LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان کی کوششوں سے جنگ بندی ہوئی، توسیع بھی کی گئی جو تاحال برقرار ہے: وزیراعظم پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت، پاک فوج کا بھرپور جواب وزیراعظم سے کابینہ ارکان کی ملاقاتیں،وزارتوں سے متعلقہ اُمور پر تبادلہ خیال وفاقی کابینہ کا اجلاس، مشرقِ وسطیٰ تنازع میں پاکستان کی کوششوں کا جائزہ بانی پی ٹی آئی بلاوجہ جیل میں ہیں، نظریہ قید نہیں کیا جا سکتا: سہیل آفریدی قدرتی آفات کے تباہ کن اثرات کم کرنے کیلئے مضبوط انفراسٹرکچر ناگزیر ہے: وزیراعظم پاکستان سٹاک مارکیٹ میں 2 روز کی مندی کے بعد آج مثبت رجحان امریکا نے ایران کے 35 اداروں اور شخصیات پر پابندیاں عائد کر دیں پاکستان کرپٹو کونسل کا ایکسچینج کمپنیوں کو کرپٹو لائسنس جاری کرنے کا عندیہ پینٹاگون شاید صدر ٹرمپ کو ایران جنگ کی مکمل تصویر نہیں دکھا رہا، امریکی میڈیا کا انکشاف جرمنی کا ایران سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ ایران کیخلاف جنگ: امریکا اور برطانیہ کے تعلقات شدید کشیدگی کا شکار ایران بڑے بحران میں ہے۔آبنائے ہرمز فوری کھولنے کامطالبہ کیاہے، امریکی صدرکا دعویٰ متحدہ عرب امارات کی تیل پیداکرنے والی ممالک کی تنظیم اوپیک اوراوپیک پلس سے علیحدگی عوام کےلیے خوشخبری، 25کلوواٹ سے کم سولرصارفین کےلیے لائسنس کی شرط ختم

ڈیپ سیک اپنا فلیگ شپ اے آئی ماڈل متعارف کرانے کیلئے تیار

Web Desk

5 March 2026

چینی ٹیکنالوجی کمپنی ڈِیپ سیک (DeepSeek) ایک سال سے زائد کے انتظار کے بعد رواں ہفتے اپنا پہلا فلیگ شپ اے آئی ماڈل متعارف کرانے کے لیے تیار ہے، جس کا مقصد چیٹ جی پی ٹی اور جیمینائی جیسے امریکی حریفوں کو براہِ راست ٹکر دینا ہے۔

کمپنی کا پچھلا لارج لینگویج ماڈل، جو جنوری 2025 میں لانچ ہوا تھا، عالمی سطح پر اس وقت توجہ کا مرکز بنا جب اس نے امریکہ میں ایپ اسٹور چارٹس پر ٹاپ پوزیشن حاصل کی۔ اس کی کامیابی پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے امریکی ٹیکنالوجی کی صنعت کے لیے ایک ‘ویک اپ کال’ قرار دیا تھا۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق، نیا ماڈل “ڈِیپ سیک وی 4” (DeepSeek V4) ایک ملٹی موڈل سسٹم ہوگا، جو نہ صرف متن (Text) بلکہ تصاویر اور ویڈیوز تیار کرنے کی بھی مکمل صلاحیت رکھے گا۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، ہانگژو میں قائم اس اسٹارٹ اپ نے ایک غیر روایتی قدم اٹھاتے ہوئے اپنی نئی ٹیکنالوجی امریکی چِپ ساز کمپنی این ویڈیا (Nvidia) کے بجائے مقامی چینی سپلائرز، بالخصوص ہواوے (Huawei) کے ساتھ شیئر کی ہے۔ یہ فیصلہ عالمی ٹیکنالوجی کی صنعت کے عام طریقہ کار سے ہٹ کر ہے، کیونکہ عموماً ہارڈویئر اور سافٹ ویئر کی مطابقت کے لیے بڑی عالمی کمپنیوں کے ساتھ تعاون کیا جاتا ہے۔ ماہرین اس اقدام کو چین کی جانب سے اے آئی ہارڈویئر میں خود کفالت اور مقامی ایکو سسٹم کو مضبوط بنانے کی ایک بڑی کوشش کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔