LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ملک کو انتشار سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کی، پی ٹی آئی وفد دہشت گردی پر نہیں مانا: امیر مقام و شیری رحمان پی ٹی آئی دہشت گردی پر تعاون سے انکاری، لانگ مارچ اسلام آباد داخل نہیں ہونے دیں گے: رانا ثناء اللہ کے پی حکومت نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہیں کرنا چاہتی، حد سے زیادہ انتظار نہیں ہو سکتا: طلال چوہدری حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات میں ڈیڈلاک برقرار، لانگ مارچ ملتوی نہیں ہوگا: بیرسٹر گوہر نیویارک: 72 گھنٹے کے گرینڈ آپریشن میں لاپتہ اور انسانی اسمگلنگ کا شکار 34 بچے بازیاب ایران اپنے لیے مشکل یا آسان راستہ اختیار کر سکتا ہے: ٹرمپ سہیل آفریدی نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کا روٹ میپ جاری کر دیا لانگ مارچ کا جواب ایمرجنسی یا گورنر راج نہیں ہونا چاہئے: بیرسٹر گوہر لانگ مارچ کو اسلام آباد میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا: رانا ثنا اللہ چھوٹے یونٹس سے لوگ اپنی مرضی سے انتظامی سربراہ منتخب کر سکیں گے، مصطفیٰ کمال سپین میں مہنگے گھروں کے خلاف احتجاج، ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کی طالبان رجیم کیخلاف 68 کارروائیاں،102 اہلکار ہلاک یوکرین کا حملوں کی صورت روسی آئل ریفائنریوں کو نشانہ بنانے کا عمل مزید تیز کرنے کا اعلان سعودی و یمنی افواج نے حوثیوں کیخلاف فوجی کارروائی کا منصوبہ بنا لیا مقبوضہ مغربی کنارے کا پورا علاقہ اسرائیل کا ہے، اتمار بن گویر

وزیراعظم کی زیرِ صدارت اجلاس میں نئی آٹو پالیسی اور الیکٹرک گاڑیوں کے لیے بڑی مراعات کی منظوری

Web Desk

10 September 2026

اسلام آباد: وزیراعظم کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں نئی جامع آٹو پالیسی اور آٹو پارٹس پالیسی کی منظوری دے دی گئی ہے، جس کا مقصد ملک میں گاڑیوں کی مقامی پیداوار، برآمدات اور الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔ پالیسی دستاویزات کے مطابق آٹو پارٹس کی برآمدات بڑھانے کے لیے عالمی ویلیو چینز سے منسلک کرنے، 5 بڑے اینکر مینوفیکچرنگ ادارے لانے اور ان کے گرد ایس ایم ایز (SME) کلسٹرز قائم کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ برآمدی پارٹس کی خام مال اور پرزہ جات کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی ختم کرنے، آٹو پارٹس ایکسپورٹ کونسل کے قیام، کنٹریکٹ مینوفیکچرنگ کی اجازت دینے اور انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ (EDB) کے تمام مراحل کو ڈیجیٹل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔نئی پالیسی میں الیکٹرک اور نیو انرجی گاڑیوں (NEVs) کے لیے غیر معمولی مراعات کی سفارش کی گئی ہے، جن میں سی کے ڈی (CKD)، پارٹس اور خام مال پر صرف 1 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے جبکہ ایف ای ڈی (FED)، سی وی ٹی (CVT) اور ود ہولڈنگ ٹیکس مکمل ختم کرنے کی تجویز شامل ہے۔ اس کے ساتھ ہی الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری کے لیے بینک قرض کی حد 30 لاکھ روپے سے بڑھا کر 1 کروڑ روپے اور قرض کی مدت 3 سال سے 5 سال کر دی گئی ہے، جبکہ ای وی چارجنگ اسٹیشنز کی درآمد پر صرف 1 فیصد کسٹمز ڈیوٹی لاگو ہوگی۔ پالیسی میں گاڑیوں پر ٹیرف میں 80 فیصد تک کمی کی تجویز کے علاوہ صارفین کے تحفط کے لیے گاڑیوں کی بکنگ، قیمت اور ڈیلیوری کی تاریخ کی شفاف فراہمی اور بکنگ کے بعد قیمت بڑھنے کی صورت میں اضافی لاگت کا کچھ بوجھ مینوفیکچرر پر ڈالنے کی اہم شق بھی شامل کی گئی ہے۔