LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا نے اپنے دو طیارہ بردار بحری جہاز ایران کے قریب پہنچا دیے اشتہاری ملزم کی شادی میں شرکت پر پولیس کی دوڑیں لگ گئیں کراچی میں 3 بچوں سمیت 27 افغان مہاجرین گرفتار سندھ میں دہشت گردوں، جرائم پیشہ افراد اور سہولت کاروں کیخلاف کارروائیاں تیز کرنے کا فیصلہ امریکا نے متحدہ عرب امارات کیلیے تجارت کے دروازے کھول دیے علما کرام ڈیجیٹل کرنسی کے حوالے سے شرعی جائزہ لیں، بلال بن ثاقب کی مفتی تقی عثمانی سےملاقات میں اپیل بنگلا دیش میں سیلاب نے تباہی مچادی، 44 افراد جاں بحق، لاکھوں شہری محصور ایف آئی اے کی جانب سے 39 ہزار سے زائد مسافروں کو آف لوڈ کیے جانے کا انکشاف پی ڈی ایم اے نے گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کا الرٹ جاری کر دیا بلوچستان میں آپریشن ’شعبان‘ جاری، ایک دن میں فتنہ الہندوستان کے 14 دہشت گرد ہلاک پاکستان ترقی کے نئے دور میں داخل، 2035 تک ایک کھرب ڈالر کی معیشت کا ہدف کل جماعتی حریت کانفرنس کا 13 جولائی یومِ شہدائے کشمیر منانے کا اعلان امریکی یہودیوں میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی مقبولیت مٹی میں مل گئی اسحاق ڈار کا مالدیپ کی وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ، 61ویں یومِ آزادی پر مبارکباد دی اسٹاک مارکیٹ میں ہفتہ وار شدید مندی؛ سرمایہ کاروں کے 259 ارب روپے ڈوب گئے،

جرمنی کیلئے پاکستانی مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ

Web Desk

29 January 2026

جرمنی کے لیے پاکستانی مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ گرین پاکستان پراجیکٹ کے پہلے مرحلے میں 15 ٹاول ایکسپورٹرز نے جرمن ڈیو ڈیلیجینس لاء کے مطابق اپنی سسٹین ایبلٹی رپورٹس مکمل کر کے 300 جرمن درآمد کنندگان تک براہِ راست رسائی حاصل کرلی ہے۔

ٹاول مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن میں ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے جرمن قونصل کمرشل اینڈ اکنامک افئیرز مسز اینا کلاس نے کہا کہ پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات کی جرمنی میں کافی مانگ ہے اور پاکستان اور جرمنی کے درمیان ٹیکسٹائل سیکٹر میں گہرے تعلقات ہیں۔

گرین پاکستان پراجیکٹ کے سربراہ ڈاکٹر مائیکل اریڈز نے بتایا کہ جرمنی کی حکومت نے ایک ڈیش بورڈ بنایا ہے جس کے ذریعے سسٹین ایبلٹی رپورٹ مکمل کرنے والے پاکستانی ایکسپورٹرز کے نام اور پروفائل آویزاں ہوں گے، اور یہ ڈیش بورڈ 300 جرمن درآمد کنندگان کے ساتھ براہِ راست رابطے اور برآمدی آرڈرز میں اضافہ کرنے میں مدد کرے گا۔