LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
قومی سطح پر یکساں ای فائلنگ نظام کے قیام کیلئے مشاورتی عمل شروع گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال سے صنعتی سرگرمیاں متاثر، ایف پی سی سی آئی کا ریڈ الرٹ سندھ حکومت کا چترال کے سیلاب متاثرین کیلئے امدادی سامان پشاور پہنچ گیا سوراب میں بم دھماکہ: سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 18 دہشتگرد ہلاک، 3 شہری شہید ایران نے امریکا کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع پر مذاکرات کی تردید کردی امریکا اور ایران کا 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع پر اتفاق مغرب ممالک نے روسی تجارتی جہاز قبضے میں لئے تو بھرپور جواب دیں گے: پوتن مال روڈ واقعہ اس بات کا اشارہ ہے کہ 27 ستمبر کو بھی ایسا ہی ہوسکتا ہے، طلال چوہدری پاکستان، بیلاروس کا اقتصادی و تجارتی تعاون نئی سطح پر لے جانے پر اتفاق امریکی فوج ہماری توقع سے کہیں زیادہ کمزور نکلی: مشیر ایرانی کمانڈر کا بڑا دعویٰ اسحاق ڈار کی حوثیوں کے حملے میں 3 پاکستانیوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق مکہ معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے، باب المندب میں تجارتی جہاز پر حوثی حملہ قابلِ مذمت: ترجمان دفتر خارجہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی ایرانی قیادت سے اہم ملاقات، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا خصوصی پیغام پہنچا دیا نوجوان پاکستان کا انمول سرمایہ اور روشن مستقبل کے معمار ہیں: صدر، وزیراعظم ٹرمپ نے امریکا کو ایک غیر ضروری اور خطرناک جنگ میں جھونک دیا: چک شومر

علما کرام ڈیجیٹل کرنسی کے حوالے سے شرعی جائزہ لیں، بلال بن ثاقب کی مفتی تقی عثمانی سےملاقات میں اپیل

Web Desk

12 July 2026

ورچوئل ایسیٹس ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے ممتاز عالمِ دین مفتی تقی عثمانی سے ایک اہم اور تعمیری ملاقات کی ہے، جس میں انہوں نے کرپٹو کرنسی، بلاک چین اور جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے حوالے سے علمائے کرام سے جامع شرعی جائزہ لینے کی اپیل کی ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ (ایکس) پر جاری اپنے ایک بیان میں بلال بن ثاقب نے بتایا کہ ملاقات کے دوران دونوں شخصیات اس بنیادی مقصد پر متفق تھیں کہ پاکستانی عوام کو ہر قسم کی دھوکہ دہی، استحصال اور مالی نقصان سے محفوظ رکھا جائے۔ انہوں نے مفتی تقی عثمانی کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ بلاک چین، اسٹیبل کوائنز اور حقیقی اثاثوں پر مبنی ٹوکنائزڈ اثاثے ایک وسیع میدان ہیں، اس لیے ان سب کا جائزہ ایک ہی زاویے سے لینے کے بجائے ان کی تکنیکی نوعیت کا باریک بینی سے تجزیہ کرنا ضروری ہے۔ چیئرمین ورچوئل اتھارٹی نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ معزز علمائے کرام، ریگولیٹری اداروں اور صنعت کے ماہرین کے درمیان مسلسل مشاورت کا عمل جاری رہنا چاہیے تاکہ پاکستان کی ڈیجیٹل پالیسی اسلامی اصولوں اور جدید ٹیکنالوجی کی درست سمجھ بوجھ کے مطابق مرتب کی جا سکے۔