LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
الیکشن کمیشن کی بڑی کارروائی؛ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کی جماعت سمیت 2 سیاسی پارٹیاں ڈی لسٹ پاک بحریہ کی پہلی ‘ہنگور کلاس’ آبدوز بیڑے میں شامل؛ صدرِ مملکت کی چین میں کمیشننگ تقریب میں شرکت وزیراعظم نے اپنا گھر سکیم کا اجرا کر دیا، اہل افراد میں چیک تقسیم وفاقی آئینی عدالت نے سندھ ہائیکورٹ فیصلہ معطل کردیا آبنائے ہرمز کی بندش، بحران سنگین ہونے لگا سفیرِ پاکستان کی چیئرمین امریکی خارجہ امور کمیٹی سے ملاقات؛ خطے میں امن کے لیے پاکستان کے کلیدی کردار کا اعتراف صومالیہ کی یرغمال پاکستانیوں کی بحفاظت وطن واپسی کی یقین دہانی امریکہ آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے نیا عالمی اتحاد بنانے کیلئے سرگرم آج ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم شدید گرم اور خشک رہنے کا امکان سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، انڈیکس ایک لاکھ 63 ہزار پوائنٹس کی حد کھو بیٹھا ایرانی پرچم بردار بحری جہاز کے عملے کے 6 ارکان رہا صدر پیوٹن کی 9 مئی کو یوکرین کے ساتھ عارضی جنگ بندی کی پیشکش امریکی بحری بیڑا جیرالڈ فورڈ کی مرمت کے لیے مشرقِ وسطیٰ سے واپسی سندھ بھر میں دفعہ 144 کی مدت میں توسیع، جلسے جلوس اور احتجاج پر پابندی برقرار امریکی مرکزی بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا،شرحِ سود برقرار

2040 تک موٹاپے سے 22 کروڑ بچوں کے متاثر ہونے کا خدشہ

Web Desk

5 March 2026

ورلڈ اوبیسٹی فیڈریشن کی تازہ رپورٹ میں دنیا بھر میں بچوں میں بڑھتے ہوئے موٹاپے کے بحران پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا گیا ہے کہ اگر مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو 2040 تک 5 سے 19 سال کی عمر کے تقریباً 22 کروڑ بچے موٹاپے کا شکار ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 2040 تک تقریباً 12 کروڑ سکول جانے والے بچوں میں دائمی بیماریوں کی ابتدائی علامات ظاہر ہونے کا خدشہ ہے، جن میں دل کے امراض اور ذیابیطس شامل ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2025 میں دنیا بھر میں تقریباً 18 کروڑ بچے موٹاپے کا شکار تھے۔

اعداد و شمار کے مطابق چین سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے جہاں تقریباً 6.2 کروڑ بچے موٹاپے کا شکار ہیں، جبکہ بھارت میں یہ تعداد 4.1 کروڑ اور امریکا میں 2.7 کروڑ ہے۔ یورپ میں صورتحال سب سے زیادہ برطانیہ میں تشویشناک ہے جہاں تقریباً 38 لاکھ بچوں کا باڈی ماس انڈیکس (BMI) خطرناک حد تک بلند ہے۔

ورلڈ اوبیسٹی فیڈریشن کی سربراہ جوہانا رالسٹن نے کہا کہ ایک پوری نسل کو موٹاپے اور مہلک بیماریوں کے حوالے کر دینا درست نہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے ماہر ڈاکٹر کریملن وکرما سنگھے کے مطابق بیشتر حکومتیں فوڈ انڈسٹری کو بچوں کو نشانہ بنانے سے روکنے میں ناکام ہیں۔ انہوں نے اس مسئلے کے حل کے لیے مضبوط سیاسی عزم اور مؤثر عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں موٹاپے کے کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں، اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلیں ایک بڑے صحت کے بحران کا سامنا کر سکتی ہیں۔