LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
لطف آباد میں گھر کی دوسری منزل پر پراسرار آتشزدگی، بیوہ ماں اور دو کمسن بیٹیاں جاں بحق، قتل کا شبہ اسرائیلی انتخابات: ابتدائی نتائج میں نیتن یاہو اتحاد کی برتری، اکثریت سے دور شہباز شریف نے مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کا اہم اجلاس کل طلب کر لیا حکومت اور پیپلز پارٹی مذاکرات کا دوسرا دور ختم، بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق سعودی سفیر کی خواجہ آصف سے ملاقات، دفاعی تعاون مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ سہیل آفریدی سمیت دیگر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری کا حکم نامہ جاری برآمدات میں اضافے کیلئے جی ایس پی پلس فریم ورک سے بھرپور استفادہ کیا جائے: اسحاق ڈار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے 6 رفقاء کی فہرست جیل حکام کو جمع روہڑی کے قریب ایل پی جی باؤزر دھماکے میں 2 افراد جاں بحق، 4 زخمی مصنوعی ذہانت سے سرکاری اخراجات کم کرنے کا منصوبہ، ہزاروں نوکریاں ختم ہوں گی حوثی ملیشیا کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ روس اور ایران کے درمیان 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط گھریلو تنازع پر بھائی نے فائرنگ کرکے دو بہنوں کو قتل کردیا ایران کا مستقبل سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ہوگا، صدر مسعود پزشکیان انٹربینک میں روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید سستا ہوگیا

2040 تک موٹاپے سے 22 کروڑ بچوں کے متاثر ہونے کا خدشہ

Web Desk

5 March 2026

ورلڈ اوبیسٹی فیڈریشن کی تازہ رپورٹ میں دنیا بھر میں بچوں میں بڑھتے ہوئے موٹاپے کے بحران پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا گیا ہے کہ اگر مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو 2040 تک 5 سے 19 سال کی عمر کے تقریباً 22 کروڑ بچے موٹاپے کا شکار ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 2040 تک تقریباً 12 کروڑ سکول جانے والے بچوں میں دائمی بیماریوں کی ابتدائی علامات ظاہر ہونے کا خدشہ ہے، جن میں دل کے امراض اور ذیابیطس شامل ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2025 میں دنیا بھر میں تقریباً 18 کروڑ بچے موٹاپے کا شکار تھے۔

اعداد و شمار کے مطابق چین سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے جہاں تقریباً 6.2 کروڑ بچے موٹاپے کا شکار ہیں، جبکہ بھارت میں یہ تعداد 4.1 کروڑ اور امریکا میں 2.7 کروڑ ہے۔ یورپ میں صورتحال سب سے زیادہ برطانیہ میں تشویشناک ہے جہاں تقریباً 38 لاکھ بچوں کا باڈی ماس انڈیکس (BMI) خطرناک حد تک بلند ہے۔

ورلڈ اوبیسٹی فیڈریشن کی سربراہ جوہانا رالسٹن نے کہا کہ ایک پوری نسل کو موٹاپے اور مہلک بیماریوں کے حوالے کر دینا درست نہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے ماہر ڈاکٹر کریملن وکرما سنگھے کے مطابق بیشتر حکومتیں فوڈ انڈسٹری کو بچوں کو نشانہ بنانے سے روکنے میں ناکام ہیں۔ انہوں نے اس مسئلے کے حل کے لیے مضبوط سیاسی عزم اور مؤثر عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں موٹاپے کے کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں، اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلیں ایک بڑے صحت کے بحران کا سامنا کر سکتی ہیں۔