LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سہیل آفریدی سمیت دیگر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری کا حکم نامہ جاری برآمدات میں اضافے کیلئے جی ایس پی پلس فریم ورک سے بھرپور استفادہ کیا جائے: اسحاق ڈار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے 6 رفقاء کی فہرست جیل حکام کو جمع روہڑی کے قریب ایل پی جی باؤزر دھماکے میں 2 افراد جاں بحق، 4 زخمی مصنوعی ذہانت سے سرکاری اخراجات کم کرنے کا منصوبہ، ہزاروں نوکریاں ختم ہوں گی حوثی ملیشیا کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ روس اور ایران کے درمیان 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط گھریلو تنازع پر بھائی نے فائرنگ کرکے دو بہنوں کو قتل کردیا ایران کا مستقبل سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ہوگا، صدر مسعود پزشکیان انٹربینک میں روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید سستا ہوگیا ماسکو میں تیسرے روس افریقہ سربراہی اجلاس کا آغاز، پوتن کا کثیر قطبی عالمی نظام پر زور سیاسی جماعتیں عوامی ریلیف اور عملی اقدامات پر توجہ دیں: شرجیل میمن پولٹری سیکٹر میں اینٹی بائیوٹکس کے استعمال میں کمی کیلئے پاکستان اور ڈنمارک کے ادارے میں معاہدہ چار ملکی اجلاس خطے میں امن و سلامتی کے لیے اہم موقع ہے، عباس عراقچی وزیراعظم آزاد کشمیر کا وادی سیماری میں ایکو ٹورازم منصوبے کا دورہ، حکومتی سرپرستی کا اعلان

وزیراعظم کی زیرِ صدارت اجلاس میں نئی آٹو پالیسی اور الیکٹرک گاڑیوں کے لیے بڑی مراعات کی منظوری

Web Desk

10 September 2026

اسلام آباد: وزیراعظم کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں نئی جامع آٹو پالیسی اور آٹو پارٹس پالیسی کی منظوری دے دی گئی ہے، جس کا مقصد ملک میں گاڑیوں کی مقامی پیداوار، برآمدات اور الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔ پالیسی دستاویزات کے مطابق آٹو پارٹس کی برآمدات بڑھانے کے لیے عالمی ویلیو چینز سے منسلک کرنے، 5 بڑے اینکر مینوفیکچرنگ ادارے لانے اور ان کے گرد ایس ایم ایز (SME) کلسٹرز قائم کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ برآمدی پارٹس کی خام مال اور پرزہ جات کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی ختم کرنے، آٹو پارٹس ایکسپورٹ کونسل کے قیام، کنٹریکٹ مینوفیکچرنگ کی اجازت دینے اور انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ (EDB) کے تمام مراحل کو ڈیجیٹل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔نئی پالیسی میں الیکٹرک اور نیو انرجی گاڑیوں (NEVs) کے لیے غیر معمولی مراعات کی سفارش کی گئی ہے، جن میں سی کے ڈی (CKD)، پارٹس اور خام مال پر صرف 1 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے جبکہ ایف ای ڈی (FED)، سی وی ٹی (CVT) اور ود ہولڈنگ ٹیکس مکمل ختم کرنے کی تجویز شامل ہے۔ اس کے ساتھ ہی الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری کے لیے بینک قرض کی حد 30 لاکھ روپے سے بڑھا کر 1 کروڑ روپے اور قرض کی مدت 3 سال سے 5 سال کر دی گئی ہے، جبکہ ای وی چارجنگ اسٹیشنز کی درآمد پر صرف 1 فیصد کسٹمز ڈیوٹی لاگو ہوگی۔ پالیسی میں گاڑیوں پر ٹیرف میں 80 فیصد تک کمی کی تجویز کے علاوہ صارفین کے تحفط کے لیے گاڑیوں کی بکنگ، قیمت اور ڈیلیوری کی تاریخ کی شفاف فراہمی اور بکنگ کے بعد قیمت بڑھنے کی صورت میں اضافی لاگت کا کچھ بوجھ مینوفیکچرر پر ڈالنے کی اہم شق بھی شامل کی گئی ہے۔