LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
الجزائر کا اماراتی طیاروں کے لیے فضائی حدود بند کرنے کا اعلان این سی سی آئی اے میں نفری کم، وفاقی پولیس کا 23 افسران بھجوانے کا فیصلہ روس کے سرحدی علاقے میں یوکرینی ڈرون حملہ، 2 افراد ہلاک، 7 زخمی روس کے یوکرین کے صنعتی شہر پاولو ہراد پر حملے، 7 افراد ہلاک، 76 زخمی سعودی عرب کو حوثی حملوں کے خلاف دفاع کا حق حاصل ہے، عبدالعزیز الوصل جماعت اسلامی کا لانگ مارچ، مرکزی قیادت نے تاریخ کے تعین کا اختیار حافظ نعیم کو دے دیا نیتن یاہو کی ٹرمپ کو ایران کیخلاف ناکہ بندی اور معاشی دباؤ پر مبارکباد نائن الیون کے زخم آج بھی تازہ، دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی: ٹرمپ ایران زخمی جانور کی طرح آخری وقت میں ہے، امریکی وزیر خزانہ کا دعویٰ بلوچستان میں آخری دہشت گرد کے خاتمے تک اقدامات جاری رہیں گے: کور کمانڈر کوئٹہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول، ایران کیخلاف جنگ مکمل کرینگے: پیٹ ہیگسیتھ وزیراعظم بجلی کی لوڈشیڈنگ پر برہم، 2 گھنٹے سے زائد نہ کرنے کا حکم ایرانی نائب صدر کا یمن میں حوثیوں کی کارروائیوں پر اظہارِ مسرت سندھ اسمبلی نے رینجرز کی تعیناتی میں مزید ایک سال کی توسیع کر دی ایران کی آئی اے ای اے پر کڑی تنقید، جنگ کا جواز فراہم کرنے کا الزام

روس کے یوکرین کے صنعتی شہر پاولو ہراد پر حملے، 7 افراد ہلاک، 76 زخمی

Web Desk

11 September 2026

روسی فورسز نے جنوب مشرقی یوکرین کے اہم صنعتی و دفاعی شہر پاولو ہراد (Pavlohrad) پر بڑے پیمانے پر خونریز فضائی و زمینی حملے کیے ہیں، جن کے نتیجے میں کم از کم 7 افراد ہلاک اور 76 زخمی ہو گئے ہیں۔ علاقائی گورنر کے مطابق روسی فوج نے ڈرونز، توپ خانے اور وزنی بموں کی مدد سے شہر کے 5 اضلاع کو نشانہ بنایا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز میں متعدد دکانوں، عمارتوں اور تباہ شدہ جلی ہوئی گاڑیوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔

پاولو ہراد کا شہر یوکرینی فوج کے لیے ایک کلیدی لاجسٹک سپلائی روٹ کی حیثیت رکھتا ہے، جو وسطی یوکرین کو مشرقی محاذ پر جنگ لڑنے والی پیشگی افواج سے ملاتا ہے۔ اس حملے کے علاوہ روسی فورسز نے یوکرین کے دارالحکومت کیف (Kyiv) میں ایک پیٹرول اسٹیشن اور جنوب مشرقی شہر دنیپرو (Dnipro) میں ایک بین الاقوامی زرعی کاروباری کمپنی کی تنصیب کو بھی فضائی نشانہ بنایا۔ واضح رہے کہ حالیہ ہفتوں کے دوران ماسکو نے یوکرین کے اقتصادی و لاجسٹکس انفراسٹرکچر کو مفلوج کرنے کے لیے فضائی حملوں کی شدت میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔