LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
بانی پی ٹی آئی کی بہن نورین نیازی جیل سے پنجاب کارڈیالوجی منتقل وزیراعظم نے مسلم لیگ ن خیبر پختونخوا کا اہم اجلاس آج طلب کر لیا پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی حکومت سے مذاکرات کی حامی، طریقہ کار پر رہنما تقسیم اردوان کا ٹرمپ سے رابطہ، ترکیہ کی امن بحالی کی کوششوں سے آگاہ کیا امریکا کی امن مذاکرات بحال کرنے کی کوشش، جے ڈی وینس کا ایرانی عہدیدار کو خط تھرپارکر: ایمبولینس میں سلنڈر دھماکا، 8 افراد جاں بحق، 4 شدید زخمی راولاکوٹ میں فائرنگ سے پولیس اہلکار اور شہری زخمی، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج گاڑی سمیت اغوا پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ، نئی قیمتیں مقرر اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کا اتحاد واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکام، دھاندلی کے الزامات پاک افغان سرحد پر فائرنگ سے متعلق افغان طالبان کا بیان جھوٹا، من گھڑت قرار میر رضا کیس: سندھ حکومت نے جوڈیشل کمیشن کی ہدایت پر جے آئی ٹی تشکیل دے دی ٹرمپ کے تعاون سے ایران کا خطرہ ہمیشہ کیلئے ختم کرنا چاہتے ہیں، نیتن یاہو لطف آباد میں گھر کی دوسری منزل پر پراسرار آتشزدگی، بیوہ ماں اور دو کمسن بیٹیاں جاں بحق، قتل کا شبہ اسرائیلی انتخابات: ابتدائی نتائج میں نیتن یاہو اتحاد کی برتری، اکثریت سے دور شہباز شریف نے مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کا اہم اجلاس کل طلب کر لیا

اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کا اتحاد واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکام، دھاندلی کے الزامات

Web Desk

28 October 2026

اسرائیل میں عام انتخابات کے ابتدائی نتائج کے بعد حکمران جماعت ‘لیکوڈ’ اور وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے انتخابی اتحاد کے لیے حکومت بنانے کے لیے درکار مطلوبہ اکثریت حاصل نہ ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جس پر حکمراں جماعت نے عرب جماعتوں پر سنگین نوعیت کے انتخابی دھاندلی کے الزامات عائد کر دیے ہیں۔

اسرائیلی اخبار ‘ٹائمز آف اسرائیل’ کے مطابق وزیراعظم نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ نے باضابطہ طور پر دعویٰ کیا ہے کہ عرب جماعتوں نے انتخابی عمل کے دوران رشوت ستانی، ووٹرز کو دھمکانے، تشدد، جعل سازی اور غیر قانونی سافٹ ویئر کے ذریعے ووٹروں کو زبردستی متحرک کرنے سمیت کئی سنگین جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق عرب قیادت والی سیاسی جماعتوں، جن میں ‘رعام’ (Ra’am) بھی شامل ہے، نے ان انتخابات میں ریکارڈ ووٹ حاصل کیے ہیں، اور ابتدائی اندازوں کے مطابق انہیں اسرائیلی پارلیمان (کُنیسٹ) کی تاریخ میں سب سے زیادہ مجموعی طور پر 19 نشستیں ملنے کی توقع ہے۔ ان نشستوں کے حتمی نتائج میں اضافے کی وجہ سے نہ تو نیتن یاہو کے سیاسی اتحاد اور نہ ہی ان کی مخالف یہودی جماعتوں کے لیے پارلیمان میں واضح اکثریت حاصل کرنا ممکن دکھائی دے رہا ہے۔

لیکوڈ پارٹی کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اس مبینہ بڑے پیمانے پر دھاندلی سے متعلق سیکڑوں بیانات اور پختہ شواہد موجود ہیں۔ حکمراں جماعت نے الزام عائد کیا ہے کہ انتخابی عمل میں نقد رقم کی تقسیم، رعام کے انتخابی پرچوں والے ہزاروں مشکوک لفافوں کا استعمال، پولنگ اسٹاف اور انتخابی عملے کو ہراساں و دھمکانے، ایک ہی شخص کی جانب سے ایک سے زیادہ مرتبہ ووٹ ڈالنے اور ووٹروں کی کل تعداد اور بیلٹ لفافوں کے ریکارڈ میں واضح تضاد جیسے ہتھکنڈے استعمال کیے گئے۔ ان سنگین الزامات کے بعد لیکوڈ نے اسرائیلی پولیس، ملکی داخلی سلامتی کے ادارے اور مرکزی انتخابی کمیٹی سے فوری، شفاف اور جامع تحقیقات کا پُرزور مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب، مرکزی انتخابی کمیٹی کے ایک ذمہ دار عہدیدار نے مقامی ٹی وی چینل ‘چینل 12’ کو انٹرویو دیتے ہوئے حکمراں جماعت کی جانب سے لگائے جانے والے تمام دھاندلی کے دعوؤں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔