LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پی ٹی آئی کے 27 ستمبر احتجاج اور لانگ مارچ کے خلاف درخواست: اسلام آباد ہائیکورٹ کے لارجر بنچ میں اہم سماعت وزیراعظم کی زیرِ صدارت اجلاس میں نئی آٹو پالیسی اور الیکٹرک گاڑیوں کے لیے بڑی مراعات کی منظوری حماد اظہر کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں کے وارنٹس پر عملدرآمد تیز کرنے کا فیصلہ میر رضا کیس: وزیر داخلہ سندھ ضیاء لنجھار جوڈیشل کمیشن میں پیش سیف گیمز کے کامیاب انعقاد کیلئے اسپورٹس انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن کا بڑا فیصلہ پاکستان میں ڈیجیٹل لین دین کرنے والوں کی تعداد 20 لاکھ سے تجاوز کر گئی کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر حل طلب مسئلہ، بھارت حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا: دفتر خارجہ حوثی باغیوں کا سعودیہ کے 3 شہروں پر حملہ، یمنی وزیر دفاع کو یرغمال بنا لیا اسلام آباد ہائیکورٹ: بانی پی ٹی آئی کے ایکس اکاؤنٹ پر پابندی اور توہینِ عدالت کیس کی سماعت، پارٹی سے موقف طلب پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے دوران منفی رجحان برقرار امریکی اڈے پر ایرانی حملے میں 9 جنگی طیارے نشانہ بن گئے بھاری ٹیکس و مارجن وصولی: پانچ روز میں پٹرول 21.88 روپے فی لیٹر مہنگا مڈ ٹرم انتخابات میں کامیابی پر تمام امریکی شہریوں کو 5,000 ڈالر دینے کا اعلان ایران جنگ جنوری 2029ء تک جاری رہنے کا خدشہ ہے: امریکی میڈیا روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات: ڈائریکٹر سی آئی اے کا فعال کردار ادا کرنے کا امکان

پی ٹی آئی کے 27 ستمبر احتجاج اور لانگ مارچ کے خلاف درخواست: اسلام آباد ہائیکورٹ کے لارجر بنچ میں اہم سماعت

Web Desk

10 September 2026

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 27 ستمبر کو متوقع احتجاج اور لانگ مارچ کو روکنے سے متعلق دائر درخواست پر لارجر بنچ نے سماعت کی۔ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں قائم بنچ میں جسٹس محمد اعظم خان اور جسٹس محمد آصف شامل ہیں۔

سماعت کے آغاز میں اٹارنی جنرل آف پاکستان منصور عثمان اعوان عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور قانونی نکات پر معاونت کی۔ اٹارنی جنرل نے می 2022 میں سپریم کورٹ اور نومبر 2024 میں اسلام آباد ہائیکورٹ کو دی گئی یقین دہانیوں اور ان کی خلاف ورزیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے اسلام آباد انتظامیہ کو احتجاج کے لیے کوئی باضابطہ درخواست جمع نہیں کرائی گئی، جبکہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ اور دیگر ذمہ داران کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس بار مزید تیاری کے ساتھ وفاقی دارالحکومت کو محصور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

صوبائی حکام کو ہدایات کا اختیار: اٹارنی جنرل نے موقف اختیار کیا کہ جب شہریوں کے بنیادی حقوق کا معاملہ ہو تو ہائیکورٹ کسی بھی صوبائی حکومت، چیف سیکرٹری یا آئی جی کو ہدایات جاری کر سکتی ہے۔ انہوں نے فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے اور مسنگ پرسنز کیسز کی نظیریں بھی پیش کیں۔

ریاستی وسائل کا استعمال: اٹارنی جنرل نے استدعا کی کہ تمام صوبائی آئی جیز اور چیف سیکرٹریز کو امن و امان برقرار رکھنے کا پابند کیا جائے اور پرامن احتجاج کے لیے بھی سرکاری مشینری یا وفاقی ملازمین (پی ایس پی افسران) کو غیر قانونی طور پر استعمال کرنے سے روکا جائے۔

چیف جسٹس کے ریمارکس: چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے استفسار کیا کہ کیا کے پی کے چیف سیکرٹری اور آئی جی 2024 کے عدالتی حکم کے پابند نہیں ہیں؟ جس پر اٹارنی جنرل نے تصدیق کی کہ عدالت کا واضح حکم ہر ایگزیکٹو عہدے دار کے لیے واجب التعمیل ہوگا۔

سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے موقف اختیار کیا کہ اس لانگ مارچ کو حملہ نہ سمجھا جائے کیونکہ یہ عدلیہ کی حمایت اور اس کو مضبوط کرنے کے لیے ہے۔ اس پر چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیے کہ عدلیہ اتنی کمزور نہیں کہ اسے کسی سیاسی جماعت کی حمایت یا سہارے کی ضرورت ہو۔

بعد ازاں، ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کی جانب سے مزید تیاری کے لیے التواء کی استدعا پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی مزید سماعت کل تک کے لیے ملتوی کر دی۔