LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کی امید، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا زبردست تیزی پر اختتام سوئی گیس کا عید الاضحیٰ کے لیے نیا شیڈول جاری، صارفین کو سہولت دینے کا اعلان پاکستان میں گردشی قرض، غربت اور بے روزگاری میں اضافہ پٹرول پر مقررہ ہدف سے زیادہ لیوی وصول کی جا رہی ہے، قائمہ کمیٹی میں انکشاف رضوان کی کپتانی میں ٹیم بہتر نتائج نہ دے سکی، ہیڈ کوچ مائیک ہیسن امریکا ایران امن معاہدے کی توقع؛ خام تیل کی عالمی قیمتوں میں بڑی کمی امریکی صدر کا سعودی عرب، قطر اور پاکستان سمیت مسلم ممالک سے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کا مطالبہ 2سال میں پیٹرولیم لیوی سے 2 ہزار 725 ارب وصول، رقم آئی ایم ایف کے 2 قرض پروگراموں سے بھی زیادہ نکلی پاکستان کی پہلی شیڈو پالیسی دستاویزات جاری، نجی شعبے کی ترقی پر زور فیلڈ مارشل نے مذاکرات نتیجہ خیز بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا: امریکی ٹی وی اسلام آباد: وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی ملاقات پاکستان اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کی 15 دستاویزات پر دستخط امریکا کے ساتھ فریم ورک پر پہنچ گئے، وفد ابھی پاکستان بھیجنے کا ارادہ نہیں: ایران پاکستان اور چین کا قومی مفادات پر ایک دوسرے کی مکمل حمایت کا اعلان ٹانک: چیسن کچ میں دہشت گردی، نامعلوم افراد نے مڈل اسکول اور بنیادی ہیلتھ مرکز (BHU) کو دھماکے سے اڑا دیا

بچپن میں عام وائرس سے متاثر ہونا کس خطرناک کینسر کا سبب بن سکتا ہے؟

Web Desk

7 December 2025

برطانوی محققین کو تازہ تحقیق میں یہ معلوم ہوا ہے کہ وائرس مثانے کے بافتوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

دریافت کو ایک بڑی پیشرفت قرار دینے والے سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ یہ دریافت بتا سکتی ہے کہ کیوں گردے کے ٹرانسپلانٹ کرانے والے مریضوں (جن کو بی کے وائرس کے خطرات زیادہ ہوتے ہیں، اس وائرس میں نزلے زکام جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں) کے بعد ازاں مثانے کے کینسر میں مبتلا ہونے کے خطرات زیادہ ہوسکتے ہیں۔

یونیورسٹی آف یارک کے محقق اور تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر سائمن بیکر کا کہنا تھا کہ وائرس سے متعلقہ کینسر کی دیگر اقسام میں (جیسے کہ سروائیکل کینسر) وائرس ڈی این اے ہمارے جینیاتی مٹیریل کے ساتھ مل جاتے ہیں اور ٹیومر کو بناتے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ تحقیق کے نتائج بتاتے ہیں کہ مثانے میں بافتوں کا وائرس کے خلاف مدافعتی عمل ڈی این اے میں تبدیلیوں کا باعث بنتا ہے جو کینسر کا سبب بن سکتا ہے