LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ڈی جی آئی ایس پی آر کی سمرانٹرن شپ 2026 میں طلبہ و طالبات کیساتھ خصوصی نشست نیویارک کے میئر زہران ممدانی نے CNN کے تازہ ترین پول میں ڈیموکریٹس کی تمام اعلیٰ قیادت کو پیچھے چھوڑ دیا بروڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے سے نامور کوہ پیما نرمل پرجا لاپتا ہونے کا خدشہ ایران میں تبدیلی سے مراد نظام کا خاتمہ نہیں، رویوں میں تبدیلی ہے: مارکو روبیو پاکستان کے 2 مزید کرکٹرز کا لنکا پریمئیر لیگ میں معاہدہ، شاہین شاہ آفریدی دستبردار پی این فلیٹ کلب سکواش: عاصم، نور، حمزہ اور ناصر کوارٹر فائنل میں بابر اعظم کی باکسر فاطمہ زہرا کو کانسی کا تمغہ جیتنے پر مبارکباد ماسکو: معروف ریستوران میں خودکش دھماکا، 3 افراد ہلاک، 21 زخمی اسرائیلی فوج کا جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے کئی ارکان شہید کرنے کا دعویٰ ٹرمپ کا ایران پر بڑے حملے کا منصوبہ مؤخر کرنے کا اعلان اسرائیلی فوج اور آبادکاروں کا الخلیل کے قریب فلسطینیوں پر ایک اور حملہ غزہ سے انخلا پر اسرائیل میں سیاسی اختلافات، نیتن یاہو دباؤ کا شکار دہشت گرد اسرائیل کے نہتے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے جاری، مزید 7 فلسطینی شہید سعودی ولی عہد کا ایران پر ممکنہ بڑے حملوں کے امریکی منصوبے پر اظہار تشویش عراقی ملیشیا گروپوں کی اردن پر حملے کی منصوبہ بندی، اردن کی جوابی کارروائی کی وارننگ

بیکٹیریا سے بھی چھوٹا کیو آر کوڈ تیار

Web Desk

31 March 2026

ویانا: آسٹریا کی ویانا یونیورسٹی کے محققین نے خوردبینی اجسام کی دنیا میں ایک نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ایک ایسا کیو آر کوڈ (QR Code) تیار کیا ہے جس کا کل رقبہ محض 1.98 مربع مائیکرو میٹر ہے۔ یہ حجم ایک اوسط انسانی خلیے یا بیکٹیریا سے بھی کم ہے، جس کی وجہ سے اسے عام آنکھ یا عام روشنی والے خوردبین سے دیکھنا قطعی ناممکن ہے۔

اس کوڈ کو تیار کرنے کے لیے چارجڈ ذرات کی شعاعوں (Charged Particle Beams) کا استعمال کیا گیا، جس کی مدد سے اسے سیرامک کی ایک خاص قسم پر انتہائی باریکی سے کندہ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طریقے سے تیار کردہ ڈیٹا انتہائی پائیدار ہے اور اسے کئی برسوں تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ اس ننھے سے کیو آر کوڈ کو اسکین کرنے پر یونیورسٹی کی ویب سائٹ کھلتی ہے، تاہم اسکیننگ کے لیے اسکیننگ الیکٹرون مائیکرو اسکوپ (SEM) کا استعمال لازمی ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق یہ محض ایک ریکارڈ نہیں بلکہ مستقبل میں انسانی جسم کے اندر ادویات کی ٹریکنگ، انتہائی حساس سیکیورٹی ٹیگز اور مائیکرو چپس پر ڈیٹا کندہ کرنے کے حوالے سے ایک بڑی پیش رفت ہے۔ گینیز ورلڈ ریکارڈز نے باضابطہ طور پر اسے دنیا کا سب سے چھوٹا کیو آر کوڈ تسلیم کر لیا ہے۔