LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسلام آباد مذاکرات کا دوسرا مرحلہ: وزیر داخلہ محسن نقوی اور ایرانی سفیر کی ملاقات جاپان میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 7.5 ریکارڈ، سونامی کا خطرہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فون: ناکہ بندی مذاکرات میں رکاوٹ ہے، روئٹرز کا دعویٰ پاک مصر مشق ’تھنڈر II‘ کامیابی سے مکمل، انسداد دہشتگردی تعاون مزید مضبوط پاکستان نے امن کیلئے کردار ادا کیا، امریکا ناقابلِ اعتماد، مذاکرات میں شرکت کا کوئی ارادہ نہیں: ایران چین کی بے مثال ترقی دنیا کیلئے ایک روشن مثال ہے: مریم نواز اسلام آباد مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ: وزیر داخلہ محسن نقوی کی امریکی سفیر سے ملاقات، سیکیورٹی انتظامات پر بریفنگ ایران کا امریکا کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کا فیصلہ، غیر ضروری مطالبات ماننے سے انکار امریکا سے مذاکرات جاری، جنگ کیلئے بھی تیار ہیں: محمد باقر قالیباف پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر شدید مندی پاکستان پھر مرکزِ نگاہ: ایران سے مذاکرات کا اگلا دور اسلام آباد میں ہوگا: ٹرمپ امریکا کا ایرانی تجارتی جہاز پر قبضہ، ایران کا ’بحری قزاقی‘ کا جواب دینے کا اعلان وفاقی سیکریٹریٹ اسلام آباد میں دفاتر کا کام گھر سے کرنے کا حکم، ملازمین کو شہر میں رہنے کی ہدایت ایل این جی کی فوری ملی تو بجلی مہنگی اور لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہوگا، پاور ڈویژن کا انتباہ وزیراعظم شہباز شریف کا ایرانی صدر سے رابطہ، خطے کی صورتحال پر اہم گفتگو

شیخ حسینہ واجد کے بعد بنگلادیش کی قیادت کس کے ہاتھ میں آئے گی؟ فیصلہ 12 فروری ہوگا

Web Desk

1 February 2026

بنگلادیش میں وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے دور کے اختتام کے بعد نئے حکمران کے انتخاب کے لیے تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ 12 فروری کو ہونے والے انتخابات میں 350 رکنی پارلیمنٹ کی 300 نشستوں پر براہِ راست ووٹنگ ہوگی۔ خواتین کے لیے مخصوص 50 نشستیں ووٹوں کے تناسب کے حساب سے مختلف سیاسی جماعتوں میں تقسیم کی جائیں گی۔

پارلیمانی ارکان کے انتخاب کے بعد وزیراعظم کے انتخاب کے لیے کم از کم 151 ارکان کی حمایت لازمی ہوگی۔ یہ بات یقینی بنائے گی کہ وزارت عظمیٰ کے لیے منتخب رہنما کو پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل ہو۔

اس وقت بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) سب سے مضبوط جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے، جس کے 288 امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ بی این پی کے ساتھ دیگر 9 جماعتیں بھی انتخابی اتحاد میں شامل ہیں۔ اس کے مقابلے میں جماعت اسلامی بنگلادیش کے 224 امیدوار میدان میں ہیں، جو جماعت اسلامی کی قیادت میں قائم ہم خیال اتحاد کے تحت انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ اس اتحاد میں بنگلادیش خلافت مجلس کے 34 امیدوار اور نیشنل سٹیزن پارٹی کے 32 امیدوار بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ شیخ حسینہ واجد کی جماعت عوامی لیگ کو پہلے ہی کالعدم قرار دیا جاچکا ہے، جس کے بعد ملک کے عوام کی توجہ وزارت عظمیٰ کے نئے امیدوار کی جانب مرکوز ہوگئی ہے۔ عوامی رائے اور ووٹوں کے نتیجے سے ہی یہ واضح ہوگا کہ بنگلادیش کے عوام کس جماعت یا اتحاد کو اپنا قیادت منتخب کرتے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق 12 فروری کے انتخابات نہ صرف ملک کی آئندہ حکومت کا تعین کریں گے بلکہ سیاسی منظرنامے میں بڑی تبدیلیوں کا باعث بھی بنیں گے۔ انتخابی عمل اور پارلیمانی ارکان کی تعداد کے لحاظ سے یہ فیصلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ وزیراعظم کے لیے مطلوبہ 151 ارکان کی حمایت کے بغیر کوئی بھی امیدوار وزارت عظمیٰ کا عہدہ حاصل نہیں کر سکتا۔