس دائرہ کار میں مقتول کے زیر استعمال موبائل فون، اسمارٹ واچ، تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا ریکارڈ بھی لازمی طور پر شامل تفتیش کیا جائے گا تاکہ وقوعہ کے تمام محرکات تک رسائی حاصل کی جا سکے۔ واضح رہے کہ میر رضا علی خان رواں برس 28 جولائی کو کراچی کے پوش علاقے پی ای سی ایچ ایس (PECHS) سے اچانک پراسرار طور پر لاپتہ ہو گئے تھے اور ان کی مسخ شدہ لاش دو روز بعد گلستان جوہر کے ایک ویران علاقے سے برآمد ہوئی تھی۔ دستیاب ابتدائی معلومات کے مطابق وہ صبح 4 بج کر 9 منٹ پر ایک آن لائن ٹیکسی کے ذریعے اپنے گھر سے روانہ ہوئے تھے۔ پولیس کے مطابق مقتول کی لاش انتہائی خراب اور تشویشناک حالت میں ملی تھی اور ابتدائی طبی رپورٹ کے مطابق انہیں سینے پر گولی مار کر موت کے گھاٹ اتارا گیا تھا، جبکہ یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ لاش ملنے سے محض ایک روز قبل ان کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس مشکوک طور پر بند کر دیے گئے تھے۔ پولیس نے اس سے قبل مقتول کے فون کا ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے متعلقہ ٹیلی کام کمپنیوں سے رابطہ کرنے کے علاوہ اس روز انہیں لے جانے والے ٹیکسی ڈرائیور سے بھی تفتیش کی تھی جس نے بیان دیا تھا کہ اس نے مقتول کو گلستان جوہر میں ان کے بتائے گئے مقام پر اتارا تھا۔ مقتول کے والدین کے مطابق میر رضا علی خان کا نکاح 30 اگست کو گلشن اقبال کی بیت المکرم مسجد میں طے پایا تھا اور وہ اپنی زندگی کے اس نئے اور خوشگوار باب کے آغاز کو لے کر انتہائی پرجوش اور خوش تھے۔
متعلقہ عنوانات
بانی پی ٹی آئی کی بہن نورین نیازی جیل سے پنجاب کارڈیالوجی منتقل
28 October 2026
وزیراعظم نے مسلم لیگ ن خیبر پختونخوا کا اہم اجلاس آج طلب کر لیا
28 October 2026
پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی حکومت سے مذاکرات کی حامی، طریقہ کار پر رہنما تقسیم
28 October 2026
اردوان کا ٹرمپ سے رابطہ، ترکیہ کی امن بحالی کی کوششوں سے آگاہ کیا
28 October 2026
امریکا کی امن مذاکرات بحال کرنے کی کوشش، جے ڈی وینس کا ایرانی عہدیدار کو خط
28 October 2026
تھرپارکر: ایمبولینس میں سلنڈر دھماکا، 8 افراد جاں بحق، 4 شدید زخمی
28 October 2026
راولاکوٹ میں فائرنگ سے پولیس اہلکار اور شہری زخمی، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج گاڑی سمیت اغوا
28 October 2026
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ، نئی قیمتیں مقرر
28 October 2026