LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جاپان میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 7.5 ریکارڈ، سونامی کا خطرہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فون: ناکہ بندی مذاکرات میں رکاوٹ ہے، روئٹرز کا دعویٰ پاک مصر مشق ’تھنڈر II‘ کامیابی سے مکمل، انسداد دہشتگردی تعاون مزید مضبوط پاکستان نے امن کیلئے کردار ادا کیا، امریکا ناقابلِ اعتماد، مذاکرات میں شرکت کا کوئی ارادہ نہیں: ایران چین کی بے مثال ترقی دنیا کیلئے ایک روشن مثال ہے: مریم نواز اسلام آباد مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ: وزیر داخلہ محسن نقوی کی امریکی سفیر سے ملاقات، سیکیورٹی انتظامات پر بریفنگ ایران کا امریکا کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کا فیصلہ، غیر ضروری مطالبات ماننے سے انکار امریکا سے مذاکرات جاری، جنگ کیلئے بھی تیار ہیں: محمد باقر قالیباف پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر شدید مندی پاکستان پھر مرکزِ نگاہ: ایران سے مذاکرات کا اگلا دور اسلام آباد میں ہوگا: ٹرمپ امریکا کا ایرانی تجارتی جہاز پر قبضہ، ایران کا ’بحری قزاقی‘ کا جواب دینے کا اعلان وفاقی سیکریٹریٹ اسلام آباد میں دفاتر کا کام گھر سے کرنے کا حکم، ملازمین کو شہر میں رہنے کی ہدایت ایل این جی کی فوری ملی تو بجلی مہنگی اور لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہوگا، پاور ڈویژن کا انتباہ وزیراعظم شہباز شریف کا ایرانی صدر سے رابطہ، خطے کی صورتحال پر اہم گفتگو ایران سے مذاکرات کے لیے میری ٹیم کل اسلام آباد پہنچ رہی ہے، ٹرمپ کا بڑا اعلان

پاکستان نے امن کیلئے کردار ادا کیا، امریکا ناقابلِ اعتماد، مذاکرات میں شرکت کا کوئی ارادہ نہیں: ایران

Web Desk

20 April 2026

ایران کی اعلیٰ قیادت اور وزارتِ خارجہ کی جانب سے امریکہ کے ساتھ اسلام آباد مذاکرات کے حوالے سے انتہائی محتاط اور سخت موقف سامنے آیا ہے، جس میں سفارت کاری کے دروازے کھلے رکھنے کے باوجود واشنگٹن پر شدید عدم اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ ایران کو امریکہ پر رتی برابر بھروسہ نہیں کیونکہ اس نے بحری ناکہ بندی، ایرانی جہاز پر حملے اور لبنان جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے ذریعے ثابت کر دیا ہے کہ وہ امن کے لیے سنجیدہ نہیں ہے۔ ترجمان کے مطابق، موجودہ حالات میں مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کا تاحال کوئی ارادہ نہیں ہے، تاہم پاکستان کی جانب سے امن کے لیے ادا کیے گئے مخلصانہ کردار کی قدر کی جاتی ہے۔

دوسری جانب، ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی اور اسپیکر محمد باقر قالیباف کا موقف تہران کی “مذاکرات بھی اور تیاری بھی” کی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔ ابراہیم عزیزی کا کہنا ہے کہ مذاکرات دراصل میدانِ جنگ کا تسلسل ہیں اور ایران کسی بھی قیمت پر اپنی ‘ریڈ لائنز’ اور قومی مفادات پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے اسلام آباد ٹیم بھیجنے کو امریکی رویے میں مثبت تبدیلی سے مشروط کیا ہے۔ اسی طرح باقر قالیباف نے واضح کیا کہ ایران دشمن پر بھروسہ کیے بغیر ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، کیونکہ جنگ کسی بھی لمحے شدت اختیار کر سکتی ہے۔ ماہرین ان بیانات کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور امریکی بحری ناکہ بندی کے جواب میں ایران کی ایک دفاعی اور سفارتی حکمتِ عملی قرار دے رہے ہیں۔