وٹامن ڈی فائدہ یا نقصان؟ کن افراد کو احتیاط کی ضرورت ہے
Web Desk
28 April 2026
طبی ماہرین نے وٹامن ڈی کے غیر متوازن اور ضرورت سے زیادہ استعمال کے خلاف سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بغیر ڈاکٹر کے مشورے کے سپلیمنٹس لینا فائدے کے بجائے شدید نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق وٹامن ڈی چکنائی میں حل ہونے والا وٹامن ہے جو جسم سے آسانی سے خارج نہیں ہوتا، اور اس کی زیادتی خون میں کیلشیم کی مقدار بڑھا دیتی ہے جسے ‘ہائپرکیلسمیا’ کہا جاتا ہے۔ اس صورتحال میں متلی، الٹی، شدید تھکن، بار بار پیشاب آنا اور گردوں کو نقصان پہنچنے جیسی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ خاص طور پر 50 ہزار آئی یو (IU) جیسی بھاری خوراک کا بار بار استعمال جسم میں زہریلے اثرات پیدا کر سکتا ہے۔ ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ وٹامن ڈی کا استعمال ہمیشہ خون کے ٹیسٹ اور ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق کریں تاکہ پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔
متعلقہ عنوانات
ادویات کنٹینرز روکنے کی خبر پر محسن نقوی کا نوٹس، فوری ریلیز کا حکم
17 September 2026
پمز ہسپتال کی آتشزدگی میں زندہ بچ جانے والی نومولود بچی انتقال کر گئی
17 September 2026
جی ایل پی-1 ادویات استعمال کرنے والوں میں نایاب بیماری کا انکشاف
17 September 2026
خیبر پختونخوا صحت پروگرام میں سی سیکشن کی شرح 47 فیصد سے تجاوز کرگئی
17 September 2026
وزیراعظم کی 3 ماہ میں پمز ہسپتال میں فائر سیفٹی سمیت نظام بہتر کرنے کی ہدایت
16 September 2026
ملک بھر میں 20 ستمبر کو ایم ڈی کیٹ کا انعقاد: 1 لاکھ 38 ہزار سے زائد طلبہ امتحان دیں گے، وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال
16 September 2026
حالتِ سکون میں پاؤں کی ہڈیوں میں درد دل کی خطرناک بیماری کی علامت، ماہرین
16 September 2026
سانحہ پمز؛ 14 نومولود کیوں نہیں بچائے جا سکے؟ انکوائری رپورٹ میں انکشافات
15 September 2026