LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جو پارلیمنٹ کو مضبوط کرے اس کے ہاتھ چومنے کو تیار ہوں: محمود خان اچکزئی چند وفاقی وزراء وزیراعظم کیلئے مشکلات پیدا کر رہے ہیں: بلاول بھٹو زرداری قومی اسمبلی میں وزیر اعظم اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان دلچسپ جملوں کا تبادلہ آزاد کشمیر کی ترقی اور عوامی فلاح وبہبود سے متعلق مطالبات مان لئے: رانا ثناء اللہ پی ٹی آئی نے سیاسی رواداری کے کلچر کو برباد کر دیا: خواجہ آصف مستقبل کی جنگیں نئی حکمت عملیوں کی متقاضی ہیں: نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف پاکستان خطے کے امن کیلئے تعمیری کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے: ترجمان دفتر خارجہ میاں بیوی ساتھ نہ رہنے کے باوجود بھی خاتون حق مہر کی حقدار، لاہور ہائیکورٹ ہنر مند نوجوان ملک و قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں: مریم نواز نادرا کی اپیل منظور،ماتحت عدالتوں کے شناختی کارڈ بحال کرنے کے فیصلے کالعدم قرار امریکی صدر قرارداد کی منظوری پر برہم، سینیٹ نے مجھے روک کر دشمن کی مدد کی: ٹرمپ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ٹریڈنگ کا مثبت زون میں آغاز محسن نقوی کی ایرانی ہم منصب سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق ٹرمپ کے قریبی اتحادیوں کی اسرائیل کو اعتماد میں لینے کی کوشش امریکی عوام کی اکثریت کو جنگ بندی زیادہ عرصہ برقرار نہ رہنے کا خدشہ

شیخ حسینہ واجد کے بعد بنگلادیش کی قیادت کس کے ہاتھ میں آئے گی؟ فیصلہ 12 فروری ہوگا

Web Desk

1 February 2026

بنگلادیش میں وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے دور کے اختتام کے بعد نئے حکمران کے انتخاب کے لیے تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ 12 فروری کو ہونے والے انتخابات میں 350 رکنی پارلیمنٹ کی 300 نشستوں پر براہِ راست ووٹنگ ہوگی۔ خواتین کے لیے مخصوص 50 نشستیں ووٹوں کے تناسب کے حساب سے مختلف سیاسی جماعتوں میں تقسیم کی جائیں گی۔

پارلیمانی ارکان کے انتخاب کے بعد وزیراعظم کے انتخاب کے لیے کم از کم 151 ارکان کی حمایت لازمی ہوگی۔ یہ بات یقینی بنائے گی کہ وزارت عظمیٰ کے لیے منتخب رہنما کو پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل ہو۔

اس وقت بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) سب سے مضبوط جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے، جس کے 288 امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ بی این پی کے ساتھ دیگر 9 جماعتیں بھی انتخابی اتحاد میں شامل ہیں۔ اس کے مقابلے میں جماعت اسلامی بنگلادیش کے 224 امیدوار میدان میں ہیں، جو جماعت اسلامی کی قیادت میں قائم ہم خیال اتحاد کے تحت انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ اس اتحاد میں بنگلادیش خلافت مجلس کے 34 امیدوار اور نیشنل سٹیزن پارٹی کے 32 امیدوار بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ شیخ حسینہ واجد کی جماعت عوامی لیگ کو پہلے ہی کالعدم قرار دیا جاچکا ہے، جس کے بعد ملک کے عوام کی توجہ وزارت عظمیٰ کے نئے امیدوار کی جانب مرکوز ہوگئی ہے۔ عوامی رائے اور ووٹوں کے نتیجے سے ہی یہ واضح ہوگا کہ بنگلادیش کے عوام کس جماعت یا اتحاد کو اپنا قیادت منتخب کرتے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق 12 فروری کے انتخابات نہ صرف ملک کی آئندہ حکومت کا تعین کریں گے بلکہ سیاسی منظرنامے میں بڑی تبدیلیوں کا باعث بھی بنیں گے۔ انتخابی عمل اور پارلیمانی ارکان کی تعداد کے لحاظ سے یہ فیصلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ وزیراعظم کے لیے مطلوبہ 151 ارکان کی حمایت کے بغیر کوئی بھی امیدوار وزارت عظمیٰ کا عہدہ حاصل نہیں کر سکتا۔