وٹامن ڈی فائدہ یا نقصان؟ کن افراد کو احتیاط کی ضرورت ہے
Web Desk
28 April 2026
طبی ماہرین نے وٹامن ڈی کے غیر متوازن اور ضرورت سے زیادہ استعمال کے خلاف سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بغیر ڈاکٹر کے مشورے کے سپلیمنٹس لینا فائدے کے بجائے شدید نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق وٹامن ڈی چکنائی میں حل ہونے والا وٹامن ہے جو جسم سے آسانی سے خارج نہیں ہوتا، اور اس کی زیادتی خون میں کیلشیم کی مقدار بڑھا دیتی ہے جسے ‘ہائپرکیلسمیا’ کہا جاتا ہے۔ اس صورتحال میں متلی، الٹی، شدید تھکن، بار بار پیشاب آنا اور گردوں کو نقصان پہنچنے جیسی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ خاص طور پر 50 ہزار آئی یو (IU) جیسی بھاری خوراک کا بار بار استعمال جسم میں زہریلے اثرات پیدا کر سکتا ہے۔ ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ وٹامن ڈی کا استعمال ہمیشہ خون کے ٹیسٹ اور ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق کریں تاکہ پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔
متعلقہ عنوانات
پاکستان میں ایچ آئی وی کیسز میں اضافہ، 2025 میں 14 ہزار سے زائد مریض رپورٹ
28 April 2026
صحت کے نظام کی بہتری اولین ترجیح، آبادی میں اضافہ بڑا چیلنج ہے: مصطفیٰ کمال
27 April 2026
ذہنی دباؤ نظامِ ہاضمہ پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے: طبی ماہرین
27 April 2026
بلوچستان حکومت شعبہ صحت میں مزید بہتری، سہولیات کے فروغ کیلئے پرعزم
27 April 2026
موٹاپے کے پھیلاؤ کی اہم وجہ دریافت، ماہرین نے خبردار کردیا
26 April 2026
ٹائپ 1 ذیابیطس کے شکار بچوں کے علاج کیلئے نئی دوا کو منظوری مل گئی
25 April 2026
انسدادِ پولیو مہم 11 سے 24 مئی تک جاری رہے گی: مصطفیٰ کمال
24 April 2026
پی ایم ڈی سی کا غیر مجاز کلینیکل پریکٹس غیر قانونی قرار
24 April 2026