LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان نے امن کیلئے کردار ادا کیا، امریکا ناقابلِ اعتماد، مذاکرات میں شرکت کا کوئی ارادہ نہیں: ایران چین کی بے مثال ترقی دنیا کیلئے ایک روشن مثال ہے: مریم نواز اسلام آباد مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ: وزیر داخلہ محسن نقوی کی امریکی سفیر سے ملاقات، سیکیورٹی انتظامات پر بریفنگ ایران کا امریکا کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کا فیصلہ، غیر ضروری مطالبات ماننے سے انکار امریکا سے مذاکرات جاری، جنگ کیلئے بھی تیار ہیں: محمد باقر قالیباف پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر شدید مندی پاکستان پھر مرکزِ نگاہ: ایران سے مذاکرات کا اگلا دور اسلام آباد میں ہوگا: ٹرمپ امریکا کا ایرانی تجارتی جہاز پر قبضہ، ایران کا ’بحری قزاقی‘ کا جواب دینے کا اعلان وفاقی سیکریٹریٹ اسلام آباد میں دفاتر کا کام گھر سے کرنے کا حکم، ملازمین کو شہر میں رہنے کی ہدایت ایل این جی کی فوری ملی تو بجلی مہنگی اور لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہوگا، پاور ڈویژن کا انتباہ وزیراعظم شہباز شریف کا ایرانی صدر سے رابطہ، خطے کی صورتحال پر اہم گفتگو ایران سے مذاکرات کے لیے میری ٹیم کل اسلام آباد پہنچ رہی ہے، ٹرمپ کا بڑا اعلان امیدہے ایران امریکاجنگ بندی میں توسیع ہوجائے گی، ترک وزیرخارجہ اسحاق ڈار اور ایرانی وزیرخارجہ کا رابطہ، خطے میں امن کیلیے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق وٹکوف اور جیرڈکشنرمذاکرات کےلیے اسلام آباد جارہے ہیں، ٹرمپ

ایران کا امریکا کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کا فیصلہ، غیر ضروری مطالبات ماننے سے انکار

Web Desk

20 April 2026

ایران کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے امریکہ کے ساتھ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے ایک واضح اور سخت موقف سامنے آیا ہے، جس میں سفارت کاری کے ساتھ ساتھ عسکری تیاریوں کو بھی برابر اہمیت دی جا رہی ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی اور اسپیکر محمد باقر قالیباف کے بیانات نے تہران کی موجودہ حکمت عملی کو “مذاکرات بھی اور تیاری بھی” کے طور پر پیش کیا ہے۔
ابراہیم عزیزی کے بیان کے اہم نکات:
ابراہیم عزیزی نے مذاکرات کو “میدانِ جنگ کا تسلسل” قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ ایران صرف ان نتائج کو قبول کرے گا جو اس کے قومی مفادات اور سیکیورٹی تقاضوں کے مطابق ہوں گے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ مذاکرات کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ایران کسی بھی قیمت پر یا امریکی دباؤ کے تحت غیر ضروری مطالبات تسلیم کر لے گا۔ ایران نے اپنی ریڈ لائنز مقرر کر رکھی ہیں۔
ایرانی وفد کی اسلام آباد روانگی کا انحصار امریکی ٹیم کی جانب سے موصول ہونے والے “مثبت اشاروں” پر ہے۔ ایران آج یا کل مزید جائزے کے بعد حتمی فیصلہ کرے گا۔
“مذاکرات بھی، تیاری بھی”
ایرانی اسپیکر باقر قالیباف نے تہران کے عدم اعتماد کو دوٹوک الفاظ میں بیان کیا:
عدم اعتماد: دشمن پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا، جنگ کسی بھی لمحے شدت اختیار کر سکتی ہے۔
دوطرفہ حکمت عملی: ایک طرف سفارتی دروازے کھلے رکھے جا رہے ہیں، تو دوسری طرف مسلح افواج کو ہر ممکنہ خطرے کے لیے “ہائی الرٹ” پر رکھا گیا ہے۔قومی سلامتی: قومی سلامتی کو یقینی بنانا مذاکراتی عمل سے زیادہ مقدم ہے۔