LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جماعت اسلامی کا لانگ مارچ، مرکزی قیادت نے تاریخ کے تعین کا اختیار حافظ نعیم کو دے دیا نیتن یاہو کی ٹرمپ کو ایران کیخلاف ناکہ بندی اور معاشی دباؤ پر مبارکباد نائن الیون کے زخم آج بھی تازہ، دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی: ٹرمپ ایران زخمی جانور کی طرح آخری وقت میں ہے، امریکی وزیر خزانہ کا دعویٰ بلوچستان میں آخری دہشت گرد کے خاتمے تک اقدامات جاری رہیں گے: کور کمانڈر کوئٹہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول، ایران کیخلاف جنگ مکمل کرینگے: پیٹ ہیگسیتھ وزیراعظم بجلی کی لوڈشیڈنگ پر برہم، 2 گھنٹے سے زائد نہ کرنے کا حکم ایرانی نائب صدر کا یمن میں حوثیوں کی کارروائیوں پر اظہارِ مسرت سندھ اسمبلی نے رینجرز کی تعیناتی میں مزید ایک سال کی توسیع کر دی ایران کی آئی اے ای اے پر کڑی تنقید، جنگ کا جواز فراہم کرنے کا الزام مولانا سے ملاقات میں سینیٹ اور قومی اسمبلی میں مشترکہ اپوزیشن پر اتفاق ہوا: بیرسٹر گوہر موخا ایئرپورٹ پر سعودی عرب کے 2 فضائی حملے، حوثی باب المندب کے قریب پہنچ گئے پوزیشن کا اہم اجلاس: 27 ستمبر احتجاج کی تیاریوں کی ہدایت، ملک گیر آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ محسن نقوی سے رابطہ رہتا ہے، تفصیلات نہیں بتائیں گے، بیرسٹر گوہر چیف الیکشن کمشنر کی تقرری، حکومت اور حزب اختلاف میں مشاورت کا آغاز

نیتن یاہو کی ٹرمپ کو ایران کیخلاف ناکہ بندی اور معاشی دباؤ پر مبارکباد

Web Desk

11 September 2026

تل ابیب: اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایران کے خلاف سخت امریکی بحری ناکہ بندی اور شدید معاشی دباؤ کی پالیسی پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ایران کو دنیا بھر میں عدم استحکام اور تشدد کا سب سے بڑا ذریعہ قرار دیا ہے۔

اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کردہ اپنے خصوصی بیان میں کہا کہ گزشتہ ایک سال کے عرصے میں امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ اور اتحادی حکمتِ عملی نے تاریخی اور غیر معمولی پیش رفت حاصل کی ہے۔

 نیتن یاہو کے بقول تہران اور اس کے اتحادیوں پر مشتمل نام نہاد ‘بدی کا محور’ (Axis of Evil) عسکری و معاشی طور پر ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ کمزور ہو چکا ہے، جبکہ اسرائیلی اور امریکی عوام اس مشترکہ جنگ میں صدر ٹرمپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے ایران کی معاشی ناکہ بندی، معاشی پابندیوں اور سمندری رکاوٹوں کو سراہتے ہوئے ان اقدامات پر امریکی صدر کو خصوصی خراجِ تحسین پیش کیا۔واضح رہے کہ ایران کے خلاف اس ہمہ گیر جنگ کا باقاعدہ آغاز 28 فروری 2026 کو اس وقت ہوا تھا جب امریکا اور اسرائیل نے سفارتی مذاکرات کی موجودگی کے باوجود تہران پر مشترکہ ہوائی حملے کیے تھے۔ابتدائی حملوں اور ایران کے جوابی وار کے بعد یہ تصادم پورے مشرقِ وسطیٰ میں پھیل گیا، جو بعد ازاں سخت ترین معاشی پابندیوں اور امریکی بحری ناکہ بندی کی شکل اختیار کر گیا۔