LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی، ٹرمپ کو آج سینٹکام کمانڈربریفنگ دیں گے  750 ملین ڈالر کے یورو بانڈز موصول، پاکستان کے  زرمبادلہ کے ذخائر20ارب ڈالر سے تجاوزکرگئے، وزارت خزانہ امریکانے حملے کیے توجواب طویل اوردردناک ہوگا، پاسداران انقلاب موٹرسائیکل سواروں، پبلک وگڈزٹرانسپورٹ کےلیے سبسڈی میں ایک ماہ کی توسیع فسادی غیرملکیوں کی جگہ خلیج فارس کے پانی کی تہہ کے سوا کچھ نہیں، مجتبیٰ خامنہ ای وزیراعلیٰ پنجاب کا کچہ ایریا کے لیے 23 ارب روپے کے ترقیاتی پیکج کا اعلان امریکا اور ایران کے ساتھ سفارتی رابطے برقرار، امن کیلئے بھرپور کوشش کر رہے ہیں: دفتر خارجہ الیکشن کمیشن کی بڑی کارروائی؛ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کی جماعت سمیت 2 سیاسی پارٹیاں ڈی لسٹ پاک بحریہ کی پہلی ‘ہنگور کلاس’ آبدوز بیڑے میں شامل؛ صدرِ مملکت کی چین میں کمیشننگ تقریب میں شرکت وزیراعظم نے اپنا گھر سکیم کا اجرا کر دیا، اہل افراد میں چیک تقسیم وفاقی آئینی عدالت نے سندھ ہائیکورٹ فیصلہ معطل کردیا آبنائے ہرمز کی بندش، بحران سنگین ہونے لگا سفیرِ پاکستان کی چیئرمین امریکی خارجہ امور کمیٹی سے ملاقات؛ خطے میں امن کے لیے پاکستان کے کلیدی کردار کا اعتراف صومالیہ کی یرغمال پاکستانیوں کی بحفاظت وطن واپسی کی یقین دہانی امریکہ آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے نیا عالمی اتحاد بنانے کیلئے سرگرم

روزے کے دوران ہائی بلڈ پریشر سے کیسے بچیں؟ ماہرین نے بتادیا

Web Desk

13 March 2026

رمضان المبارک میں روزے رکھنے کے دوران کھانے پینے اور سونے کے معمولات میں نمایاں تبدیلی آ جاتی ہے، جس کے باعث ہائی بلڈ پریشر (ہائیپر ٹینشن) کے مریضوں کو اپنی صحت کے حوالے سے خاص احتیاط کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق مناسب احتیاط اور ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل کر کے روزے محفوظ طریقے سے رکھے جا سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ رمضان میں ادویات کے استعمال کا شیڈول منظم رکھنا بہت ضروری ہے۔ مریضوں کو چاہیے کہ دوا کے اوقات میں بلاوجہ تبدیلی نہ کریں۔ بعض ماہرین کے مطابق افطار کے فوراً بعد دوا لینے کے بجائے تراویح کے بعد دوا لینا زیادہ مؤثر ہو سکتا ہے۔ اگر کسی دن دوا لینا بھول جائیں تو اگلی خوراک دوگنی لینے سے گریز کریں۔

غذائی عادات بھی بلڈ پریشر کو متاثر کرتی ہیں۔ زیادہ نمک والی غذائیں بلڈ پریشر بڑھا سکتی ہیں، اس لیے سحر اور افطار میں چپس، پراٹھے، چٹنیاں اور دیگر نمکین اشیا کم استعمال کریں۔ اس کے بجائے تازہ سبزیاں، پھل اور متوازن غذا کو ترجیح دیں۔

پانی کی مناسب مقدار بھی انتہائی اہم ہے۔ ماہرین کے مطابق افطار سے سحر کے درمیان کم از کم 8 سے 10 گلاس پانی پینا چاہیے تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو۔ اسی طرح کم چکنائی والا دودھ بھی دل کی صحت کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

رمضان میں ذہنی دباؤ سے بچنا بھی ضروری ہے کیونکہ اسٹریس بلڈ پریشر کو بڑھا سکتا ہے۔ مراقبہ، گہری سانسیں اور عبادات ذہنی سکون فراہم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔

افطار کے وقت کھجور اور پانی سے روزہ کھولنے کے بعد ہلکی اور متوازن غذا لینا بہتر سمجھا جاتا ہے جبکہ زیادہ تلی ہوئی اور بھاری غذا سے پرہیز کرنا چاہیے۔

ماہرین کے مطابق افطار کے بعد ہلکی جسمانی سرگرمی جیسے مختصر چہل قدمی یا ہلکی ورزش بھی مفید ہو سکتی ہے، تاہم اس حوالے سے ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے۔ اس کے علاوہ مناسب نیند اور بلڈ پریشر کی باقاعدہ جانچ بھی صحت کو بہتر رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مریض احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور طبی ہدایات پر عمل کریں تو رمضان کے روزے بغیر کسی بڑی پریشانی کے رکھے جا سکتے ہیں۔