LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
الجزائر کا اماراتی طیاروں کے لیے فضائی حدود بند کرنے کا اعلان این سی سی آئی اے میں نفری کم، وفاقی پولیس کا 23 افسران بھجوانے کا فیصلہ روس کے سرحدی علاقے میں یوکرینی ڈرون حملہ، 2 افراد ہلاک، 7 زخمی روس کے یوکرین کے صنعتی شہر پاولو ہراد پر حملے، 7 افراد ہلاک، 76 زخمی سعودی عرب کو حوثی حملوں کے خلاف دفاع کا حق حاصل ہے، عبدالعزیز الوصل جماعت اسلامی کا لانگ مارچ، مرکزی قیادت نے تاریخ کے تعین کا اختیار حافظ نعیم کو دے دیا نیتن یاہو کی ٹرمپ کو ایران کیخلاف ناکہ بندی اور معاشی دباؤ پر مبارکباد نائن الیون کے زخم آج بھی تازہ، دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی: ٹرمپ ایران زخمی جانور کی طرح آخری وقت میں ہے، امریکی وزیر خزانہ کا دعویٰ بلوچستان میں آخری دہشت گرد کے خاتمے تک اقدامات جاری رہیں گے: کور کمانڈر کوئٹہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول، ایران کیخلاف جنگ مکمل کرینگے: پیٹ ہیگسیتھ وزیراعظم بجلی کی لوڈشیڈنگ پر برہم، 2 گھنٹے سے زائد نہ کرنے کا حکم ایرانی نائب صدر کا یمن میں حوثیوں کی کارروائیوں پر اظہارِ مسرت سندھ اسمبلی نے رینجرز کی تعیناتی میں مزید ایک سال کی توسیع کر دی ایران کی آئی اے ای اے پر کڑی تنقید، جنگ کا جواز فراہم کرنے کا الزام

فلو کی تمام اقسام سے تحفظ دینے والا نیزل سپرے تیار

Web Desk

6 February 2026

سائنسدانوں نے ایک نیا ناک کے ذریعے استعمال ہونے والا اینٹی انفلوئنزا سپرے تیار کیا ہے جو مختلف قسم کے فلو وائرس سے بچاؤ میں محفوظ اور مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ پیش رفت موسمی انفلوئنزا کی وباؤں کا مقابلہ کرنے کے لیے نئی حکمت عملی فراہم کرتی ہے۔

ہارورڈ ٹی ایچ چن سکول آف پبلک ہیلتھ کے محققین نے CR9114 نامی اینٹی باڈی تیار کی ہے، جسے ناک کے ذریعے جسم میں داخل کیا جا سکتا ہے۔ ابتدائی کلینیکل ٹرائلز میں صحت مند رضاکاروں پر یہ بات سامنے آئی کہ سپرے سے اینٹی باڈیز وائرس سے جڑ کر اسے ناکارہ بناتی ہیں اور انسانی لیے محفوظ و قابل برداشت ہیں۔

143 شرکا پر کیے گئے دو ٹرائلز میں یہ بھی ثابت ہوا کہ اینٹی باڈی سپرے ہر نظام الاوقات اور خوراک میں محفوظ ہے، اور یہ انسانوں میں انفلوئنزا کے خلاف مؤثر مدافعتی تحفظ فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

محققین نے تجرباتی نیزل سپرے کو بندروں پر بھی ٹیسٹ کیا، جس سے پتہ چلا کہ دن میں دو بار سپرے کرنے سے انفلوئنزا A اور B دونوں کے خلاف بہترین تحفظ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ علاج شدہ رضاکاروں کی ناک سے حاصل شدہ اینٹی باڈیز لیب میں وائرس کے ساتھ جڑ کر اسے ناکارہ کر سکتی ہیں۔

نیوزی لینڈ کے ملاگن انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ریسرچ کی امیونولوجسٹ ازابیل مونٹگمری کے مطابق، ناک کے ذریعے اینٹی باڈی کی فراہمی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ وائرس کے داخلے کی جگہ پر اینٹی باڈیز کی زیادہ مقدار فراہم کرتی ہے۔ تاہم، یہ اینٹی باڈیز ناک کی سطح سے تیزی سے ختم ہو جاتی ہیں، اس لیے یہ ویکسین کی جگہ نہیں لے گی بلکہ وبا کے دوران قلیل مدتی تحفظ فراہم کر سکتی ہے۔

یہ سپرے موسمی انفلوئنزا کے ابتدائی پھیلاؤ کے مراحل میں ویکسین کے ساتھ معاون ثابت ہو سکتا ہے اور انفلوئنزا کے خلاف نئی حفاظتی حکمت عملی کے طور پر اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔