LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سعودی اتحادی افواج کا حوثیوں پر مدینہ منورہ کے طیبہ گرڈ سٹیشن پر ڈرون حملے کا الزام روس کا جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، کریملن دریائے سندھ کا پانی پینے کے قابل نہیں رہا: محکمہ آبپاشی نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ٹرمپ کیساتھ اچھے تعلقات، یوکرین تنازع حل کرنے کیلئے کوششوں پر شکرگزار ہیں: صدر پوتن کراچی ایئرپورٹ پر کسٹمز کی کارروائی، 60 لاکھ روپے کا سامان برآمد ملکی زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کا اضافہ ستمبر میں مہنگائی 1.27 فیصد بڑھ گئی، سالانہ شرح 10.26 فیصد ریکارڈ فیول سبسڈی سکیم سے 75 لاکھ سے زائد شہری مستفید، وزیراعظم نے حکومتی اقدامات کو سراہ لانگ مارچ معاملہ: حکومت اور اپوزیشن کے درمیان براہ راست رابطہ نابلس میں سیکڑوں اسرائیلی قبضہ گیروں کا حضرت یوسفؑ کے مزار پر حملہ ایپسٹین سے روابط ، ناروے کے وزیراعظم سمیت 11 وزراء پارلیمنٹ میں طلب برطانیہ کے عجائب گھروں میں غیر ملکی سیاحوں کا داخلہ مفت حکومت بزرگ شہریوں کی فلاح وبہبود کیلئے اقدامات کر رہی ہے: مریم نواز مصر: 1700 سال قدیم پراسرار مقبرہ دریافت حکومت نے پٹرول کی قیمت میں اضافہ، ڈیزل سستا کر دیا

مصنوعی کششِ ثقل والے خلائی اسٹیشنز حقیقت کے قریب تر

Web Desk

20 June 2026

واشنگٹن: ایسے جدید ترین خلائی اسٹیشنز، جو مصنوعی کششِ ثقل پیدا کر کے انسانوں کو نظامِ شمسی کی گہرائیوں تک محفوظ سفر کے قابل بنائیں گے، اب حقیقت کے بالکل قریب پہنچ رہے ہیں۔ امریکی خلائی کمپنی ‘واسٹ’ (Vast) ایک ایسے بڑے اور جدید خلائی رہائشی مرکز کی تیاری پر کام کر رہی ہے جو اپنی گردش کے ذریعے پیدا ہونے والی سینٹریپیٹل فورس (Centripetal Force) کو استعمال کر کے مصنوعی کششِ ثقل پیدا کرے گا۔ اس انقلابی ٹیکنالوجی کی بدولت خلا باز طویل عرصے تک خلا میں قیام کر سکیں گے، اور انہیں مائیکرو گریویٹی یا زیرو گریویٹی کے باعث پیدا ہونے والے شدید جسمانی نقصانات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، جس سے مریخ اور اس سے بھی دور کے مقامات تک طویل المدت انسانی مشنز کی راہ ہموار ہوگی۔

کمپنی کے نائب صدر ٹام شیلے نے اس منصوبے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی کششِ ثقل والے خلائی اسٹیشن ہمیں خلا میں پہلے سے کہیں زیادہ دور اور گہرائی تک جانے کا تاریخی موقع فراہم کریں گے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ خلا بازوں کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ مائیکرو گریویٹی کی وجہ سے ان کی ہڈیاں تیزی سے کمزور اور پٹھے سکڑنے لگتے ہیں، لیکن اگر خلائی اسٹیشن میں زمین جیسا مصنوعی ماحول پیدا کر لیا جائے تو انسان بالکل اسی طرح صحت مند رہ سکتے ہیں جیسے زمین پر ہوتے ہیں۔ ٹام شیلے کے مطابق، سائنسی نظریات اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ اس ماحول میں انسان زیادہ عرصے تک خلا میں محفوظ رہ سکیں گے اور انہوں نے زور دیا کہ بنیادی طور پر سائنس دانوں کا اصل کام بھی یہی ہے کہ وہ خلا میں انسانوں کو زندہ اور محفوظ رکھیں۔