LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آزاد کشمیر کی ترقیاتی ترجیحات کا جائزہ، اسحاق ڈار کی عملدرآمد تیز کرنے کی ہدایت ایران نے 27 ایئرلائنز پر امریکی پابندیوں کو معاشی دہشت گردی قرار دے دیا سہیل آفریدی، مینا خان سمیت 4 ملزموں کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی آنکھوں کے امراض کی بروقت تشخیص سے بینائی کے نقصان سے بچا جا سکتا ہے: گورنر سندھ لوڈشیڈنگ کیس: لاہور ہائیکورٹ نے 15 ستمبر کو جواب طلب کرلیا پی ٹی آئی کے 27 ستمبر احتجاج اور لانگ مارچ کے خلاف درخواست: اسلام آباد ہائیکورٹ کے لارجر بنچ میں اہم سماعت وزیراعظم کی زیرِ صدارت اجلاس میں نئی آٹو پالیسی اور الیکٹرک گاڑیوں کے لیے بڑی مراعات کی منظوری حماد اظہر کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں کے وارنٹس پر عملدرآمد تیز کرنے کا فیصلہ میر رضا کیس: وزیر داخلہ سندھ ضیاء لنجھار جوڈیشل کمیشن میں پیش سیف گیمز کے کامیاب انعقاد کیلئے اسپورٹس انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن کا بڑا فیصلہ پاکستان میں ڈیجیٹل لین دین کرنے والوں کی تعداد 20 لاکھ سے تجاوز کر گئی کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر حل طلب مسئلہ، بھارت حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا: دفتر خارجہ حوثی باغیوں کا سعودیہ کے 3 شہروں پر حملہ، یمنی وزیر دفاع کو یرغمال بنا لیا اسلام آباد ہائیکورٹ: بانی پی ٹی آئی کے ایکس اکاؤنٹ پر پابندی اور توہینِ عدالت کیس کی سماعت، پارٹی سے موقف طلب

بیکٹیریا سے بھی چھوٹا کیو آر کوڈ تیار

Web Desk

31 March 2026

ویانا: آسٹریا کی ویانا یونیورسٹی کے محققین نے خوردبینی اجسام کی دنیا میں ایک نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ایک ایسا کیو آر کوڈ (QR Code) تیار کیا ہے جس کا کل رقبہ محض 1.98 مربع مائیکرو میٹر ہے۔ یہ حجم ایک اوسط انسانی خلیے یا بیکٹیریا سے بھی کم ہے، جس کی وجہ سے اسے عام آنکھ یا عام روشنی والے خوردبین سے دیکھنا قطعی ناممکن ہے۔

اس کوڈ کو تیار کرنے کے لیے چارجڈ ذرات کی شعاعوں (Charged Particle Beams) کا استعمال کیا گیا، جس کی مدد سے اسے سیرامک کی ایک خاص قسم پر انتہائی باریکی سے کندہ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طریقے سے تیار کردہ ڈیٹا انتہائی پائیدار ہے اور اسے کئی برسوں تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ اس ننھے سے کیو آر کوڈ کو اسکین کرنے پر یونیورسٹی کی ویب سائٹ کھلتی ہے، تاہم اسکیننگ کے لیے اسکیننگ الیکٹرون مائیکرو اسکوپ (SEM) کا استعمال لازمی ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق یہ محض ایک ریکارڈ نہیں بلکہ مستقبل میں انسانی جسم کے اندر ادویات کی ٹریکنگ، انتہائی حساس سیکیورٹی ٹیگز اور مائیکرو چپس پر ڈیٹا کندہ کرنے کے حوالے سے ایک بڑی پیش رفت ہے۔ گینیز ورلڈ ریکارڈز نے باضابطہ طور پر اسے دنیا کا سب سے چھوٹا کیو آر کوڈ تسلیم کر لیا ہے۔