LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ہمارے اثاثوں کو نشانہ بنایا تو امریکی اثاثے بھی محفوظ نہیں رہیں گے: ایران کا دو ٹوک مؤقف آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مئی کے بعد کم ترین سطح پر آگئی امریکی معاشی جنگ صرف ایران نہیں پوری عالمی برادری کیخلاف ہے: اسماعیل بقائی برنہم اور ٹرمپ کا روس یوکرین جنگ بندی کی کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق عوامی ریفرنڈم کسی وزیر کے بیان سے نہیں ہوگا: رانا ثنا اللہ پی ٹی آئی کے احتجاج و لانگ مارچ کیخلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر نئے صوبے بننے چاہئیں، باؤنڈری کا تعین عوام کرے گی: کیپٹن (ر) صفدر عوام پر مہنگائی کا نیا وار! پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ دھرنے اپنی ذات نہیں، عوامی حقوق کے لیے دے رہے ہیں: حافظ نعیم الرحمان اسحاق ڈار کا کویتی ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ، علاقائی صورتحال پر گفتگو حوثیوں کا 24 گھنٹوں میں سعودی عرب کا تیسرا ڈرون مار گرانے کا دعویٰ اسرائیلی اشتعال انگیزی سے شروع جنگ کی قیمت پوری دنیا ادا کر رہی ہے: اردوان امریکی بحری جہازوں کیلئے خطے میں کوئی جگہ محفوظ نہیں رہے گی: ایران امریکی کوریڈور سے گزرنا مشکل، بحری جہاز ایران کے مقررہ راستوں سے گزریں: پاسداران انقلاب جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان پٹرولیم لیوی کے معاملے پر مذاکرات کا آغاز

امریکا سفارتکاری کے دوران بھی ایران پر نئے حملوں کی تیاری کر رہا ہے: امریکی ٹی وی

Web Desk

23 May 2026

سفارتی سطح پر جاری تمام تر کوششوں کے باوجود امریکا نے ایران پر نئے حملوں کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ امریکی ٹی وی ‘سی بی ایس نیوز’ نے منصوبہ بندی سے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کے خلاف نئی عسکری کارروائی کے لیے ہوم ورک مکمل کر رہی ہے، تاہم اس حوالے سے ابھی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ وہ حکومتی مصروفیات کے باعث اپنے بیٹے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر کی شادی میں شرکت نہیں کر سکیں گے۔ صدر ٹرمپ اپنا ویک اینڈ نیو جرسی میں واقع اپنے گولف ریزورٹ پر گزارنے والے تھے، لیکن اب وہ ہنگامی طور پر وائٹ ہاؤس واپس پہنچ رہے ہیں۔

دوسری جانب، انٹیلی جنس اور عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکنہ حملوں اور سیکیورٹی خطرات کے پیشِ نظر امریکی فوج اور انٹیلی جنس کمیونٹی کے متعدد اعلیٰ حکام نے اپنے تعطیلات کے منصوبے منسوخ کر دیے ہیں۔ دفاعی حکام اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں ممکنہ ایرانی ردعمل کے خدشات اور خطے میں امریکی فوجی موجودگی کو کم کرنے کی پالیسی کے تحت افواج کے جزوی انخلا کے ساتھ ساتھ بیرونِ ملک اڈوں پر ‘اسٹینڈ بائی’ (مستعد) فوجیوں کی فہرستوں کو اپ ڈیٹ کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ رواں سال اپریل کے اوائل میں ہونے والی عارضی جنگ بندی کے بعد سے دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر براہِ راست حملوں سے گریز کیا تھا تاکہ بالواسطہ مذاکرات کو موقع مل سکے۔ تاہم، وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے امریکی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کی ‘ریڈ لائنز’ بالکل واضح ہیں؛ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت دی جائے گی اور نہ ہی وہ اپنی افزودہ یورینیم برقرار رکھ سکتا ہے۔