LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
‘ایران جلد ہوش کے ناخن لے’، ٹرمپ نے بندوق تھامے ’اے آئی جنریٹڈ‘ فوٹو شیئر کردی پاکستان میں کرپشن بارے آئی ایم ایف رپورٹ معتصب، نامناسب ہے: چیئرمین نیب بلاول بھٹو زرداری سے ازبکستان کے نووئی ریجن کے گورنر کی ملاقات پاکستان کی کوششوں سے جنگ بندی ہوئی، توسیع بھی کی گئی جو تاحال برقرار ہے: وزیراعظم پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت، پاک فوج کا بھرپور جواب وزیراعظم سے کابینہ ارکان کی ملاقاتیں،وزارتوں سے متعلقہ اُمور پر تبادلہ خیال وفاقی کابینہ کا اجلاس، مشرقِ وسطیٰ تنازع میں پاکستان کی کوششوں کا جائزہ بانی پی ٹی آئی بلاوجہ جیل میں ہیں، نظریہ قید نہیں کیا جا سکتا: سہیل آفریدی قدرتی آفات کے تباہ کن اثرات کم کرنے کیلئے مضبوط انفراسٹرکچر ناگزیر ہے: وزیراعظم پاکستان سٹاک مارکیٹ میں 2 روز کی مندی کے بعد آج مثبت رجحان امریکا نے ایران کے 35 اداروں اور شخصیات پر پابندیاں عائد کر دیں پاکستان کرپٹو کونسل کا ایکسچینج کمپنیوں کو کرپٹو لائسنس جاری کرنے کا عندیہ پینٹاگون شاید صدر ٹرمپ کو ایران جنگ کی مکمل تصویر نہیں دکھا رہا، امریکی میڈیا کا انکشاف جرمنی کا ایران سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ ایران کیخلاف جنگ: امریکا اور برطانیہ کے تعلقات شدید کشیدگی کا شکار

کینسر کے پھیلاؤ کی پیشگوئی کرنے والا نیا اے آئی نظام تیار

Web Desk

11 March 2026

سائنس دانوں نے ایک نیا مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام تیار کیا ہے جو کینسر کے جسم کے دوسرے حصوں تک پھیلنے کے امکانات کی پیشگوئی کر سکتا ہے۔

’مینگروو جی ایس‘ (Mangrove Gene Signatures) نامی یہ اے آئی سسٹم جینز کی پیچیدہ سرگرمیوں کے نمونوں کا تجزیہ کر کے اندازہ لگاتا ہے کہ کسی ٹیومر کے جسم کے دیگر حصوں تک پھیلنے کے امکانات کتنے ہیں۔

یہ تحقیق سائنسی جریدے Cell Reports میں شائع ہوئی ہے اور مستقبل میں ڈاکٹروں کو مریضوں میں میٹاسٹیسس یعنی کینسر کے پھیلاؤ کے خطرے کا اندازہ لگانے میں مدد دے سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق کینسر کے حوالے سے ایک بڑی سائنسی پہیلی یہ رہی ہے کہ کچھ ٹیومر پھیلتے نہیں جبکہ بعض تیزی سے جسم کے دوسرے حصوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ خاص طور پر بڑی آنت، چھاتی اور پھیپھڑوں کے کینسر میں بیماری کے پھیل جانے کے بعد موت کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔

اس تحقیق میں اہم کردار ادا کرنے والے ایریل روئز آئی آلتابا کے مطابق کینسر کو صرف بے ترتیب خلیاتی افزائش سمجھنا درست نہیں۔ ان کے مطابق یہ دراصل حیاتیاتی پروگراموں کا ایک مجموعہ ہے جو عموماً جسم کی ابتدائی نشوونما کے دوران فعال ہوتے ہیں لیکن بعد میں غلط وقت یا جگہ پر دوبارہ سرگرم ہو جاتے ہیں۔

محققین نے اس عمل کو سمجھنے کے لیے بڑی آنت کے ٹیومرز سے حاصل کیے گئے کلون شدہ خلیات کا مطالعہ کیا اور سینکڑوں جینز کی سرگرمیوں کا تجزیہ کیا۔ اس تحقیق کے دوران جینز کی کچھ مخصوص سرگرمیاں سامنے آئیں جو خلیات کی کینسر پھیلانے کی صلاحیت سے مضبوط تعلق رکھتی تھیں۔

انہی نتائج کی بنیاد پر سائنس دانوں نے ’مینگروو جین سگنیچرز‘ تیار کیے، جو ایک اے آئی پر مبنی نظام ہے اور بیک وقت درجنوں بلکہ سینکڑوں جینیاتی سگنیچرز کا تجزیہ کر کے کینسر کے پھیلاؤ کے خطرے کی پیشگوئی کر سکتا ہے۔